Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

پاکستان کو انسانی وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ہوگا: احسن اقبال

لاہور ( آصف اقبال ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ تعلیم، تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی سے ہو کر گزرتا ہے، جبکہ ملک کے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر انسانی وسائل کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔یونیورسٹی آف لاہور میں ’’مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی ساخت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو جامعات اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنا کر علم اور پیداوار پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو محض فوجی انتظام کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ جامعات، تحقیق، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور معاشی تعاون کے وسیع تر فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ میں طے پانے والے معاہدے کی اہمیت بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔احسن اقبال نے کہا کہ سعودی عرب کے معاشی وسائل اور سرمایہ کاری، ترکیہ کی صنعتی و دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کے انسانی سرمائے کو یکجا کرکے بڑے معاشی اور تزویراتی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تینوں ممالک مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، توانائی، غذائی تحفظ، اہم معدنیات اور مشترکہ دفاعی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جغرافیائی سیاست کو جغرافیائی معیشت سے جوڑنا ہوگا اور اس کا ہدف تزویراتی خودمختاری ہونا چاہیے، تزویراتی تنہائی نہیں۔ پاکستان سب کے ساتھ دوستی اور کسی پر انحصار نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ صرف فوجی طاقت کسی ملک کو مضبوط نہیں بناتی، کمزور معیشت، درآمدی ٹیکنالوجی پر انحصار، غیر مؤثر ادارے اور ناقص تعلیمی نظام بھی قومی سلامتی کو کمزور کر سکتے ہیں۔ قومی طاقت کی بنیاد معاشی پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی، انسانی سرمایہ اور سماجی ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی اگلی بڑی قومی جدوجہد لڑاکا طیاروں کے بجائے برآمدات، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہوگی، جو دراصل ’’ترقی کی جنگ‘‘ ہے۔ ملک کو سائنس دان، انجینئرز، کاروباری افراد، ہنرمند کارکن اور برآمد کنندگان تیار کرکے اپنی نوجوان آبادی کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر اور 2047 تک تین کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور انہیں عالمی معیار کی تعلیم، جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، جدید مواد اور خلائی ٹیکنالوجی عالمی مسابقت کے اہم میدان ہوں گے۔انہوں نے جامعات پر زور دیا کہ وہ قومی تبدیلی کی تجربہ گاہیں بنیں اور محققین ملک کو درپیش پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے تحقیق کریں۔احسن اقبال نے سماجی ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات اور سیاسی تقسیم نے قومی یکجہتی کو قومی سلامتی کا اہم جزو بنا دیا ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ تعمیری مکالمے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو اپنی بڑھتی ہوئی تزویراتی صلاحیتوں کو تصادم کے بجائے سفارت کاری، تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی استحکام کے لیے استعمال کرنا ہوگا، جبکہ فلسطینی عوام کے لیے انصاف کی آواز بھی مزید مضبوط بنائی جانی چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button