مکہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے نئے دور کی بنیاد بن سکتا ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور (آصف اقبال، اردو ٹائمز یو ایس اے) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے نئے دور کی بنیاد بن سکتا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی جیومیٹری‘‘ کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط اداروں، مؤثر قانون سازی، اچھی حکمرانی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ اور روشن بنانے کے لیے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے مؤثر اور دوررس حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو اپنی قومی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات، عوامی خدمت کے نظام میں بہتری اور عملی اقدامات کے ذریعے ہی پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل صرف مسائل کی نشاندہی میں نہیں بلکہ ان کے عملی، مؤثر اور پائیدار حل میں ہے۔ملک محمد احمد خان نے مکہ مکرمہ معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کے عزم کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ سے اٹھنے والا پیغام صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ امن، استحکام، باہمی احترام اور علاقائی تعاون کا پیغام بھی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی تعلقات کو نئی اقتصادی، تجارتی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔سپیکر نے کہا کہ پاکستان کو اس اہم شراکت داری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاع کے ساتھ ساتھ معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارے، مؤثر قانون سازی، اچھی حکمرانی اور سیاسی استحکام کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیادی شرائط ہیں۔ پاکستان کو قومی مفادات کے تحفظ اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور اجتماعی سوچ کو فروغ دینا ہوگا۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کسی ایک ادارے یا سیاسی جماعت کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام ریاستی اداروں، سیاسی قوتوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قومی ترقی کے لیے اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ قومی اہداف کا تعین کیا جائے اور پالیسیوں میں تسلسل، اداروں کی مضبوطی اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اپنے قومی مفادات کا مؤثر تحفظ کرتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کی جانب آگے بڑھ سکے۔



