تعزیت !

گو کہ ہم امریکہ میں رہتے ہیں مگر دل پاکستان کے لئے ہی دھڑکتا ہے،سو ساری تحریریں پاکستان کے نام،مگر کالم نگار بھی ایک انسان ہے کبھی کبھی اپنی جانب لوٹ آتا ہے،معاملات دل کے ہوںتو دل ہی ان معاملات کو اپنے دامن میں بھر لیتا ہے،دل کی عجب سرشت ہے اپنے معاملات کو ذہن کے سپرد نہیں کرتا،یہ دل کی ہی قلم رُو ہوتی ہے اس کی کوئی حدود نہیں ہوتیں،اس سلطنت میں دل ہی حکمران دل ہی رعایا،دل پر دل کا ہی حکم چلتا ہے یہاں سارے رابطے،سارے رشتے محبت کے تابع ،سارے تعلق محبت کے تعلق، دل کی ساری خوشیاں ساری غمی محبت کے گرد ہی گھومتی ہے،دل مسرور ہو تو اس خوشی میں بدن کا انگ انگ شامل ہو جاتا ہے،دل کو چوٹ لگے تو بدن بھی بوجھل،سارے اعضاء مضمحل،کبھی آنسو آنکھ سے ٹپکتے ہیں کبھی آنسو دل کے اندر ہی گرتے ہیں،یہ کرب کی کیفیت ہوتی ہے
یہ کیفیت ایک صاحبِ دل کی ہوتی ہے اہلِ قلم درد کو دل کی ہر دیوار پر لکھ دیتے ہیں،عجیب معاملہ ہے کہ غم کی کیفیات بیان نہیں کی جا سکتیں،شائد دل کو بھی اس کا ادراک ہوتا ہے سو پورا دل درد بن جاتا ہے دل نہیں جانتا کہ درد کی اشاعت کیسے ہو، لے دے کہ اپنا بوجھ جسم پر منتقل کر دیتا ہے جسم بیچارہ بھی کیا کرے درد واپس کر دیتا ہے،دل کو بس یہ ہوتا کہ درد آنکھوں سے ٹپکتا رہتا ہے،کبھی کبھی انتہائے غم میں گریہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ آنکھوں سے ریت بہنےلگتی ہے،کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے درد اتنا بڑھ جائے کہ انسان کو سکتہ ہو جائے اور وہ خالی خالی نظروں سے در و دیوار کو تکتا رہے،بصارتوں اور سماعتوںپر پہرے بیٹھ جائیں اور ما فیہا کی خبر تک نہ رہے،سو یہ درد کی معروف کیفیات ہیںمگر کچھ کیفیات ان کہی ان دیکھی بھی ہوتی ہیں کچھ ایسی کہ بس محسوس ہی کیا جا سکتا ہے،یہ تب ہی ہوتا ہے جب تعلق ٹوٹتا ہے،دل کا تو سارا اثاثہ ہی تعلق ہوتا ہے،تعلق ٹوٹے تو ذہن تو خساروں کا حساب کرنے لگتا ہے،مگر تعلق ٹوٹے تو جہاں دل گریہ کرتا ہے وہاں وہ رُوح کو بھی اس سینہ کوبی میں شامل کرلیتا ہے،صوفیوں کے نزدیک روح دل سے جدا نہیں ہوتی دل زخمی ہو تو رُوح بھی لہو لہان، سو دل کا ماتم جاری رہتا ہے دھک دھک کی آواز سینہ کوبی ہی تو ہےزخمی رُوح ایک طرف اپنے زخم ہرے رکھتی ہے تو دوسری طرف دل کو بے چین رکھتی ہے،دل کا معاملہ یہ ہے جب بھی دل کی طرف لوٹیں وہ ہاتھ پر ملال رکھ دیتا ہے،اب دل کی اس عادت کو کون بدلے،صاحبانِ محبت کی ساری کائنات ہی ان کا دل ہوتی ہے منہ سے لفظ بعد میں نکلتا ہے دل سے مشورہ پہلے ہوتا ہے،کہا جاتا ہے کہ موت برحق ہے یا یہ کہ ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھناہے بین السطور لوگوں کو یاد دلانا ہوتا ہے کہ آخر کار موت آنی ہے، اور تم دنیا چھوڑ کر چلے جاؤ گے،میری ایک عزیزہ تھیں ان کے سامنے جب بھی موت کا ذکر ہوتاوہ اپنی نفلی عبادات میں اضافہ کر دیتیں،تسبیح تیزی سے گھومنے لگتی اور وظائف کا ورد بڑھ جاتا تھا، اکثر لوگوں کو اسی کیفیت سے گزرتے