Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

امن معاہدے کے خدو خال!

پیر کے دن ایران کا وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچا تو اسکے چند گھنٹے بعد امریکی طیاروں نے جنوبی ایران میں بندر عباس کے ساحلی علاقے کے قریب ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے اڈے پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے پیر کی رات بیان دیا کہ یہ حملہ دفاعی نوعیت کا تھا اور اسکا مقصد اپنی فوج کو ایران کے ممکنہ حملوں سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اسکی دوسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ایران کی سپیڈ بوٹس آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھا رہی تھیں۔پیر ہی کے دن اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اسے کوئی ایسا امن معاہدہ قبول نہیں ہو گا جس میں لبنان میں مستقل جنگ بندی کی یقین دہانی شامل نہ ہو۔ اسرائیل ایران کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی سختی سے مخالفت کر رہا ہے اس لیے قطر کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حج کے موقع پر امت مسلمہ کو اتحاد کی تلقین کرتے ہوے کہا ہے کہ ’’ خلیجی طاقتیں اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں رہیں گی اور امریکہ کو اس خطے میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل نہیں ہوں گی۔ ‘‘ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں صیہونی نظام اختتامی مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان معاندانہ بیانات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود کئی سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کی تعریف صدر ٹرمپ اکثر اپنے بیانات میں کرتے رہتے ہیں مگر ان تمام کاوشوں کے باوجود یہ بیل منڈھے چڑھتے ہوئے نظر نہیں آ رہی۔ وجہ یہی ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اپنے مطالبات منوانے پر بضد ہیں اور بنیادی مسائل پر لچک دکھانے پر آ مادہ نہیں ہیں۔ پیر کی شام صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ’’ جو معاہدہ بھی ہوا وہ شاندار اور معنی خیز ہو گااور یا پھر کوئی معاہدہ بھی نہیں ہو گا‘‘ اسی بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ایران یا تو افزودہ یو رینیم کے ذخائر امریکہ کے حوالے کر دے گا یا پھر وہ انہیں کسی غیر جانبدار ثالث کی موجودگی میں ضائع کر دے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے کچھ پہلے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی یہ کہہ چکے تھے ایران اپنے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ فی الحال بات چیت نہیں کرے گا۔ جس طرح ایران کے جوہری پروگرام پر فریقین کسی فیصلے پر نہیں پہنچ رہے اسی طرح ایران کی میزائل انڈسٹری کے بارے میں بھی متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران کئی مرتبہ کہہ چکا ہے کہ اس کے میزائل کسی بھی امن معاہدے کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوںگے۔ اسکے برعکس امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران کے میزائل بنانے کی استطاعت کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے کہ امریکہ کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ ہر حال میں انکی بیخ کنی کرنا چاہتی ہے۔ آبنائے ہرمز پر بھی فریقین کے مؤقف میں بعد المشرقین پایا جاتا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اس آبی راستے سے گذرنے والے جہازوں سے کوئی ٹرانزٹ فیس نہیں لینا چاہتا لیکن اس گذر گاہ کی حفاظت پر جو اخراجات اٹھ رہے ہیں ایران انکی وصولی کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس بابت گذشتہ ہفتے امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ” Any Tolling system in the strait would be unacceptable and render an agreement unfeasible” ان بنیادی نوعیت کے اختلافات کے ہوتے ہوئے کسی امن معاہدے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ آٹھ اپریل کی جنگ بندی کے بعد اب تک سفارتکاری توہو رہی ہے مگر کسی معاہدے کا فریم ورک تیار نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ کو ان مذاکرات کی اس لیے ضرورت ہے کہ وہ انکی تشہیر کر کے امریکہ میں گیس کی بڑھتی ہوئی قیمت کو کنٹرول کرنے کے علاوہ Interest Rates اور سٹاک ایکسچینج کو بھی قابو میں رکھتے ہیں۔ ایران امریکہ پر بد اعتمادی کا ظہار کرنے کے باوجود چین کے دبائو کی وجہ سے بات چیت میں شرکت کر رہا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود بعض دفاعی ماہرین ایک ایسے آپشن کی بات کر رہے ہیںجو صدر ٹرمپ کا آزمایا ہوا ہے اور جس کی مدد سے ایک درمیانی اور کمزور قسم کے امن معاہدے کی صورت گری کی جا سکتی ہے۔ امریکہ یہ آپشن غزہ میں استعمال کر چکا ہے اور ایک مختصر مدت کے لیے یہ کار آمد بھی ثابت ہو اہے۔
غزہ امن معاہدے میں جو طے ہوا تھا اس پر ابھی تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ اسرائیل جنگ بندی کے باوجود آئے روز بمباری کر رہا ہے۔ بنجامن نتن یاہو کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ حماس ہتھیار پھینک دے مگر یہ ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق حماس نہ صرف اپنے زیرِ اثر غزہ کے نصف حصے پر گرفت مضبوط کر رہی ہے بلکہ وہ ایک نئی جنگ کی تیاری میں بھی مصروف ہے۔ اسرائیل کی فوج ابھی تک غزہ کے نصف حصے پر قابض ہے۔ جس فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکنو کریٹس نے غزہ کے انتظامات سنبھالنے تھے اسکا نام و نشان نظر نہیں آ رہا۔ غزہ کی جس تعمیر نو کا وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی قصۂ پارینہ ہو چکی ہے۔ دو ملین فلسطینی دو سال کی وحشتناک بمباری کے بعد منہدم شدہ عمارتوں کے ملبے میں کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس بھی غائب ہے لیکن کہنے کو جنگ بند ہو چکی ہے۔ اب ایران جنگ بھی اسی قسم کے کسی نازک ‘ کمزور اور مختصر المیعاد معاہدے کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ اس ممکنہ معاہدے میں بھی بنیادی نوعیت کے تنازعات لاینحل رہیں گے اور فروعی قسم کے مسائل کو طے کر کے اس جنگ کو قالین کے نیچے سرکا دیا جائے گا۔ ایک شدید معاشی بحران کو مزید گمبھیر ہونے سے بچانے کے لیے پہلے عالمی اشرافیہ اور پھر افتادگان خاک کسی بھی امن معاہدے کو قبول کر لیں گے۔ گندم اگر بہم نہ رسد بھس غنیمت است۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button