پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب درست فیصلے انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتے ہیں اور غلط فیصلے یا تاخیر انہیں دہائیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ پاکستان اس وقت ایسے ہی ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ عالمی معیشت میں آنے والی تبدیلیاں ہمارے لیے ایک غیر معمولی موقع لے کر آئی ہیں، لیکن یہ موقع ہمیشہ کے لیے دستیاب نہیں رہے گا۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز رہا ہے۔ تاہم وہاں بڑھتی ہوئی لیبر لاگت اور بدلتے ہوئے معاشی حالات نے بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کو متبادل مقامات تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویتنام، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور بھارت اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کر چکے ہیں۔ پاکستان بھی اس دوڑ کا حصہ بن سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہم ابھی تک امکانات اور حقیقت کے درمیان معلق کھڑے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ سرمایہ کار پاکستان آنا چاہتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سرمایہ کاری کے لیے خود کو تیار کر پایا ہے؟سرمایہ کار کو سب سے پہلے استحکام چاہیے۔ اسے قابل اعتماد بجلی چاہیے، شفاف قوانین درکار ہوتے ہیں، تیز رفتار فیصلے چاہیے ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر سیاسی و معاشی پالیسیوں میں تسلسل چاہیے ہوتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے یہی عوامل اکثر سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔آج اگر ریاست، پارلیمان اور تمام سیاسی قوتیں قومی مفاد میں ایک صفحے پر آ جائیں، توانائی کے بحران پر قابو پا لیا جائے، سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو نظام متعارف کرا دیا جائے اور دنیا کو واضح پیغام دیا جائے کہ پاکستان سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے تو آئندہ دو سے تین برسوں میں صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔ صرف ٹیکسٹائل نہیں بلکہ الیکٹرانکس، آٹو پارٹس، انجینئرنگ، فرنیچر اور جدید صنعتی شعبوں میں بھی پاکستان عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بن سکتا ہے۔تاہم یہ موقع محدود ہے۔ عالمی کمپنیاں اپنے صنعتی یونٹس ایک بار جہاں منتقل کر لیتی ہیں وہاں دہائیوں تک قائم رہتی ہیں۔ اگر پاکستان نے اس کھڑکی سے فائدہ نہ اٹھایا تو یہ قافلہ آگے بڑھ جائے گا اور ہم ایک مرتبہ پھر امکانات کی داستانیں سناتے رہ جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی معیشت کے اندرونی ڈھانچے کا بھی بے لاگ جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان میں دولت، وسائل اور معاشی طاقت کا ارتکاز ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ چند بڑے کاروباری اور صنعتی گروپس معیشت کے اہم شعبوں پر اثرانداز ہیں۔ جب معاشی طاقت محدود ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے تو نئی سرمایہ کاری، مسابقت اور کاروباری مواقع متاثر ہوتے ہیں۔جمہوریت کا حسن صرف سیاسی نمائندگی میں نہیں بلکہ معاشی مواقع کی مساوی تقسیم میں بھی ہوتا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں محنت، قابلیت اور جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھنے کے مواقع محدود ہو جائیں، وہاں معاشی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔ پاکستان کو ایسی معیشت درکار ہے جس میں نئے کاروباری افراد، نوجوان سرمایہ کار اور جدید صنعتیں بھی ترقی کی دوڑ میں شریک ہوں۔ان تمام چیلنجز کے درمیان ایک خطرہ ایسا بھی ہے جو خاموشی سے ہمارے مستقبل کو نگل رہا ہے اور وہ پانی کا بحران ہے۔پاکستان پہلے ہی دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جو آبی دباؤ کا شکار ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، زرعی اور صنعتی ضروریات بڑھ رہی ہیں جبکہ آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی ابھی تک مطلوبہ سطح پر نظر نہیں آتی۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کو صرف معاشی نہیں بلکہ وجودی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنا ہوگی کہ پانی، خوراک، صنعت اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ پانی کے بغیر زراعت نہیں، زراعت کے بغیر خوراک نہیں اور خوراک کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔آج پارلیمان، حکومت، اپوزیشن، کاروباری طبقے اور ریاستی اداروں کے سامنے ایک ہی سوال ہے: کیا ہم اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟اگر ہم نے بروقت فیصلے کیے، معاشی اصلاحات نافذ کیں، سرمایہ کاری دوست ماحول پیدا کیا اور اپنے قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا تو پاکستان خطے کی ایک مضبوط معاشی قوت بن سکتا ہے۔ لیکن اگر سیاسی کشمکش، انتظامی کمزوری اور پالیسیوں کا عدم تسلسل جاری رہا تو آنے والی نسلیں یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب تاریخ نے پاکستان کے دروازے پر دستک دی تھی تو ہم نے دروازہ کیوں نہیں کھولا؟وقت کم ہے، مقابلہ سخت ہے اور فیصلہ آج کرنا ہے۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر کا تعین نعروں سے نہیں بلکہ بروقت فیصلوں سے ہوتا ہے۔