دیکھا، مگر موت کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ کسی کی موت کے بعد اس کے لواحقین پر کیا گزرتی ہےکسی کی جدائی کا اثر اس کے پسماند گان پر کیا ہوتا ہے، وہ کس اذیت سے گزرتے ہیں،یہ مشاہدہ کرنا اور اس بارے سوچنا بھی اذیت ناک ہے،میرے والد گرامی کا جب انتقال ہوا تو گھر میں تعزیت کرنے والوں کی بھیڑ لگ گئی میں گھر سے باہر آگیا، گرمیوں کے دن تھے دھوپ تیز تھی اس دھوپ میں ایسا لگا کہ دھوپ کی تپش کچھ زیادہ ہے ۔دل نے کہا دھوپ کی تپش زیادہ کیوں نہ ہوگی وہ سایہ جو تمہارے اور سورج کے درمیان تھا وہ نہیں رہا، دل کی یہ بات سن لی مگر کسی سے کچھ کہہ نہ سکا،کیا کہتا،بات یہ ہے کہ کسی عزیز کی موت سے آپ کا تعلق اس سے ہمیشہ کے لئے منقطع ہو جاتا ہے،وہ تعلق جو کبھی تھا اب نہ رہا وہی تڑپاتا ہے،یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ تمام رشتے آپ کو بنے بنائے ملتے ہیں۔اولاد کا ماں باپ سے رشتہ،ماں باپ کا اولاد سے رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ growکرتا ہے اسی لئے رشتوں میں ایک تعلق بن جاتا ہے عرض کیا نا کہ دیگر رشتے بنے بنائے ملتے ہیںان سے تعلق کبھی کبھار ہی بنتا ہے مگر والدین سے جو رشتہ ہوتا ہے وہ مضبوط تعلق بن جاتا ہے،یہ رفتہ رفتہ بنتا ہے اور رفتہ رفتہ مضبوط ہوتا ہے یہ طاقت دیگر رشتوں میں کم ہوتی ہے یا نہیں ہوتی،والدین موت سے ہم کنار ہوں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے اندر کوئی چیز ٹوٹ گئی ہےمگر یہ رشتہ جو تعلق جیسا ہوتا ہے اس کی بھی ایک نہج ہوتی ہے اس کے علاوہ ایک اور رشتہ ہے جس کو تعلق میں تبدیل کرنا ہوتا ہے،وہ بیوی اور شوہرکا تعلق ہے ایک تعلق جو دو اجنبی لوگوں کے درمیان ایک ساتھ رہنے،دکھ درد بانٹنے، شک اور اعتماد کے مدارج سے گزرنے،لڑنے جھگڑنے، ایک دوسرے کو درگزر کرنے،روٹھنے اور منانے کی منزلوں سے گزرتا ہے اور ایک مضبوط bondingبناتا ہے،عجیب تعلق ہے یہ کہ اس میں زن و شوہر وہ ساری باتیںshare کرتے ہیں جو کسی بھی فرد سے shareنہیں کرتے،اس تعلق کی نوعیت person to personبدل جاتی ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جنس ہے جو دونوں کو باندھ کر رکھتی ہے مگر کچھ اس بات سے اختلاف بھی کرتے ہیںان کا خیال ہے کہ یہ باہمی sacrificeہے جو domestic lifeکو حسین اور مضبوط بناتی ہے۔مشرقی معاشرے میں عورت کا یہ مان کہ مرد اس کا protectorہے مرد کو بہت پُر اعتماد بنا دیتا ہے،مغربی معاشرے پر نظر ڈالیں تو مرد کے لئے عورت کا یہ complimentاہم ہوتا ہے کہ وہ بہت اچھا providerہے مغربی معاشرے میں protectionکی ذمہ داری عورت اپنے کاندھوں پر بھی اٹھا لیتی ہے۔
