Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

مریم اورنگزیب نے وزیراعلیٰ پنجاب کا فلیگ شپ انٹرفیتھ ایمبیسڈرشپ پروگرام لانچ کردیا

اقلیتی طلبہ میں ایک لاکھ، 75 ہزار اور 50 ہزار روپے کے اسکالرشپس تقسیم، اقلیتی امور کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ، مذہبی آزادی اور مساوات کے عزم کا اعادہ

لاہور: ( آصف اقبال )سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے نیشنل مائنارٹی ڈے کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا فلیگ شپ انٹرفیتھ ایمبیسڈرشپ پروگرام لانچ کردیا۔

تقریب میں میٹرک کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اقلیتی طلبہ و طالبات میں ایک لاکھ، 75 ہزار اور 50 ہزار روپے کے اسکالرشپس تقسیم کیے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے اقلیتی برادریوں کے لیے نیک تمناؤں، محبت اور دعاؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو محبت، احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ دیکھ کر دلی خوشی ہو رہی ہے۔ قائد محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا واضح مؤقف ہے کہ کسی پاکستانی کو اقلیت کہہ کر الگ نہیں کیا جا سکتا، ہم سب برابر کے شہری اور پنجاب کے یکساں حقوق رکھنے والے باشندے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ اقلیتی برادریاں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے دل کی دھڑکن ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں اقلیتوں کی فلاح، تحفظ اور ترقی کے لیے اس سطح پر پہلے کبھی اتنا کام نہیں ہوا۔ ہر منصوبے میں اقلیتی شہریوں کی ضروریات اور حقوق کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ خود تمام منصوبوں کی نگرانی کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کا بجٹ، جو ماضی میں تقریباً 50 کروڑ روپے تک محدود تھا، اب بڑھا کر 14.6 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ یہ اضافہ اقلیتی برادریوں کے حقوق، ترقی اور فلاح کے لیے حکومت پنجاب کے غیر معمولی عزم کا ثبوت ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کے وژن کی عملی تصویر آج پنجاب میں نظر آ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہر شہری کے مذہبی حقوق اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو عملی ترجیح بنایا ہے۔
انہوں نے انٹرفیتھ ایمبیسڈرشپ پروگرام کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نوجوان نسل میں بین المذاہب احترام، برداشت، رواداری اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب بھر میں تمام عبادت گاہوں کی بحالی، تحفظ اور تزئین و آرائش پر تاریخی کام جاری ہے۔ ننکانہ صاحب، یوحنا آباد اور دیگر مذہبی مقامات پر منصوبے جاری ہیں، جبکہ فیصل آباد کے تین دیہات سمیت مختلف علاقوں میں بھی ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کے ثمرات صرف کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے ہر شہری تک پہنچ رہے ہیں۔ اقلیتی آبادیوں میں بھی اسی ترجیح اور فوکس کے ساتھ ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جا رہی ہیں۔
سینئر وزیر نے بتایا کہ ایک لاکھ اقلیتی شہریوں کے لیے مائنارٹی کارڈز کا اجرا، فیز ٹو میں ڈیجیٹل طریقے سے اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز اور مذہبی تہواروں کے لیے گرانٹس کا اجرا حکومت پنجاب کے عملی اقدامات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار اقلیتی بچوں میں اسکالرشپس کی تقسیم ان کے ٹیلنٹ اور محنت کو سراہنے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو تعلیم اور کامیابی کی جانب آگے بڑھنے کی ترغیب بھی ہے۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور و انسانی حقوق رمیش سنگھ اروڑہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 11 اگست 1947 کو قائداعظم محمد علی جناح نے تمام شہریوں کے مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کا واضح تصور دیا تھا۔ نیشنل مائنارٹی ڈے اسی عظیم وژن کی تجدید اور پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اقلیتوں کو صرف ’’سر کا تاج‘‘ نہیں کہا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔ ان کی قیادت میں ایک لاکھ اقلیتی شہریوں کو مائنارٹی کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ڈیجیٹل لٹریسی، اسکل ڈویلپمنٹ، تعلیم، مذہبی تہواروں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے متعدد پروگرام جاری ہیں۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ اقلیتوں کا صرف ایک دن نہیں بلکہ پورا ہفتہ منایا جا رہا ہے۔ نیشنل مائنارٹی ویک 2026 کا آغاز لاہور میں عظیم الشان ریلی سے کیا گیا جس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، رواداری، مساوات اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی کاوشوں سے محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کا بجٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا ہے۔
رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق پاکستان میں تمام مذہبی اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور وہ ملکی ترقی، معیشت، تعلیم اور سماجی شعبے میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ ڈیجیٹل لٹریسی کے ذریعے نوجوانوں کو دنیا بھر کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بین المذاہب محبت اور خدمت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میاں محمد شریف مرحوم کی جانب سے 1992 میں گردوارہ سچا سودا صاحب میں اپنی جیب سے لنگر شروع کرنا محبت، خدمت اور بین المذاہب احترام کی قابلِ تقلید مثال ہے۔
تقریب میں اقلیتی برادریوں کے نمائندگان، منتخب اراکین اسمبلی، مذہبی رہنماؤں، بشپس، گرنتھی صاحبان، علماء کرام، سفارتی نمائندگان، سرکاری افسران، اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر مساوات، مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button