Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟

آج کچھ کھانے پینے کی باتیں کریں۔ کیونکہ ہم سب کا یہ شغل بھی ہے اور ضرورت بھی۔ انسان کوپیدا ہوتے ہی غذا کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ قدرت نے اس میں جو مشین نصب کی ہے اس کے چلانے میں غذا کا ایندھن ضروری ہوتا ہے جو اس کووہ توانائی بخشتا ہے جو اس کو چلاتی ہے۔ اگر وہ ایندھن نہ ملے یا اس ایندھن میں مناسب حرارے نہ ہوں جنہیں انگریزی زبان میں کیلریز کہتے ہیں تو جسم اپنے ہی اندر میں جمع کی ہوئی چربی کو کھانے لگتا ہے۔اگر دیر تک غذا نہ ملے یا ضرورت سے کم غذا ملے تو ایسے بچے یا انسان کا جسم گھل گھل کر ایک دن ختم ہو سکتا ہے۔یہ مسئلہ بچوں کے لیے بہت تشویشناک بن سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو تو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کو کونسی خوراک کھانی چاہیے؟ وہ تو کسی بھی چیز کو جو وہ دوسروں کو کھاتا دیکھتے ہیں، کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ البتہ قدرت نے ہماری زبان اور منہ کو یہ خاصیت دی ہے کہ ہم کچھ چیزوں کو نا پسند کرتے ہیں اور کچھ کو زیادہ۔ جیسے کڑوی غذا کو نا پسند اور میٹھی کو پسند۔ غالباً اس لیے کہ میٹھی اشیاء ہمارے جسم کو توانائی دیتی ہیں جو جسم کے استعمال میں مدد دیتی ہیں۔جو لوگ جسمانی محنت کرتے ہیں، ان کے لیے میٹھی غذا کم نقصان دےگی کیونکہ وہ اس سے حاصل کردہ توانائی کو استعمال کر لیتے ہیں۔البتہ غیر قدرتی میٹھی غذا سے وہ فائدہ نہیں ملے گا جو قدرتی میٹھی غذا سے مل سکتا ہے۔ اس کی وجہ ایسی غذا میںقدرتی اجزاء کا ہونا یا نہ ہونا ہوتا ہے جنہیں ہم وٹامن اور منرل کہتے ہیں۔ انسان اپنی خوراک کو قدرتی اجزاء کے ساتھ ملا کر زیادہ یا کم مزیدار بنا سکتے ہیں۔یہ دیکھنا ہو تا کسی گھریلو خاتون کے کھانا بنانے کے عمل کا مشاہدہ کریں۔ وہ کس طرح سبزی یا گوشت کوکاٹتی اور صاف کرتی ہے ، اس کو پکانے کے لیے جو اجزاء لیتی ہے ان کا خاص تناسب ہوتا ہے۔یہ صدیوں کے کھانا پکانے کے تجربے کا نتیجہ ہے، جو سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہتا ہے۔ ہر نسل اس میں تھوڑی بہت تبدیلی بھی کرتی ہے اور نئے نئے کھانے اور مشروبات بنانے کے تجربے کرتے ہیں جن میں سے کچھ مقبول عام ہو جاتے ہیں ۔چونکہ ان چیزوں کے بنانے والے کاروباری لوگوں کا مقصدزیادہ تر زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانا ہوتا ہے، ان پر اسی لیے ریاستی ادارے قوانین اور پرمٹ وغیرہ سے نگاہ رکھتے ہیں تا کہ ان کی مصنوعات سے عوام کی صحت پر بُرے اثرات نہ ہوں۔
بچوں کو خاص طور پر سکھانے کی ضروت ہوتی ہے تا کہ ان کو معلوم ہو کہ کیا کھانا اچھا ہے اور کیا کھانے سے ان کے جسم پر کیا اثرات ہوں گے؟ اس کی مثالیں ہیں:
۔ کاربو ہائیڈریٹ (نشاستے)۔ یہ ہمیں توانائی دیتے ہیںجن کی ہمیں کھیل کود میں، لکھنے پڑھنے اور سوچنے میں قوت ملتی ہے۔
۔ پروٹین۔ ہی ہمارے پٹھوں (مسل) کو بنانے میں، ان کی مرمت میں، جلد اور دوسرے جسم کے حصوں کے لیے ضروری ہیں۔
۔ صحت مندچربی (تیل، گھی، مکھن وغیرہ) سے ہمارے دماغ اور جسم کی نشو و نما ہوتی ہے۔
۔ وٹامن اور منرل ہمارے آنکھوں، ہڈیوں، دانتوں اور جسم کے مدافعتی نظام کو ضرورت ہوتی ہے۔اور
۔ پانی، ہمارے جسم کے ہر حصہ کو صحیح کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ہمارے کھانے میں مندرجہ ذیل اشیاء کا خیال رکھنا ضروری ہے:
۔ آدھی پلیٹ میں پھل اور سبزی ہونا چاہیے
۔ ایک چوتھائی میں، پروٹین جیسے مرغی، مچھلی، انڈے ، دالیں، پھلیاں، ٹافو اور بادام، اخروٹ وغیرہ۔
۔ ایک چوتھائی پلیٹ میں، گندم، یا چاول، روٹی، یا آلو میں سے کوئی ایک
ان کے علاوہ کیلشیم کے لیے دودھ، دہی،پنیر، وغیرہ بھی لینا چاہیے۔
بچوں کو رنگ برنگی سبزیاں اور پھل مرغوب ہوتے ہیں۔ ان کو بتائیں کہ سبزیاں ہمارے جسم کو مضبوط بناتی ہیں۔پروٹینز جسم کی نشو ونما میں مدد دیتے ہیں اور پانی جسم کی آبیاری کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
بچوں کو سمجھ ہونی چاہیے کہ کوئی ایک کھانے کی چیز ایسی نہیں جس سے جسم کی تمام ضررورتیں پوری ہو سکیں۔بچوں کو یہ نہ بتائیں کہ فلانی غذا اچھی ہے یا بُری ہے۔کبھی ہم ایسی خوراک کھاتے ہیں جو مزیدار ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی۔اس سے خوراک کے ساتھ اچھا تعلق بنتا ہے اور اچھا رشتہ۔اور احساس ندامت نہیں بنتا۔
بچوں کو کھانے کے بارے میںصحیح عادت ڈالنی چاہییں۔جیسے صبح کا ناشتہ ضروری ہے۔بعد میںدوپہر کو کوئی پھل یا سبزی شامل ہونی چاہیئے۔ اورسارادن پانی پیتے رہنا اچھا ہوتا ہے۔ نئی کھانے کی چیزیں کھانی چاہئیں۔ اور مزیدار کھانے کی چیزیں اعتدال کے ساتھ کھانی چاہیئں۔
اگر بچے غلط کھانے کی عادات کے ساتھ بڑے ہو جائیں، تو ان کی کھانے کی عادتیں وہی رہتی ہیں۔ اگر انہیں میٹھا کھانے کا شوق ہو تو ایک دن انہیں ذیابیطس کا مرض لا حق ہو سکتا ہے۔جو ایک پیچیدہ بیماری ہے اور اس کا علاج مشکل۔اکثر ذیابیطس کے مریض پوری طرح پرہیز نہیں کرتے اور یہ سوچ کر کہ وہ ایک دو گولیاں زیادہ لیکر اپنی شکر کو قابو میں کر لیں گے، جو نہیں ہوتا۔
یہی نہیں، اکثر لوگ چھنے ہوئے آٹے کی روٹی پسند کرتے ہیں، جب کہ ایسا آٹا تیزی کے ساتھ خون میں جذب ہو جاتا ہے اور خون میں شکر کا اضافہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح چاول بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں اگرچہ وہ بھی خون میں تیزی کے ساتھ شکر کا اضافہ کرتے ہیں۔
خورا ک میں کونسی خوراک شکر کاکتنی تیزی سے اضافہ کرتی ہے ، تحقیق کنندگان بتاتے ہیں کہ اس کا ایک انڈکس بنایا گیا ہے۔ جس میں کھانے کی چیز کی شکر میں تبدیلی کی رفتار پر ایک نمبر دیا گیا ہے۔ مثلاً گلوکوز کا نمبر 100ہے کیونکہ گلو کوز فوراً خون میں جذب ہو جاتا ہے۔ انڈکس کے حساب سے اگر55 اور اس سے کم نمبر ہوں تو وہ چیز دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ ان کی مثال کچی گاجر ہے جس کا نمبر 35ہے۔ اگر 56سے 69تک ہو تو وہ چیز کم تیزی سے ہضم ہوتی ہے۔ جیسے چقندر کا نمبر ہے 64،فرنچ فرائز 63، وغیرہ۔ لیکن 70اور اس سے اوپر کی اشیا سب سے تیزی میں خون میں شامل ہو جاتی ہیں۔ان میں شامل ہیںکارن فلیکس79، چیز پیزہ80۔ ہول وہیٹ بریڈ کا انڈکس نمبر 74بتایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جتنا کم نمبر ہو اتنا ہی خوراک فائدہ مند ہو گی۔البتہ ایک انڈکس اور ہے جسے گلائی سیمکس لوڈ کہتے ہیں، اس میں اشارہ خوراک اور اس کی مقدار کے تناسب سے نمبر دیا جاتا ہے۔جو لوگ اپنی شکر کی مقدار پر قابو پانا چاہتے ہیں انہیں ان انڈکس پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔سوشل میڈیا ان موضوعات پر بھرا پڑا ہے۔ قطع نظر کہ ان تمام معلومات میں کتنی صحیح ہیں اور کتنی نہیں، بہت سی اچھی باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ کھانے میں سب سے پہلے سلاد (ہرے پتوں والا) کھائیے، پھر پروٹین جیسے دال، گوشت ، روٹی وغیرہ۔ اس کے بعد آپ تھوڑا میٹھا بھی لے سکتے ہیں جیسے کہ اچھی قسم کی آئس کریم یا ڈارک چوکلیٹ جس میں 70 فیصد یا اس سے زیادہ کے کائو ہو۔
یو ٹیوب تو صحت سے متعلق ہر مسئلہ پر مشوروں سے بھرا پڑا ہے۔آزمائش شرط ہے۔ راقم (جو80 سال سے اوپر ہے) کو کسی عزیز نے نا ختم ہونے والی کھانسی کا دیسی ٹوٹکا بتایا جو انتہائی کار گار ثابت ہوا۔ وہ یہ کہ ہر صبح، لہسن کے دو جوئے چھیل کر انہیں پیس لیں یا کسی گارلک پریس سے چورا کر لیں ۔اور دس منٹ اسے ہوا لگنے دیں اور پھر ایک چمچ میں ڈال کر ، پانی یا لسی یا شربت کے ساتھ نگل لیں۔ راقم اسے ایک خاص قسم کی لسی (کے فیر) میں ایک اونس انار کے جوس کے ساتھ نگل لیتا ہے۔اس سے اور بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ وہ پرانی کھانسی تو ختم ہو گئی۔ ڈاکٹر نے جب بلڈ ٹیسٹ کرایا تو معلوم ہوا کہ کولیسٹرول کا مسئلہ بھی نہیں رہا۔ بلڈ پریشر بھی قابو میں آ گیا۔ یہ سنی سنائی بات نہیں، میری اپنی حقیقت ہے۔ آپ میں سے کسی کو یہ مسائل لاحق ہوں تو لہسن کا استعمال ضرور کریں۔ میری بات ہر گز نا مانیں، گوگل یا اے آئی پر اس کے بارے میں مصدقہ معلومات دیکھیں۔
بڑھاپا سو بیماریوں کی ایک بیماری ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر بوڑھے مرد یا عورت کو سب بیماریاں ہوں۔ کھانسی، بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، قبض، ہڈیوں اور جوڑوں کا درد، اکثر کو تنگ کرتے ہیں، لیکن آپ کا مطمعٔ نظر تندرست بڑھاپا ہو نا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ بوڑھے لوگوں کو چھ ایسے روز کے کام ہیں جو کرنے مشکل ہو جاتے ہیں۔جو ایک طرح کی علامتیں ہیں۔ وہ کام ہیں: کرسی سے اٹھنا اور بیٹھنا، چلنا پھرنا، کپڑے بدلنا، نہانا اور کھانا کھانا ۔ اس لیے جو لوگ بوڑھوں کے ساتھ رہتے ہیں خیال رکھیں کہ وہ یہ سارے کام خود کر لیتے ہیں یا ان کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں بوڑھوں کے لیے خاصی سہولتیں ہوتی ہیں۔ بڑھاپے کو سنہرا دور کہتے ہیں۔ کیونکہ بوڑھوں کے پاس ذاتی تجربات کا خزانہ ہوتا ہے۔ ان کے مشورے قیمتی ہوتے ہیں۔ اسلام میں بوڑھے ماں باپ کا خیال رکھنے کا حکم قران میں کئی بار کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں ماں کے پائوں میں جنت ہے۔یہ سب ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اپنے بزرگوں کا خیال رکھیں اور انہیں اُف بھی نہ کہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button