عتیق صدیقی سے شناسائی سے آشنائی کا سفر کب طے ہوا پتہ ہی نہیں چلا،پھر عتیق صدیقی کالم لکھنے لگا،یہ رابطہ عتیق کو پڑھنے سے مضبوط ہوتا چلا گیا،اس کا رکھ رکھاؤ اور وقار اپنی اورکھینچتا رہا، پھر محسوس ہوا کہ وہ میری ضرورت ہے،نیویارک میں ایسے کالم کوئی لکھ ہی نہیں رہا تھا،ایسے کالم پاکستان میں بھی نہیں لکھے جا رہے تھے،کسی نے کہا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ،مگر عتیق سیاست پر درد مندی سے لکھتا رہا،وہ افغان جنگ میں معذور ہو جانےوالے افغان بچوں پر روتا بھی اور، رولاتا بھی رہا،کچھ دن قبل عتیق صدیقی کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔مرحومہ پچھلے سال سے علیل تھیں،پچھلے سال جب عتیق اپنی اہلیہ کے ساتھ حجاز مقدس گئے تو ان کی اہلیہ کو وہاں heart attackہوا تھا،اس حالت میں سفر ممکن نہ تھاعتیق نے ہوائی جہاز کے سفر کے لئے خصوصی انتظامات کئے میڈیکل ٹیم hire کی اور اس طرح عتیق نے اپنی بیمار اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا،میں زیادہ تفضیلات تو نہیں جانتا مگر اتنا پتہ ہے کہ مسز عتیق مسلسل بیماری سے لڑتی رہیںاور عتیق نے بھی ان کی تیمارداری میں کوئی کسر نہ چھڑی،بیمار انسان کی میڈیکل کنڈیشنز تعین کر دیتی ہیں کی زندگی اور موت کا فاصلہ کتنا رہ گیا مغرب میں ڈاکٹرز کہہ دیتے ہیں کہ آپ اب اپنے مریض کے ساتھ وقت گزار لیںاور ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ اب مریض کے لئے دعا کریں،دونوں ہی باتیں کلیجہ چیر دیتی ہیں،یہی وہ وقت ہے تعلق کے ت، ع، ل، اور ق الگ الگ ہو جاتے ہیںعتیق اور مسز عتیق کا تعلق تقریباً سینتالیس سال رہا، پھر یہ تعلق بکھر گیامیں جنازے میں شرکت نہ کر سکا،دکھ رہا،سوچتا رہا عتیق صدیقی سے ان کی اہلیہ کی موت پر تعزیت کر لوں،تعزیت کیا کرتا ،کیا یہ کہتا کہ اللہ کو یہی منظور تھا کیا یہ کہتا کہ صبر کرو،سب رسمی جملے، سب رسمی باتیں،پچھلے دنوں عتیق کو فون کیا ایک بکھرے بکھرے ٹوٹے ٹوٹے انسان سے بات ہوئی،الفاظ سب کے سب دکھ سے بھرے ہوئے مگر لہجہ بہت پُر سکون،دکھ کی کہانی کیا سناتے،اپنے بکھرنے کی داستان کیا کہتے،بتاتے رہے کہ مرحومہ اپنے آخری ایام میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں تھیںاور اصرار کر رہی تھیں کہ مجھے گھر لے جاؤ،مجھے نہیں معلوم عتیق نے وہ جملہ کیسے ادا کیا ہوگا کہ وہ زندہ رہنا چاہتی تھیں، میںکانپ ہی گیا،وہ انسان جو زندہ رہنا چاہے جس کو زندگی سے پیار ہو،موت کے ہاتھ ٹوٹ نہ جائیں ایسے انسان سے زندگی چھینتے ہوئے،میں اس شخص سے کافی دیر بات کرتا رہا جس کا سینتالیس کا اثاثہ آناً فاناً لٹ چکا ہو، جس کے پاس سینتالیس سالوں کی یادیں ہوں جوہر آن ستاتی ہوں رُلاتی ہوں مگر میں نے یہ دیکھا کہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے لئے ،دکھ چھپانے کے لئے عتیق مجھ سے غزہ کے بچوں کے بہیمانہ قتل کی بات کرتے رہے،غزہ کے genocideکا بھی زکر کیا،میں یہ سنتا رہا اور مجھ کافر سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ عتیق سے کہتا کہ عتیق میرا کاندھا حاضر ہے میرے کاندھے پر سر رکھ لو اور جی بھر کر رو لو،عتیق صدیقی میں بہت شرمندہ ہوں،مجھے تعزیت کرنی نہیں آتی، تعزیت کے لئے لفظ ہی نہیں ملتے،مگر جانتا ہوں دُکھ کیا ہوتا ہے اور دُکھ سہنا کیا ہوتا ہے ۔



