آبنائے ہرمز ایران کی رضامندی کے بغیر نہیں کھولی جائے گی، تہران کا دوٹوک اعلان

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی رضامندی کے بغیر نہیں کھولی جائے گی۔ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران نے امریکا کو یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنی دھمکیوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی عہدیدار نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی رضامندی ضروری ہوگی۔ابراہیم عزیزی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث شدید توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور اس کے ذریعے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے اس راستے کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں اور تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔



