Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

وہ جھوٹ جو سچ بن کر چلتا رہا!

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور چودہ برس کا حساب !

دس جون دو ہزار چھبیس کی صبح جب سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ نے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس میں رحمان بھولا اور زبیر چاریہ کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کیا تو میرے ذہن میں سب سے پہلے قانون نہیں آیا، سیاست نہیں آئی، کوئی جماعت بھی نہیں آئی۔ میرے ذہن میں صرف ایک سوال آیا، ایک ایسا سوال جو سینے میں پتھر کی طرح لگتاہے: چودہ سال کون لوٹائے گا؟چودہ سال!۔ یہ الفاظ کہنے میں آسان ہیں، سننے میں بھی۔ مگر جب آپ انہیں محسوس کرنے بیٹھیں تو ان کا بوجھ ریڑھ کی ہڈی جھکا دیتا ہے۔ چودہ سال کسی کیلنڈر کے چند اوراق نہیں ہوتے۔ چودہ سال ایک بچے کے بچپن سے جوانی تک کا سفر ہوتے ہیں۔ چودہ سال ایک ماں کے اس انتظار کا نام ہے جو دروازے پر آنکھیں ٹکائے بیٹھی ہو اور ہر آہٹ پر دل دھک سے رہ جائے۔ چودہ سال ایک باپ کی اس بے بسی کا نام ہے جو اپنے بیٹے کے لیے کچھ نہ کر سکے اور یہ عجز اسے اندر ہی اندر کھاتا رہے۔ چودہ سال ایک بیوی کی اس تنہائی کا نام ہے جو نہ بیوہ ہو اور نہ سہاگن، جو درمیان کی اس سرزمین پر کھڑی ہو جہاں نہ کوئی نام ہے نہ کوئی پہچان۔ اور چودہ سال ایک خاندان کی اجتماعی سزا کا نام ہے جو بغیر جرم کے کاٹی گئی۔ملزم رحمان بھولا کو انٹرپول کی مدد سے ایف آئی اے نے بینکاک سے گرفتار کیا تھا اور محمد زبیر عرف چریا کو سعودی عرب سے۔ اس وقت دونوں کا تعلق ایم کیو ایم سے بتایا گیا تھا۔ ان دونوں نے یہ چودہ برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے۔ آج وہ آزاد ہیں۔ مگر آزادی کا یہ لمحہ جشن کیوں نہیں لگتا؟ کیونکہ آزادی اس وقت جشن ہوتی ہے جب وہ وقت پر ملے۔ دیر سے ملی آزادی ایک طرح کا غم ہوتی ہے، ایک ایسا غم جس میں خوشی کا رنگ بھی ملا ہو مگر درد اتنا گہرا ہو کہ خوشی ڈوب جائے۔اس کہانی کا آغاز گیارہ ستمبر دو ہزار بارہ کو ہوا۔ کراچی کی علی انٹرپرائزز فیکٹری میں آگ لگی۔ یہ آگ نہیں تھی، یہ ایک قیامت تھی جو زمین پر اتری۔ دو سو انسٹھ مزدور زندہ جل گئے۔ وہ دروازے پیٹتے رہے۔ انہوں نے کھڑکیوں سے ہاتھ نکال کر پکارا۔ انہوں نے مدد مانگی۔ مگر آگ ان کی آوازوں سے تیز تھی اور وقت ان کی سانسوں سے کم تھا۔ بعد میں جب راکھ ٹھنڈی ہوئی اور سچائی کی تہیں کھلیں تو پتہ چلا کہ فیکٹری میں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، فائر ایگزٹس مناسب نہیں تھے، کھڑکیوں پر سریے لگے تھے اور انسانی جانوں سے زیادہ سامان کی حفاظت کو ترجیح دی گئی تھی۔ مگر پاکستان میں بعض اوقات حادثے اپنی فطری وجوہات سے نہیں بلکہ سیاسی ضرورتوں کے مطابق سمجھے جاتے ہیں۔آگ ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ بیانیہ تیار ہو گیا۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر وہ عدالتیں سج گئیں جن کے فیصلے تحقیقات سے پہلے آ جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم، بھتہ خوری، دہشت گردی۔ یہ تین الفاظ ایک منتر کی طرح دہرائے جانے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سانحے کی آگ میں ایک سیاسی بیانیے کی روٹی پکنے لگی۔ رحمان بھولا اور زبیر چاریہ کو اٹھایا گیا۔ ان پر وہ کچھ کیا گیا جسے سرکاری زبان میں تفتیش اور عام زبان میں تشدد کہتے ہیں۔ پہلے سے لکھے ہوئے بیانات پر دستخط کروائے گئے۔ اعترافات سامنے آئے۔ مقدمات بنے۔ سزائیں سنائی گئیں۔ اور برسوں تک یہی بیانیہ سچ کی حیثیت سے گردش کرتا رہا، میڈیا کی گلیوں میں، عوامی بیٹھکوں میں، تاریخ کے حاشیوں میں۔مگر وقت کا انصاف عجیب گواہ ہوتا ہے۔ وہ طاقتور سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ ٹی وی پروگراموں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ وہ آخرکار ثبوت مانگتا ہے اور ثبوت نہ ہو تو سوال مانگتا ہے۔ جب یہی مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا تو عدالت نے کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ثابت نہیں کر سکا۔ سپریم کورٹ میں ملزمان کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیہ فیکٹری سانحے کی ابتدائی ایف آئی آر فیکٹری مالکان کی غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات اور بند فائر ایگزٹس پر مبنی تھی، تاہم تین سال بعد سارا رخ ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے وکیل فیصل صدیقی نے بھی عدالت میں مؤقف اپنایا کہ یہ بنیادی طور پر مجرمانہ غفلت کا مقدمہ تھا، نہ کہ بھتہ خوری یا دہشت گردی کا۔ ان کے مطابق فیکٹری میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے اور اصل ذمہ داری مالکان پر عائد ہوتی تھی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ رحمان بھولا کا کوئی اعترافی بیان ریکارڈ پر موجود نہیں تھا، بنیادی شواہد قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے تھے اور ملزمان بے قصور تھے۔ایک جملے میں چودہ سال کا بیانیہ زمین بوس ہو گیا۔مگر جو چیز مجھے سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے وہ یہ نہیں کہ دو افراد بَری ہوئے۔ جو سوال مجھے رات کو بھی نہیں سونے دیتا وہ یہ ہے کہ اگر وہ بے گناہ تھے تو پھر ان چودہ برسوں کا حساب کون دے گا؟ اور متاثرین کے خاندانوں کا کیا، وہ جو آج بھی انصاف کے منتظر ہیں، کیا انہیں کبھی وہ انصاف ملے گا جس کے وہ حقدار ہیں؟ یہ سوال میرے لیے نیا نہیں تھا۔ میں نے اسے اپنی صحافتی زندگی میں بار بار جنم لیتے دیکھا ہے، مختلف چہروں کے ساتھ، مختلف ناموں کے ساتھ، مگر ایک ہی روح کے ساتھ۔اکتوبر انیس سو اٹھانوے کی بات ہے۔ کراچی کی معروف شخصیت حکیم محمد سعید قتل ہوئے۔ ابھی گولیوں کی آواز فضا میں گونج رہی تھی، ابھی لاش بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ الزام تیار ہو گیا۔ ایم کیو ایم۔ گرفتاریاں ہوئیں، تشدد ہوا، ایک کنگرو عدالت سجی اور کارکنوں کو سزائے موت سنا دی گئی۔ پھر 2001 میں سندھ ہائی کورٹ نے تمام نو ملزمان کو بری کیا۔ حکومت سندھ اپیل میں گئی، جیسے شاید اسے یقین ہو کہ عدالت نے کوئی غلطی کی ہے۔ اور پھر 2014 میں سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں وہ الفاظ لکھے جو پتھر پر لکیر کی طرح آج بھی نقش ہیں: تفتیشی ادارے نے شواہد گھڑنے کا سہارا لیا۔سولہ سال۔ اور پھر وہی سوال: کس نے معافی مانگی؟ کس نے ان خاندانوں کے دروازے پر جا کر کہا کہ ہم غلط تھے؟ کون سا تفتیشی افسر قانون کے کٹہرے میں آیا؟ کون سا اینکر اسکرین پر آیا اور اس نے کہا کہ ہم نے غلط کیا، کہ ہم نے بے گناہ کارکنوں کا میڈیا ٹرائل کر کے انہیں مجرم بنا کر پیش کیا؟ جواب وہی ہے جو ہمیشہ ملتا ہے: خاموشی۔ وہ خاموشی جو اکثر ایسے مواقع پر اترتی ہے، جو نہ شرم ہے نہ پچھتاوا، بس ایک بے حسی ہے جس نے اس معاشرے کی جلد پر ضخیم پرت چڑھا لی ہے۔اور جناح پور۔ 1992 میں آپریشن کلین اپ شروع ہوا۔ بتایا گیا کہ نقشے برآمد ہوئے ہیں، کہ ایم کیو ایم کراچی سے ٹھٹہ تک ایک الگ ریاست بنانا چاہتی ہے، کہ غداری ثابت ہو چکی ہے۔ اس بیانیے کی آڑ میں شہر میں فوج اتری، دروازے ٹوٹے، لوگ اٹھائے گئے، گھر اجڑے، بستیاں خوف میں ڈوب گئیں۔ اس الزام نے صرف سیاسی نتائج پیدا نہیں کیے، اس نے ہزاروں خاندانوں کی تقدیر بدل دی۔ سترہ سال تک یہ الزام پاکستان کی سیاسی فضا میں تیرتا رہا جیسے کوئی آلودہ بادل ہو جو چھٹتا نہیں۔ پھر 2009 میں سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نصیر اختر اور سابق ڈی جی انٹیلیجنس بیورو بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز احمد نے ٹیلی ویژن پر کہا کہ جناح پور کا الزام بے بنیاد تھا، نقشے جعلی تھے، کسی ایم کیو ایم دفتر سے کچھ برآمد نہیں ہوا تھا۔سترہ برس بعد سچ آیا۔ مگر وہ سچ جو سترہ برس بعد آئے، وہ صرف ایک خبر ہوتا ہے، انصاف نہیں۔ وہ کسی کی قبر سے اسے واپس نہیں لا سکتا، کسی کے زخم مندمل نہیں کر سکتا، کسی کے کھوئے ہوئے سال واپس نہیں دے سکتا۔ جو ہونا تھا ہو چکا تھا اور وقت کے دریا میں بہہ کر دور نکل گیا تھا۔امجد صابری شہید ہوئے تو بیانیہ پہلے سے تیار تھا۔ بعد میں تحقیقات سے تحریک طالبان سے منسلک افراد نکلے۔ علی رضا عابدی قتل ہوئے تو الزام پہلے سے طے تھا۔ ملزم لیاری کے گینگ سے نکلے اور سندھ ہائی کورٹ نے خود 2026 میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے سزا یافتہ افراد کو رہا کر دیا۔یہ تین الگ الگ واقعات نہیں ہیں۔ یہ ایک ذہنیت ہے جو مختلف لباسوں میں دہراتی ہے، ایک طریقۂ کار ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، ایک سیاسی روایت ہے جس کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ ہر بار اکھاڑنے کی کوشش میں صرف شاخیں ٹوٹتی ہیں۔ واقعہ ہوتا ہے، الزام لگتا ہے، میڈیا ٹرائل ہوتا ہے، گرفتاریاں ہوتی ہیں، تشدد ہوتا ہے، لوگ برسوں جیلوں میں پڑے رہتے ہیں اور پھر کبھی کسی عدالت کے کسی فیصلے میں کہیں یہ لکھا جاتا ہے کہ شواہد ناکافی تھے، مقدمہ ثابت نہیں ہوا، معاملہ اس طرح نہیں تھا جس طرح پیش کیا گیا۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور جو کچھ بچتا ہے وہ صرف ایک لمبی خاموشی ہوتی ہے۔یہاں مجھے اپنی بات بھی صاف کہنی ہے کیونکہ صحافت میں ذاتی موقف چھپانا بھی ایک طرح کا جھوٹ ہے۔ میں خود ایم کیو ایم کا سخت ناقد رہا ہوں۔ جب نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دی جاتی تھی، جب سیاست کے ساتھ طاقت کا عنصر جڑنے لگا تھا، میں نے اس کی مخالفت کی۔ میں آج بھی تشدد کو سیاسی جدوجہد کا جائز ذریعہ نہیں سمجھتا اور کبھی نہیں سمجھوں گا۔ شاید اس دور کے حالات نے، مہاجروں کے احساسِ محرومی نے، کراچی کی تیزی سے بدلتی آبادیاتی ساخت نے اور ریاستی بے حسی نے مل کر ایک ایسے ردعمل کو جنم دیا جس نے بعد میں ایک طاقتور سیاسی تحریک کی شکل اختیار کی۔ مگر اس کے باوجود تشدد میرے نزدیک کبھی قابلِ قبول نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریر کسی جماعت کی محبت میں نہیں لکھی جا رہی۔ یہ ایک صحافی کی حیثیت سے لکھی جا رہی ہے جس نے چار دہائیوں میں بار بار ایک ہی منظر دہرایا جاتا دیکھا ہے اور جس کا ضمیر اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اسے نام دے۔کراچی اور حیدرآباد کی گلیوں میں آج بھی الطاف حسین سے محبت کی وہ خوشبو ملتی ہے جسے کوئی آپریشن، کوئی پابندی اور کوئی جلاوطنی مٹا نہیں سکی۔ اس محبت کی بنیاد اندھی عقیدت نہیں، اس کی بنیاد وہ تبدیلی ہے جو ایک تحریک نے کر کے دکھائی۔ کراچی اور حیدرآباد کو جاگیرداروں اور وڈیروں کے سیاسی تسلط سے نجات ملی، ووٹ کی اہمیت پیدا ہوئی اور ایک عام آدمی نے جانا کہ اس کا ووٹ کسی کی موروثی میراث نہیں ہے۔ اندرون سندھ کے ہمارے قوم پرست دوست کئی دہائیوں سے یہی کام کرنا چاہتے ہیں مگر وہ آج تک سندھی عوام کو پیپلز پارٹی کے سحر سے آزاد نہیں کرا سکے۔ اس کا سبب بھی دلچسپ ہے۔ وہ اپنی سیاست کا بڑا حصہ ایم کیو ایم دشمنی پر کھڑا کرتے ہیں، عوام کو ڈرایا جاتا ہے کہ اگر اُردو بولنے والے طاقتور ہو گئے تو تمہاری زمین، تمہاری زبان اور تمہاری شناخت خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہی پیپلز پارٹی کی سیاست کا بھی ستون ہے۔ میں نے تاریخ میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا کہ کسی خالص سندھی ووٹر حلقے سے اُردو یا دیگر زبان بولنے والے کو ٹکٹ دیا گیا ہو، اور اس کی وجہ سب جانتے ہیں کہ وہاں کا ووٹر ایسے امیدوار کو ووٹ نہیں دے گا۔ یہاں آ کر بھٹو کا وہ سحر بھی ٹوٹ جاتا ہے جو رنگ و نسل سے بالاتر سیاست کا دعویٰ کرتا ہے۔اُردو بولنے والوں کی جماعت کہلانے والی تنظیم نے سندھی، پشتون، پنجابی اور دیگر قومیتوں کے لوگوں کو اپنے اندر جگہ دی۔
