Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

طاقت کا نشہ!

روزِ اول سے ہی معاشرہ طاقت کے زیرِ اثر رہا،طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بولتا رہا،جو طاقت ور تھا اس کا ہر لفظ حکم تھا، اقبال نے سچ کہا کہ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات،اور ہوا یہ کہ تاریخ بھی طاقت ور کے ساتھ جا کر کھڑی ہوگئی،اور طرفہ تماشا یہ ہوا کہ جو کمزور تھے انہوں نے طاقت کے قصیدے لکھنا شروع کر دئیے تاریخ کمزوروں نے ہی لکھی اور طاقت کا سحر طاری ہو گیا، جس نے تاریخ پڑھی وہ بھی طاقت کا گرویدہ،تاریخ فرعون،نمرود،چنگیز خان،ہلاکو خان،ہٹلر اور میسولینی کے قصوں کے بغیر ادھوری ہے ،معروف ہندو دانشور چانکیہ نے طاقت کے ذریعہ حکومت کرنے کے گُر بتائے یہ بھی بتایا کہ طاقت کے ساتھ مکاری کا استعمال کیسے کیا جائے،چانکیہ کے فلسفے کو ابنِ خلدون کے مقدمے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے،اور ابنِ خلدون کی فراست کو میکاولی کی جدید طرزِ سیاست کے بیانئے میںبھی دیکھا جا سکتا ہے،اس طاقت کا ذکر مقدس صحیفوں میں بھی موجود ہے،حضرت سلیمان کی بادشاہت کا ذکر بھی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنے گھوڑے اپنے تھانوں پر مضبوطی سے باندھ کر رکھو،اور طاقت کے حصول کے لئے حکم دیا گیا کہ مشرکین اور کفار کو جہاں دیکھو قتل کر دو،یہ طاقت کی فضا قائم کرنے کے لئے کہا گیا،ظاہر ہے کہ یہ اپنی بقا کا مسئلہ تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو عرب کے مخالف قبائل نام و نشان تک مٹا دیتے،اور اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ جب تک تلوار چلتی رہی ہیبت قائم رہی،اور جب تلوار رکی تو تین بر اعظموں پر حکومت ساٹھ برسوں میں تحلیل ہو گئی اور تاریخ کے پنوں میں چُھپ کر رہ گئی،کمزور جہاں طاقت وروں کی طاقت کے قصیدے لکھتے رہے وہاں ایک نحیف سی آواز اصول اور قانون کے لئے بھی اٹھتی رہی،صاحبانِ علم بادشاہوں کے درباروں کا حصہ رہے،بادشاہی کو بچانے کے گُر بھی بتاتے تو کہیں رعایا کو قابومیں رکھنے کے لئے اصول اور قانون کی بات بھی کرتے رہے،ظاہر ہے کہ علم اکتسابی ہو یا کتابی ہو کہیں نہ کہیں اصول اور قانون کی بات تو کرتا رہا،طاقت کے ساتھ امن، صلح، حکمت کی بات بھی ہوتی رہی،مقدس صحیفوں میں بھی رحم اور کرم کی بات کی گئی،اور سب چیزیں آپس میں شیر و شکر بھی رہیں،کبھی طاقت تو کبھی صلح جوئی اور امن کی باتیں،یونانی فلسفے نے سوال کرنے کا حق انسان کو دیا اس نے اس دنیائے کارزار میں اصول اور قانون کے لئے بڑی گنجائشیں پیدا کر دیں،اور یہ بات تسلیم کی گئی کہ ہر چند طاقت ضروری ہے مگر اصول اور قانون ہی مقدم ہے،اصول اور قانون نے بھی اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے طاقت کا سہارا لیا انگلینڈ میں چرچ اور پارلیمنٹ کی تین سو سال کی جنگیں اس کا ثبوت ہیں ،اس کے نتیجے میں طاقت کابے محابا استعمال ترک کیا گیا مگر طاقت کا نشہ کبھی کم نہیں ہوا،نو آبادیاتی نظام کے ڈھنے کے بعد تیسری دنیا میں ہر چند جمہوری ریاستیں معرضِ وجود میں آئیں مگر طاغوتی قوتیں ان ممالک کے سیاست دانوں کو حکمرانی کے گر سکھا دئےان کو بتایا تھا کہ عوام کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس اور فوج کر سکتے ہیں ،چانکیہ،ابنِ خلدوں اور میکاولی نے بھی حوصلہ افزائی کی اور فلسفہ یہ گھڑا گیا کہ امن قائم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال ضروری ہے،یہ اصول تیسری دنیاکے حکمرانوں کو بہت بھائے،ہندوستان میں انگریز جاگیر داری نظام کو مضبوط رکھنا چاہتا تھا لہٰذاجاگیردار نے انگریزوں کی خدمات انجام دیں وہاں انگریزوں نے بڑے بڑے پیروں کو بھی مضبوط کیا اور یہ دونوں عناصر سیاست کا جزوِ لا ینفک بن گئے،اگر جاگیر دار اور پیر جمہوری اصولوں اور قانون کی پاس داری کرتے تو کوئی خرابی پیدا نہ ہوتی،مگر ہوا یہ کہ جاگیرداروں اور پیروں نے سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے لئے طاقت کا بے جا استعمال شروع کیا اور جمہوریت کو ایک نئی شکل دے دی جو بادشاہت سے بہت مشابہ ہے پاکستان میں ان ننھے منے بادشاہوں نے ایک طرف پیسے کا استعمال شروع کیا معاشرے کو کرپٹ کیا مافیاز کی حوصلہ افزائی کی تو دوسری طرف غنڈے بھی پالے اب حال یہ ہے کہ غنڈہ گردی کے بغیر سیاست نہیں کی جا سکتی،اس غنڈہ گردی کا مظاہرہ پہلی بار جنرل ایوب کی حکمرانی کےدس سالہ جشن پر شروع ہوا جب گوہر ایوب نے اپنے گھوڑے عوام پر چڑھا دئے،پھر یہ عمومی اصول بن گیا سیاسی جماعتوں نے کہیں گلو بٹ پالے تو کہیں عزیر بلوچ جیسے اسمگلرز سے کام لیا، آمروں اور طالع آزماؤں نے سیاسی جماعتوںکو آزادی دی کہ وہ عوام کو ہراساں کریں جنرل ضیاء الحق نے مولویوں کو گلے کاٹنے کی آزادی دی تو جنرل مشرف نے ایم کیو ایم کے ہاتھ میں تلوار پکڑا دی،ان غنڈوں کے خلاف جب بھی قانون حرکت میں آیاتو عدلیہ نےغنڈوں کو ہی ریلیف دیاپاکستان میں ہر شخص سناٹے میں آگیا جب سپریم کورٹ نے کراچی کی بلدیہ فیکٹری میں دو سو معصوم افراد کو زندہ جلا دینے والے مجرمان کو بری کر دیا، اور بتایا کہ مجرمان کے خلاف کوئی شہادت نہ مل سکی،جب یہ بات زد زبانِ عام ہے کہ شہادتوں کو مٹایا گیا اور ایسی فضا پیدا کردی گئی کہ کوئی گواہی دینے عدالت نہ جا سکے، ایم کیو ایم کی سیاست کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ گواہوں اور گواہی کو خون سے رنگ دیتے ہیں،حال ہی میں ایک واقعہ خبروں کی زینت بنا کہ اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار سنگا پور میں تھے وہاں کرپٹو بزنس کے سلسلے میں رضا ڈار کا رابطہ وینزویلہ اور ہالینڈ کی دو خواتین سے ہوا، معاملہ کچھ رقم کے لین دین کا تھا،رضا ڈار سنگاپور جہاں قانون بہت سخت ہے کچھ نہ کر سکا جو اس کے ذہن میں تھا اس نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی ان کو بتایا کہ وہ بہت resourcefulہے اس کا خاندان حکومت میں ہے رضا ڈار نے ان دونوں خواتین کا ویزا بھی لگوایااور دونوں خواتین پاکستان پہنچ گئیں ان دونوں خواتین کو لاہور کی سیر کرائی گئی،مری کی سیر کرائی گئی،پھر لاہور لایا گیا اور پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان خواتین کے اغوا کی خبریں چل پڑیں، ان خبروں کے مطابق ان خواتین کو رسیوں سے باندھ دیا گیا،ان سے کہا گیا کہ اتنی رقم ہمارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرو، پھر رقم کا حجم بڑھتا گیا ،کہا گیا کہ دو ملین ڈالرز کا تاوان ادا کیا جائے ،اسی دوران ایک خاتون کا تین افراد نے ریپ کیا،کہا جاتا ہے کہ تاوان کی ادائیگی کیلئے خواتین پر دباؤ ڈالا گیا ،ایک خاتون نے اپنے والد کو کال کی،خاتون اپنے ملک سے اپنے والد سے کہہ کر آئی تھی کہ یہ میرا کوڈ ورڈ ہے اگر میں فون پر یہ کوڈ ورڈ کہوں تو سمجھ جائیں کہ میں مشکل میں ہوں تاوان کی ادئیگی کےلئے جب اس خاتون نے اپنے والد سے بات کی اور وہ کوڈ روڈ کہا تو اس کے والد نے پولیس سے مدد مانگی،ایک خبر یہ بھی ہے کہ کسی نے رضا ڈار کو فون کیا کہ پولیس حرکت میں آ چکی ہے، کہا جاتا ہے کہ رضا ڈار ان خواتین کو ائیر پورٹ چھوڑنے جا رہا تھا کہ تیز رفتاری کی وجہ سے حادثہ پیش آیا،خواتین کار سے اتر کر بھاگیں، ایک میکنک شاپ میں پناہ لی اور پولیس نے ان کو اپنی حفاظت میں لے لیا ،ان سے مجسٹریٹ کے سامنے 164کا بیان لیا گیا،اور دونوں خواتین اپنے اپنے ملک روانہ ہو گئیں ،اس معاملے پر ایڈیشنل آئی جی نے پریس کانفرنس بھی کی،اور پولیس نے رضا ڈار سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے،الیکٹرانک میڈیا پر اس خبر پر کم از کم بڑے چینلز نے تقریباً74 ٹاک شوز ہو چکے ہیں فیصل واؤڈا نے اپنے ایک بیان میں ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے،اسحاق ڈار وزیر خارجہ بھی ہیں جب سے فیصل واؤڈا نے اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اسحاق ڈار مسلسل کچھ meetings کی صدارت کر رہے ہیں حالانکہ وہ بنیادی طور پر ایک accountantہیں اور امور خارجہ سے ناواقف ،اسی لئےوزیر داخلہ محسن نقوی کو آگے لایا گیا اور انہوں نے ایران میں کچھ معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا، اور اسحاق ڈار منظرسے غائب رہے، اب اچانک وزارت خارجہ کے اجلاسوں کی صدارت ظاہر کرتی ہے کہ اسحاق ڈار اپنی موجودگی کااحساس دلانا چاہتے ہیں نجم سیٹھی اور رانا ثنا اللہ کہہ رہے ہیں کہ اسحق ڈار کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں،ہمارا موقف یہ ہے کہ اسحق ڈار کو استعفے دینا چاہیئے کیونکہ انہی کے بل پر ان کے گھر کے شہزادوں نے یہ گل کھلائے ہیں،اگراسحاق ڈارحکومت میں نہ ہوتے تو رضا ڈار کو یہ ہمت نہ ہوتی پاکستان کے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ایک ایس ایچ او کا بیٹا پورے علاقے میں بدمعاشی کرتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوتا پاکستان امریکہ تو ہے نہیں کہ صدر کی بیٹی ڈرگز کرے اور پکڑی جائے اور پولیس کو پورا اختیار ہو کہ قانون کے مطابق کاروائی کرے،پاکستان میں تو پولیس سیاست دانوں کی باندی ہوتی ہے،اس سے اسحاق ڈار کی طاقت کا اندازہ تو ہوتا مگر اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کے گھر والوں کا مائینڈ سیٹ کیا ہوتا ہے،اور وہ اپنے آپ کو کتنا طاقت ور سمجھتے ہیں یہ وہ اسحاق ڈار ہیں جو آیات ٹوئیٹ کرتے ہیں ہجوریہ ٹرسٹ کے کرتا دھرتہ ہیں اور ماتھے پر مذہب کا تلک لگا ہوا ہے،ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور،یہ مریم نواز وزیر اعلی پنجاب کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے ہر چند کہ مریم نواز نے کہا کہ کیس میرٹ پر دیکھا جائے مگر سب کی توجہ ایک خاتون کے ریپ پر ہے مگر اصل کیس اغوا، تاوان، اور کرپٹو کرنسی ہے کرپٹو کرنسی نے کرنسی اسمگلنگ کے لئے ایک بڑا دروازہ کھول دیا ہے ان کیسوں میں رضا ڈار کو ریلیف دیا جا سکتا ہے،اور عدلیہ تو حکومت کی لونڈی بنی ہی ہوئی ہے ،کس کو جرأت کہ ڈپٹی وزیر اعظم کے خاندان پر ہاتھ ڈالے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button