امریکہ کی 250 ویں سالگرہ!

امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر ایسا بہت کچھ پڑھنے اور دیکھنے کو ملا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ ایک کرب کی کیفیت سے گذر رہا ہے۔ ایک طرف بائیں بازو کے ترقی پسند دانشور ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ ہمیشہ ایسا نہ تھا جیسا اب ہے۔ دوسری طرف ( Make America Great Again) MAGA کی میڈیا شخصیتیں یہ کہہ رہی ہیں کہ امریکہ سفید فام لوگوں نے بنایا تھا اور اس میں صرف انہیں کو رہنے کا حق حاصل ہے۔باقی ہر رنگ‘ نسل‘ قبیلے اور مذہب کے لوگوں کو یا تو واپس چلے جانا چاہیئے اور یا پھر ایک محکوم اقلیت کے طور پر رہنا چاہیئے۔ ڈونلڈٹرمپ کی دوسری مدت صدارت سے پہلے MAGA قوم پرستوں کی تعداد چالیس فیصد تھی مگر اب یہ تیس فیصد کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جنگیں برپا کر کے مہنگائی میں اتنا اضافہ کر دیا ہے کہ اب لوگوں کی اکثریت ان سے بیزار آ چکی ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ برس میں جس سفاکی سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کو بیدخل کیا گیاہے اس نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکہ واقعی تارکین وطن کا ملک ہے۔ صدر جان آف کینیڈی نے 72 برس پہلے کہا تھا کہ America is a nation of immigrants لیکن آج صدر ٹرمپ گرین کارڈ رکھنے والوں کو نکالنے کے علاوہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایسے میں وہ دانشور جو لبرل ڈیموکریسی پر یقین رکھتے ہیں اورآٹھ دہائیوں تک قائم رہنے والے لبرل ورلڈ آرڈر کو مغربی ممالک کی ترقی اور خوشحالی کا راز سمجھتے ہیں وہ صدر ٹرمپ کے دور کو حرف غلط قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سالگرہ کے موقع پر ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے بانیان قوم نے کیا کہا تھا‘ انکے کیا خواب تھے اور وہ اس ملک کو کیا بنانا چاہتے تھے۔ ان دانشوروں کو اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں مشکلات اس لیے درپیش ہیں کہ امریکہ فاشزم کے دورسے پہلی مرتبہ نہیں گذر رہا۔ اسکی تاریخ میں ایسے کئی ادوار آئے ہیں جب اس کے حکمرانوں نے ملک کے اندر اور باہر جنگیں برپا کیں اور اپنی مظلوم اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنا یا ۔ اس ملک میں دو سو برس تک غلام رہنے والے سیاہ فام جس اذیت اور کرب سے گذرے ہیں اسکی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈھائی سو برس سے دوسرے ممالک سے آنے والے لا تعداد تارکین وطن نے اس سرزمین کو ٹھکانہ بنایا ‘ دن رات محنت کی اور ایک خوشحال مستقبل حاصل کیا ۔ امریکہ کی تخلیق میں جن تین دستاویزات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ان میں سے ایک Declaration Of Independence ہے۔ اس میں ان تصورات اور عزائم کا ذکر ہے جو اس ملک کی تخلیق کا باعث بنے۔ اس میں برطانیہ کے خلاف جنگ آزادی کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ اسکی اہم ترین سطور یہ ہیں: All men are created equals, that they are endowed by their creator with certain inalienable rights, they are life, liberty and the pursuit of happiness. ترجمہـ : تمام انسان برابر تخلیق کئے گئے ہیں۔ انہیں انکے خالق نے چند ناقابل انتقال حقوق دیئے ہیں۔ ان میں زندگی‘ آزادی اور خوشی کا حصول شامل ہیں۔یہ دستاویز جولائی 1776 میں منظور کی گئی تھی۔ دوسری اہم دستاویز امریکی آئین ہے۔ اسے عوام کے حقوق کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ اس میں عوام اور حکومت کے تعلق کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اسکے شروع میں لکھا ہے کہ ہم ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جس میں عام آدمی کو انصاف‘ تحفظ اور اطمینان میسر ہو۔ جس میں حکومت کی ترجیح عوامی بہبود ہو اور آزادی کے ثمرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکیں۔ یہ آئین ستمبر 1787 میں منظور ہوا تھا۔ تیسری اہم دستاویز Bill Of Rights ہے۔ اس میں آئین میں کی جانیوالی پہلی دس ترامیم درج ہیں۔ شہریوں کے حقوق سے متعلق اس دستاویز میں ریاست اور عوام کے تعلق کی وضاحت کی گئی ہے اور حکومت کو عوام کی مرضی کے مطابق امور مملکت چلانے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ بل دسمبر 1791 میں منظور ہوا تھا۔ ان ترامیم میں درج شدہ آزادیاں آج تک برقرار ہیں ۔ لیکن انہیں پامال کرنے کی تاریخ بھی خاصی طویل ہے۔ امریکہ کبھی بھی ایک سمت میں گامزن نہیں رہا۔ اس میں جمہوری ادوار کے علاوہ فاشسٹ حکومتیں بھی آتی رہی ہیں۔امریکہ کے دوسرے صدر John Adams (1797—1801 )نے The Alien Enemies Act رائج کیا تھا۔ اس میں صدر امریکہ کو مہاجرین کو گرفتار کرنے اور واپس بھیجنے کے اختیارات دئے گئے تھے۔ یہ آج تک قائم ہیںاورصدر ٹرمپ ان سے خوب استفادہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیویارک جو اسرائیل سے باہر یہودیوں کا سب سے بڑا شہر ہے نے جنوری میں ایک مسلمان میئر کا انتخاب کیا ہے۔ اس نے اپنی فتح کے موقعے پر کہا تھا ’’ نیو یارک ہمیشہ تارکین وطن کا شہر رہے گا۔ یہ ان ہی کے لیے بنایا گیا تھا اور یہی اسکی اصل طاقت ہیںاور آج کے بعد ایک مہاجر اسکی قیادت کرے گا‘‘۔زہران ممدانی کے علاوہ رواں سال میں کُل اکتالیس مسلمان امریکہ کے اہم شہری اور ریاستی عہدوں کے لیے منتخب کئے گئے ہیں۔ مشہور برطانوی شاعر Percy Shelleyنے کہا تھا کہ خزاں اگر آتی ہے تو بہار بھی زیادہ دور نہیں ہوتی ۔ ہمیں یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہائوس سے رخصتی کے بعد امریکہ میں خوشحالی‘ شہری آزادیوں اور ترقی کے ایسے دور کا آغاز ہو گا جس کے ثمرات پوری دنیا سمیٹے گی۔