اُردو بولنے والوں کے گڑھ سمجھے جانے والے حلقوں سے سندھی بولنے والے نثار احمد پنہور کو ٹکٹ ملا، پشتون انور خان ترین ایوان تک پہنچے، دوسرے سندھی اور پشتون رہنما صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں وزارتوں تک پہنچے۔ وہ تاثر جو سالوں سے میڈیا پر گردش کرتا رہا کہ یہ جماعت لسانی تعصب کی علمبردار ہے، عملاً غلط ثابت ہو گیا۔ مگر جھوٹ کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ بار بار دہرایا جائے تو سچ کا روپ دھار لیتا ہے اور پھر اسے بے نقاب کرنے کے لیے بہت محنت چاہیے ہوتی ہے، بہت حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔اور پھر اس تمام کہانی کا سب سے تلخ باب۔ وہ لوگ جو آج بھی لاپتہ ہیں۔ نثار احمد پنہور ہوں یا انور خان ترین، ان کے خاندانوں کے لیے سیاست نظریات کا نہیں، انتظار کا نام ہے۔ ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور ہر رات ایک پرانے غم کے ساتھ ختم۔ ہر دروازے پر دستک، ہر فون کال کی آواز، ہر نامعلوم خبر ایک امید اور ایک خوف ساتھ لے کر آتی ہے۔ ریاستیں جب اپنے شہریوں سے مکالمہ چھوڑ دیتی ہیں تو ان کے درمیان صرف خاموشی رہ جاتی ہے، اور وہ خاموشی اکثر کسی بھی سزا سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں نہ سزا کا خاتمہ ہے نہ کوئی امید، بس ایک لامتناہی انتظار ہے۔چار دہائیوں کی صحافت نے مجھے ایک سبق سکھایا ہے جسے میں نے خون کی سیاہی سے لکھی ہوئی خبروں میں پڑھا ہے، جسے میں نے ماؤں کی آنکھوں میں دیکھا ہے اور جسے میں نے بے قصور لوگوں کی بے بسی میں محسوس کیا ہے۔ جھوٹ اور سچ کی جنگ میں جھوٹ اکثر پہلے پہنچتا ہے کیونکہ اس کے پاس طاقت ہوتی ہے، وسائل ہوتے ہیں اور ذرائع ہوتے ہیں۔ سچ آہستہ چلتا ہے، وہ عدالتوں کی سیڑھیاں چڑھتا ہے، فائلوں میں دبتا ہے، برسوں انتظار کرتا ہے۔ مگر آخرکار وہ آتا ضرور ہے۔جناح پور میں سترہ سال لگے۔ حکیم محمد سعید کیس میں سولہ سال لگے۔ بلدیہ فیکٹری کیس میں چودہ سال لگ گئے۔ سچ ہر بار آیا مگر جب آیا تو اس کے ہاتھ خالی تھے۔شاید اسی لیے انصاف اور سچ ایک چیز نہیں ہیں۔ سچ دیر سے بھی مل سکتا ہے، انصاف نہیں مل سکتا۔ انصاف وہ تھا جو پہلے دن ہونا چاہیے تھا، جو اس وقت ہونا چاہیے تھا جب آگ لگی تھی، جب گولیاں چلی تھیں، جب الزامات لگائے گئے تھے، جب بیانات پر زبردستی دستخط کروائے گئے تھے۔ آج رحمان بھولا اور زبیر چاریہ جیل سے باہر آ گئے ہیں مگر ان کے چودہ سال واپس نہیں آئیں گے۔ ان کی ماؤں کے وہ آنسو واپس نہیں آئیں گے۔ ان کے بچوں کا وہ بچپن واپس نہیں آئے گا جو باپ کے بغیر گزرا۔ اور یہی وہ قرض ہے جو تاریخ کے کھاتے میں لکھا جاتا ہے اور جسے کوئی عدالتی فیصلہ، کوئی معافی نامہ اور کوئی سرکاری بیان چکا نہیں سکتا۔کچھ سوال عدالتیں حل کر دیتی ہیں۔ کچھ سوال نسلوں تک جواب مانگتے رہتے ہیں۔ ان چودہ برسوں کا سوال بھی شاید انہی سوالوں میں سے ایک ہے جو آج کی نسل سے اگلی نسل کو منتقل ہو گا اور جو اس معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتا رہے گا، اس وقت تک جب تک یہ معاشرہ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت پیداکرلے کہ ہم نے یہ کیا تھا اور ہم نے یہ کیوں ہونے دیا؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button