ٹرمپ میری نہیں بلکہ اپنی مقبولیت کی فکر کریں:جورجیا میلونی

واشنگٹن/روم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کے درمیان سفارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں، جس کے بعد امریکا اور اٹلی کے تعلقات میں کشیدگی کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ حالیہ جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران جورجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے بار بار درخواست کی تھی اور انہوں نے صرف ہمدردی کے باعث اس کی اجازت دی۔ٹرمپ کے اس بیان پر اطالوی وزیر اعظم نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔ میلونی نے کہا کہ ایسی باتیں حقیقت کے منافی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میلونی نے متعدد مرتبہ تصویر کے لیے درخواست کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی حمایت نہیں کی اور اب امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کامیابی کے بعد میلونی دوبارہ دوستی قائم کرنا چاہتی ہیں تاکہ اندرونِ ملک اپنی سیاسی مقبولیت میں اضافہ کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اٹلی نے ایران تنازع کے دوران امریکی فوج کو بعض فوجی سہولیات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔



