Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

الف !

الف عربی فارسی اور اُردو کا پہلا حرفِ تہجی ہے،الف کسی ساکن حرف کو متحرک کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اس طرحالف ایک مددگار حرف ہے،عربی فارسی اور اُردو بولنے والے سارے معاشرے مسلم معاشرے ہیں،اس لئے بچوں کے قاعدے میں الف سے اللہ ہی پڑھایا جاتا ہے،ان قاعدوں میں ہر حرف سے شروع ہونے والے الفاط کو مختلف تصاویر سے illustrate کیا جاتا ہے مثلاً د (دال) سے دوات اور س(سین) سے سیب ،اگر بچوں کو الف سے اللہ پڑھایا جائے تو اللہ کو illustrate نہیں کیا جاتاعام طور پر اللہ کی illustrationکے لئے خانہءکعبہ کی شبیہ بنا دی جاتی ہے بچے سوال کر سکتے ہیں کہ الف سے خانہء کعبہ کیوں اور پڑھانے والے کو اس کا جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے،اس لئے الف کی illustration کے لئے ایسے الفاظ ڈھونڈنے پڑتے ہیں جن کی illustrationکے تصاویر مل سکیں مثلاً الف سے اوزار میں نے کچھ قاعدے ایسے بھی دیکھے ہیں جن میں الف سےآم مرقوم ہے مگر آم تو آ سے ہوگا الف سے نہیں ،یہ بھی مشکل ہوگا کہ بچوں کو الف سے انسان پڑھایا جائے مگر اس کی بھی illustrationمشکل ہوگی انسان کے لئے کسی مرد یا عورت کی تصویر نہیں دکھائی جا سکتی کیونکہ مرد یا عورت کی تصویر سے انسان کو تصور نہیں ابھرتا اس لئے بہتر یہی سمجھا گیا کہ الف سے اللہ ہی پڑھایا جائے اس طرح بچوں میں اللہ کا ابتدائی تعارف ہو جاتا ہے،حالانکہ اگر اللہ کا تصور بچوں کے ذہنوں میں جاگزیں کرایا جا سکتا ہے تو الف سے انسان کیوں نہیں ہو سکتا، اور بچوں میں انسان کا تصور کیوں نہیں اُبھارا جا سکتا،میں نے کہا تھا کہ عربی فارسی اور اُردو بولنے والے معاشرے مسلم معاشرے ہیں لہٰذا یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ الف سے اللہ کا تعارف ہی کرائیں مجھے نہیں معلوم کہ عربی یا فارسی معاشرے میں بچوں کو الف کی پہچان کیسے کرائی جاتی ہےمگر کم از کم برِ صغیر میں اُردو قاعدوں میں الف سے اللہ ہی پڑھایا جاتا ہے،جس طرح الف کو اللہ سے جوڑا گیا ہے وہاںadvancedسطح پر الف کو لفظ اقراء سے بھی منسلک کر دیا جاتا ہے اس طرح اُردو میں الف کو اپنی پہچان کے لئے دو متبرک الفاظ مل گئے جس میں یقیناً اللہ کو فوقیت حاصل ہے،جس کا تعلق مذہب سے بھی ہے اور بچوں کو سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے کیونکہ گھروں میں لفظ اللہ پڑھنے سے پہلے ہی کانوں میں پڑتا رہتا ہے اور بچے اس لفظ سے مانوس بھی ہوتے ہیں اس لئے اللہ کی مناسبت سے الف بھی متبرک بن چکا ہے آپ سادے کاغذ پر الف بنا دیں اور ذہن خود بخود اللہ کی جانب مبذول ہو جائے گا اسی طرح انگریزی زبان میں بچے صدیوں سے A for appleسیکھتے چلے آئے ہیں مگرانگریزی زبان کے حروف تہجی میں A کو وہ منزلت حاصل نہیں جو الف کو اُردو میں حاصل ہےدو دہائی قبل جیو ٹی وی نے الف کے عنوان سے ایک پروگرام متعارف کرایا،اس پروگرام کے Moderatorاشفاق احمد کے صاحبزادے انیق احمد کیا کرتے تھے انیق احمد کا بہت اچھا مطالعہ ہے دین کا بھی اچھا مطالعہ ہے اس پروگرام میں دائیں اور بائیں بازو کے دانش ور مدعو کئے جاتے اور ایک خاص موضوع پر گفتگو ہوتی شرکا پڑھے لکھے افراد ہوتے تھے لہٰذا گفتگو کبھی تہذیب کے دائرے سے باہر نہیں نکلی اور سامعین کو بات سمجھنے میں آسانی ہوتی،اس مباحثے میں مولانا غامدی، ڈاکٹر مہدی،احمد جاوید، خورشیدعالم وغیرہ شریک ہوتے تھے اسلام کا فلسفہ سمجھنے کا موقع ملتا اور لبرل نظریہ بھی،جہاں تک میرا خیال ہے اس پروگرام میں جید علماء کی شرکت کے باوجود لبرلز کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا،ایک پروگرام میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب مفتی منیب الرحمن غامدی
کی باتوں کا جواب نہ دے سکے اور یہ کہہ کر اٹھ گئے کہ غامدی صاحب کو سب پتہ ہے ہمیں تو کچھ پتہ ہی نہیں،ہم نے مفتی منیب الرحمن کی بے بسی کا خوب لطف اٹھایا،اس پروگرام سے عام ذہن کھل رہا تھا اس لئے اس کو بند کر دیا گیاانیق احمد کے جانے کے بعد خورشید عالم نے کچھ عرصہ یہ پروگرام ہوسٹ کیا مگر بات نہ بن سکی،لطف کی بات یہ کہ انیق احمد دوسرے چینلز پر بھی پروگرام کرتے رہے مگر وہ تاثر نہ چھوڑ سکے جو جیو کے پروگرام الف سے بنا تھا،یہ بات مشرف دور کی ہے جنرل ضیا کے دورِ حکومت میں یک طرفہ طور پر اشفاق احمد، ممتاز مفتی،واصف علی واصف کو بہت پروموٹ کیا گیا اشفاق احمد ریڈیو اور ٹی وی پر پروگرام کرتے تھے ریڈیو سے ان کے پروگرام گڈریا اور تلقین شاہ بہت مقبول ہوئے اور ٹی وی پر ان کا پروگرام زاویہ خوب چلا،زاویہ کے ایک پراگرام میں معروف شاعر شہزاد احمد بھی موجود تھے انہوں نے کہا دین برتنے کا سلیقہ تو آپ نے سکھا دیا مسئلہ تو دنیا کو برتنے کا ہے،اور اشفاق کا رنگ فق ہوگیا اور یہی کہہ سکے کہ دنیا دین کا حصہ نہیں،جنرل ضیا کے دور میں اشفاق احمد،ممتاز مفتی اور واصف علی واصف کوخوب عروج ملا ہر چند کہ الف لام میم کا ذکر ہوا مگر الف کا راز کھل نہ سکامیں ڈرامے نہیں دیکھتا ،میرا خیال ہے کہ مختلف چینلز پر جو ڈرامے نشر کئے جاتے ہیں وہ بہت depressive ہوتے ہیں ہر قسط میں ہیروئین کا رونا دھوناقسط کا اہم حصہ ہوتا ہے جتنا اچھا رونا دھونا اتنی بڑی اداکارہ،پھر گھریلو تشددعورت کی تذلیل، یہ ثابت کرنا کہ عورت مرد کی ملکیت ہے اور اطاعت شعاری اس کا دھرم،میرے ایک دوست نے جیو ٹرانسمشن کے ایک ڈرامے الف کی بہت تعریف کی اور اصرار کیا کہ آپ اس ڈرامے کو ضرور دیکھیں،میں نے یہ ڈرامہ دیکھا عمیرہ احمد نے یہ ڈرامہ لکھا ہے عمیرہ احمد ناول نگار بھی ہیں ان کے کچھ ناولوں پر reviewsدیکھ چکا تھا اور اندازہ ہوا کہ عمیرہ احمد اشفاق احمد سے بہت زیادہ متاثر ہیں ان کو اشفاق احمد کا by product ہی کہا جا سکتا ہے۔ڈرامے کی کاسٹ بڑی ہے،حمزہ علی عباسی، سجل علی،کبریٰ اور احسن اس ڈرامے کا حصہ ہیں ،بنیادی خیال روحانیت ہے ترکی کا ایک خاندان سات نسلوں سے خطاطی کر رہا ہے اور نام کماتا ہے وہ اللہ کے نام لکھنے اور آیات کی خطاطی کوہی اللہ سے محبت کا وسیلہ گردانتا ہے دادا بڑا خطاط ہے بیٹا بھی خطاطی کی طرف مائل ،خوبصورت پینٹنگز بھی بناتا ہےایک رقاصہ کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے یہ بات باپ کو پسند نہیں،وہ عورت کے عشق کو اللہ سے محبت کے راستے کی دیوار سمجھتا ہے،بیٹا خطاطی، پینٹنگ اور رومی کے رقص سے رزق کماتا ہے،حالات بدلتے ہیں اور مفلوک الحالی بیٹے کو گھیر لیتی ہے ڈرامہ نگار نے احسن کی زبان سے یہ ڈائیلاگ کہلوائے کہ خطاطی سے دور ہوا تو اللہ نے میرے ہاتھ باندھ دیئے ہیں اور مجھ سے میرا رزق بھی چھین لیا ہے،ڈرامے کے ایک موڑ پر بیٹا اور رقاصہ خودکشی کر لیتے ہیں دادابہت سخت گیر مزاج کا مالک ہے،وہ اپنے پوتے سے اس بات پر نالاں ہے کہ وہ فلمیں بناتا ہے،داد اکے اصرار پر پوتا روحانیت پر فلم بناتا ہے،مگر پورے ڈرامے میں روحانیت کی تعریف تک متعین نہیں ہو پاتی،اور فلم بین کےلئےیہی تاثر ابھرتا ہے کہ الف سے اللہ کا نام لکھنا اور آیات کی خطاطی ہی روحانیت ہے،یا اللہ کے نام پر تارک الدنیا ہو جانامگر اس خاندان کی خطاطی اور پینٹنگز بازار میں مہنگے داموں بکتی رہیں ، ایسے ڈراموں کا مقصد بنیاد پرستی کی ترویج کے سوا کچھ نہیںاور ایسا لگا کہ یہ منافع بخش کاروبار ہے اور خطاطی ایک ایسا پیشہ جو ایک بلند معیار زندگی بنانے اور قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے اس ڈرامے سے ایسا لگا کہ دین کی بنیاد کہیں دنیا پر رکھی ہوئی ہے باقی سب شور شرابہ بات یہ ہے اور ہم لکھ بھی چکے ہیں کہ ہندوستان میں بگڑا ہوا تصوف آیا اسلام نہیں آیا،اور ہند کے مسلمان اس بگڑے ہوئے تصوف کو ہی اسلام سمجھتے رہے،بغداد سے بھاگ کر ولیوں نے جھوٹ کا بازار گرم کیا مزار پرستی عام کی جس کی مغل بادشاہوں نے بھی سرپرستی کی،بدعات کو اسلام سمجھا گیا ہندو ساھو کی تپسیا کو مجاہدے کا رنگ دیا گیا،اور پیری مریدی کا کاروبار شروع کیا گیا، یہی مروجہ اسلام تھا ،پچھلے تین سو سالوں میں کوئی صوفی، کوئی ولی روحانیت کی تعریف نہ کر سکا ،روحانیت کا مادہ روح ہے آج بھی کسی سے روح کے بارے میں پوچھ لیا جائے تو تیوری پر بل پڑجاتے ہیں،اور اہلیانِ تصوف کی روش یہ ہے کہ جو وہ کہہ دیں اس پر سوال نہ کیا جائے ذہین شاہ تاجی سے کسی نے پوچھا کہ روحانیت کیا ہے تو جواب دیا خدا میں غرق ہو جانا ذہین شاہ تاجی پیری مریدی کے قائل تھے پڑھے لکھے انسان تھے۔عربی فارسی سے واقف تھے مگر روحانیت کی وضاحت نہ کر سکے،رسولؐکے وصال کے تین سو سال کے بعد تصوف کی بات شروع ہوئی اور کہا گیا کہ ذکر و اذکار اور مراقبے میں خدا کو تلاش کرو،قرآن اور احادیث میں کہیں حکم نہیں کہ خدا کو تلاش کرو،یہ صوفیاء کا اختراع تھا جو اسلام سے زیادہ مقبول ہوا،جس کی کوئی دینی اسا س نہیں ،اسی طبقے نے ایسے ملنگ اور فقیر پیدا کر دئے جو شعائر دین کا کھلم کھلا مذاق بناتے ہیں حیدر آباد میں ایک اللہ میاں کی دلہن ہے ایک شخص جو رات کو عورتوں کی طرح بن سنور کر نکلتا ہے اور اس کے مرید اس کے ساتھ شہر کا چکر لگاتے ہیں اور اللہ میاں کی دلہن کے لئے نذرانے وصول کرتے ہیں،یہ دین کے نام پر مذاق ہے میڈیا اس کو پروموٹ کرتا ہے کبھی اس کا پردہ فاش نہیں کرتا تو دین کے نام پر یہ تماشے ہوتے رہیں گے اور اسی کو روحانیت کہا جائیگانماز میں کسی کو مزا آئے نہ آئے مگر اس روحانیت کا ذائقہ زبان پر ہی نہیں بلکہ ذہن پر بھی رہتا ہے اور اس روحانیت سے منسلک وہ وہ داستانیں ہیں کہ آپ رجب علی سرور کی طلسمِ ہوش ربا کو بھول جائینگے ،الف کو کچھ شعبدہ بازوں نے ایک سر بستہ راز بنا دیا ہے اور یہ راز کھل نہیں رہا روحانیت دین کے نام پر بڑا فراڈ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button