Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اسرائیل کی صدارت سے انکار،آئن سٹائن واقعی ذہین انسان تھا

دُنیا کے نقشےپر1948 میں اسرائیل ایک ملک بنکر اُبھرا۔ ڈیوڈ بن گوریان وہ شخصیت تھے جنھوں نے برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے سے قبل اسرائیل کی آزادی کا اعلان کیا،اور پھر وہی اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم بنے ۔ ڈیوڈ بن گوریان کے اعلان کے فوراً بعد کئی عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان پہلی عرب،اسرائیل جنگ شروع ہو گئ تھی۔اسرائیل کے پہلے صدر ڈاکٹر حائم ویزمین تھے، جنہوں نے 1949ء میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ۔ ڈاکٹر حائم ویزمین ایک ممتاز سائنس دان، سفارت کار اور صہیونی تحریک کے اہم رہنما بھی تھے۔ اسرائیل کے قیام کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں ان کا کردار نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ڈاکٹر حائم ویزمین1952تک وزارت کے عہدے پر فائز رہے ،دوران صدارت اُن کا اانتقال ہوگیا۔اس کے بعد 1952ء میں اسرائیلی حکومت نے آئن سٹائن کو صدر بننے کی پیشکش کی تھی، لیکن انہوں نے یہ منصب قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آئن سٹائن یہودی تھے اور انہوں نے یورپ میں یہودیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور نازی مظالم کی شدید مذمت کی تھی۔ وہ یہودیوں کی تعلیمی اور ثقافتی ترقی کے حامی تھے اور یروشلم میں عبرانی یونیورسٹی کے قیام کی جدوجہد بھی کی ۔ اسرائیل ایک نوزائیدہ ریاست تھی، اس لیے اس کی قیادت میں ایک ایسی شخصیت کی موجودگی ملک کے بین الاقوامی وقار میں اضافہ کر سکتی تھی اسی لئے آئن سٹائن کو اسرائیلی صدارت کی پیشکش ہوئی تھی لیکن انھوں نےاسے مؤدبانہ انداز میں مسترد کر دیا۔آئن سٹائن نے اپنی معذرت میں لکھا کہ ان کے پاس ملک کے معاملات چلانے، سیاسی فیصلے کرنے اور سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کا نہ تو فطری ملکہ ہے اور نہ ہی تجربہ۔ انہوں نے کہا کہ ساری زندگی وہ سائنسی اور نظریاتی امور سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے وہ اس عہدے کے لیے خود کو نا موزوں سمجھتے تھے۔
آئن سٹائن کا اسرائیل کی صدارت قبول نہ کرنا بہت سے مورخین اور سیاسی مبصرین کے نزدیک ایک دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ فیصلہ تھا۔ اور یوں بھی صدارت کا عہدہ زیادہ تر ایک علامتی اور نمائشی منصب ہوتا ہے، جبکہ اصل اختیارات وز یرِاعظم کے پاس ہوتے ہیں، اس لیے عملی سیاست پر ان کا اثر محدود رہتا۔یوںیہ کہا جا سکتا ہے کہ آئن سٹائن کا صدارت قبول نہ کرنا ایک درست اور ذمہ دارانہ فیصلہ تھا۔اگرچہ آئن سٹائن یہودی عوام کے حقوق کے سخت حامی تھے اور انہوں نے عبرانی یونیورسٹی Hebrew University کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، لیکن وہ روایتی قوم پرستی کے خلاف تھے۔ وہ عربوں اور یہودیوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی اور ایک ایسی ریاست کے حامی تھے جہاں دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ وہ اسرائیل کے بعض شدت پسند سیاسی دھڑوں کی پالیسیوں کے ناقد بھی تھے۔ بطور صدر، وہ ان اندرونی اور بیرونی تنازعات کا حصہ بننے سے بچنا چاہتے تھے۔ وہ عالمی امن کے داعی تھے اور اختلافات کے حل کے لیے مکالمے اور تعاون کو اہم سمجھتے تھے۔۔آئن سٹائن نے جذباتی فیصلے کے بجائے اپنی حدود اور ترجیحات کو پہچانا۔
اگرآئن سٹائن کے اس فیصلے کو مثبت زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ان کی عاجزی، خود شناسی اور ذمہ داری کے احساس کی علامت تھا۔ بہت سے لوگ اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر دعوے کرتے ہیں، جبکہ آئن سٹائن نے یہ تسلیم کیا کہ عظیم سائنس دان ہونا ضروری نہیں کہ ایک کامیاب سیاسی رہنما ہونے کے مترادف بھی ہو۔دوسری طرف بعض لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر آئن سٹائن صدر بن جاتے تو اسرائیل کو ایک غیر معمولی عالمی وقار حاصل ہوتا اور امن، علم اور انسانی حقوق کے حوالے سے ان کی آواز زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی انھوں نے صدارت کی عہدہ قبول نہ کرکے ذاتی شہرت یا اعزاز کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس بات کی مثال ہے کہ ہر عظیم انسان کو اپنے دائرۂ کار اور حدود کا ادراک ہونا چاہیے۔ سیاست دان اکثر جذباتی نعروں یا عوامی دباؤ میں فیصلے کرتے ہیں، جبکہ ایک سائنس دان شواہد، اعداد و شمار اور منطق کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ مسائل کی جڑ تک پہنچنے اور ان کا مستقل حل نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک اچھے سیاست دان کے لیے عوام کو متحرک کرنا اور ان کے جذبات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ سیاست دان اکثر جذباتی نعروں یا عوامی دباؤ میں فیصلے کرتے ہیں، جبکہ ایک سائنس دان شواہد، اعداد و شمار اور منطق کو ترجیح دیتا ہے۔
آئن سٹائن کی عظمت صرف ان کے سائنسی کارناموں تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کی سادگی، انسان دوستی، عاجزی، آزاد خیالی اور امن پسندی نے بھی انہیں دنیا کی تاریخ کی ایک منفرد اور قابلِ احترام شخصیت بنا دیا۔ سیاسی سمجھوتوں سے ہٹ کر آئن سٹائن اپنے اصولوں کے پکے تھے اور کھل کر بات کرنے کے عادی تھے۔ سیاست میں اکثر مصلحت پسندی، سمجھوتے اور سفارتی چالیں چلنی پڑتی ہیں۔ آئن سٹائن کو یہ بخوبی اندازہ تھا کہ بطور صدر انہیں ایسی سرکاری پالیسیوں کی تائید کرنی پڑ سکتی ہے جن سے وہ ذاتی طور پر متفق نہ ہوں، جو ان کے ضمیر پر بوجھ بن جائے۔
اسرائیل کے ابتدائی دور میں چند ممتاز سائنس دانوں کو غیر معمولی عزت اور قومی اہمیت حاصل تھی،۔حائم ویزمین، جو اسرائیل کے پہلے صدر تھے، وہ بھی ایک معروف کیمیا دان بھی تھے اگر وہ صرف لیبارٹری کی حد تک محدود سوچ رکھتے تو شاید ایک ناکام سیاست دان ثابت ہوتے، لیکن وہ وسیع تر وژن رکھتے تھےجو ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرگئے۔ آئن سٹائن ایک نظریاتی ماہرِ طبیعیات تھے، جن کی زندگی لیبارٹری، مساواتوں اور کائناتی رازوں کو سمجھنے میں گزری۔ صدارت ایک خالصتاً سیاسی اور انتظامی عہدہ ہے۔ اگر دنیا بھر کے سیاسی نظاموں کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک سائنس دان اچھا صدر یا حکمران بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ سائنسی سوچ کے ساتھ ساتھ کچھ ضروری سیاسی اور انتظامی صلاحیتیں بھی رکھتا ہو۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اپنی سائنسی بصیرت کو برقرار رکھتے ہوئے انسانی نفسیات، سماجی رجحان اور سفارت کاری کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر وہ صرف لیبارٹری کی حد تک محدود سوچ کا مالک ہو تو وہ شاید ایک ناکام سیاست دان ثابت ہو، لیکن اگر وہ وسیع تر وژن رکھتا ہو تو وہ ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کر سکتا ہے۔ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام معروف راکٹ سائنس دان تھے جو بھارت کے صدر بنے۔ اگرچہ بھارت میں صدر کا عہدہ زیادہ تر آئینی اور علامتی ہوتا ہے، لیکن انہوں نے اپنے اخلاق، وژن اور عوام خصوصاً نوجوانوں سے رابطے کی وجہ سے تاریخ کے مقبول ترین صدور میں جگہ بنائی، ان کو ’’عوامی صدر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ آئن سٹائن کا صدارت کی پیشکش کو ٹھکرانا مورخین اور تجزیہ کاروں کے نزدیک نہ صرف ان کا ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا بلکہ خود اسرائیل کے لیے بھی ایک طرح سے بہترین ثابت ہوا!!!

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button