Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کامکھیا: چند ابتدائی نظر بازیاں!

اُردو فکشن کا قاری ہی سمجھ سکتا ہے کہ رحمان عباس پر ہر لحظہ گہری نظر رکھنا کتنا اور کیوں ضروری ہے ۔رحمان عباس ہمہ وقت حالت تحریر میں رہتا ہے۔ اس کا دماغ ان سنی اور ان کہی کہانیوں سے اور دل سرکش اور دلنواز کرداروں سے بھرا رہتا ہے ۔ وہ مجسم مسودہ،سراپا متن اور مکمل کتاب نظر آتا ہے۔ اس کی جہاں بینی اور انسان فہمی اس کی کتاب کے ابواب ہیں۔وہ عورت کو صنف مخالف کی بجائے صنف متصل و مطابق خیال کرنے والا دانشور ہے ۔ وہ خلوص نیت سے عورت کے ساتھ مرد کے جسمانی تعلق کے سوا مراسم کا کھوج لگانا چاہتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرز اور طریقے سے بتاتا رہتا ہے کہ، عورت ایک انسانی وجود ہے ، جس کی سرداری اس کا دماغ اور دل کرتا ہے۔نہ کہ اس کا جسم اور جبلت،عورت کا بدن وہ ساز ہے کہ چالباز مرد جس کے تاروں کو چھیڑ کر اس کے ردھم میں اپنا راگ الاپتے اور چپکے سے سٹک لیتے ہیں۔ وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کی یہ چال بازی ساز کے ایک بار چھیڑے گئے تاروں کا ارتعاش کبھی بھی مدھم نہیں ہونے دیتی۔ سوچنا ہو گا کہ ایسی لرزاں بدن عورت کب تک اپنے دماغ کی سرداری کے توازن کو برقرار رکھ پاتی ہو گی؟ مجھے کامکھیا کو دیکھ کر فرانسیسی ناول نگار پیرا لوئی کا ناول افروڈایٹ یاد آیا گیا ۔اسکول کے زمانے میں سید عابد علی عابد کا اُردو ترجمہ پڑھا تھا اور کیا باکمال ترجمہ تھا۔افروڈائٹ اور کامکھیا دونوں محبت ، خواہش ، جنس ،زرخیزی اور جسم کے متعلقات کی دیویاں ہیں ۔ایک یونانی تو ایک ہندوستانی ۔ جہاں ایک طرف ہندوستان کی کامکھیا دیوی زرخیزی، تخلیق اور عورت کی جسمانی قوتوں کی علامت ہیں۔ تو وہاں دوسری طرف یونان کی افروڈایٹ محبت، حسن، اور جنسی کشش کی علامت خیال کی جا سکتی ہے۔ کامکھیا کی پرستش و پوجا اس کی بدنی زرخیزی اور اس کے حیات افروز اعضاء کی تعظیم کے طور پر کی جاتی ہے۔ کامکھیا کی زرخیزی اور اعضائی حیات افروزی وہ صفات ہیں جو زمین میں بھی یکساں طور پر پائی جاتی ہیں،اور یہ اشتراک کامکھیا کے زمینی حوالے کو مستحکم کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ یونان کی افروڈایٹ سے انس اور توجہ کی بنیاد حسن کی تحسین اور خواہش کی تعظیم ہوتی ہے ۔لیکن اس ناول میں کامکھیا دیوی نہیں ، ایک عام عورت ہے۔ وہ اپنے نام کی معنویت اور گھریلو پس منظر کی اذیت ؛دونوں سے واقف رہی۔ وہ ناول میں کسی جاننے والے سے اپنے نام کا مطلب اور معنی پوچھتی ہے ؛….اچھا تو بتا کیا ہے میرے نام کا مطلب : اچھی ہندی میں ڈیٹیل سے وہ بولا تھا ۔ سچ بولوں تو میں بہت سارے شبد سمجھ نیں پائی تھی اور اب بھول بھی گئی ہوں ۔ اس کے بولنے کا مطلب تھا کامکھیا، سنسکرت بھاشا کا ورڈ ہے ۔کام اوراکھیا سے بنا ہے۔ کاما مطلب اچھا اور اکھیا مطلب شکل ۔ پورے نام کا مطلب ہوتا ہے وہ جس کا نام یا شکل اچھا ہے بولے تو ڈیزائر، خواہش ۔ بولا تھا کامکھیا اُس دیوی کا نام ہے جو ہر اچھا کی جننی ہے اور ہر خواہش کو پورا کرتی ہے۔ اس کی پوجا لائف دینے والی اور دویہ گربھ کے طور پر کرتے ہیں ۔ گر بھ، یونی ، ماہمواری سب ماں سے جڑے ہیں، کریشن میں رول ادا کرتے ہیں ۔۔۔ یاد آیا ، وہ یہ بھی بولا تھا کہ کامکھیا کا رشتہ ادی شکتی کی انرجی سے ہے۔ اور کامکھیا ایک ایسی دیوی ہے جو اپنے ماننے والوں کی ہر اچھا پوری کرتی ہے ۔ آسام میں کامکھیا دیوی کا مندر ہے جہاں کہتے ہیں دیوی ستی کے بدن کا خاص انگ گرا تھا۔ تانترک پرمپرا میں بھی کامکھیا کا بڑا استھان ہے۔ جہاں اچھا کوئی دبانے والی چیز نہیں ہے بلکہ ایک پوتر ستیہ ہے جو آتما کو مکتی کی طرف لے جاتا ہے ۔ جب وہ یہ سب بولا تھا سچ یہ ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لیے پاسٹ میں چلی گئی۔کامکھیا کے لیے اس کا نام صرف ایک اسم ذاتی نہیں تھا،کامکھیا اس کے باپ کے ساتھ اس کی ماں کی طرف سے منسوب کی گئی ایک عورت کا نام بھی تھا۔کامکھیا کی ماں اس عورت کو چھمک چھلو،تانترک اور کالا جادو کرنے کی ماہر قرار دیتے ہوئے الزام لگاتی تھی کہ اس کے باپ کا اس چھنال کے ساتھ لفڑا چالو ہے۔ ماں باپ کی اسی دھماچوکڑی میں اس کا باپ ایک دن مر گیا ۔ اپنے اس اذیت ناک پس منظر کے باوجود کامکھیا زندگی کا شکار بننے کی بجائے زندگی کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق سنوارنے کا فیصلہ کرتی ہے،وہ جسم ہو کر ذہن کو استعمال کرتی ہے۔وہ گرہیں کھول سکے یا نہ کھول سکے ، وہ گرہوں کو ٹٹولتی اور کبھی کبھار کھولتی بھی ہے۔وہ گٹر اور سمندر کا فرق اور فاصلہ سمجھنے والی دیوی نہیں ، عام عورت ہے۔ رحمان عباس نے اس ناول میں ایک بڑے اور تہہ دار شہر کو خواب و خیال اور حسن و جمال کی اقلیم سے نکال کر سطح زمین پر رینگنے والی اور نظر انداز کی جا چکی مخلوق کی نظر سے دیکھنے،سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔بمبئیا بولی لسانی مطالعات کے نصاب کا حصہ بن سکتی ہے۔ رحمان عباس نے سمندر آشنا ہونے کے باوجود (شاید) پہلی بار گٹر اور اس کے اطراف کی زندگی ، اور بو باس کو ایک توانا علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بمبئی رحمان عباس کے ہاں صرف ایک شہر نہیں، انسانوں اور حیوانوں سے معمور ایک گھنا جنگل ہے ۔اسے علامت قیاس کیا جا سکتا ہے۔ یہ شہر گٹر سے لے کر گہرے سمندر تک اپنے اندر اترنے، بہنے، اچھلنے ، تیرنے اور سمندر میں تحلیل ہو جانے والی کہانیوں اور ہوا میں بھاپ بن کر اڑ جانے والے قصوں سے معمور رہتا ہے۔بمبئی کی حقیقی ثقافت کو ایک عورت کی تمثیل سے ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔اس ناول میں اس عورت کا نام کامکھیا ہے ۔ کامکھیا کی خود نوشت ایک اندرونی شہادت خیال کی جا سکتی ہے۔یہ ناول اپنے موضوع پر ایک معنی خیز پیش رفت ہے۔کامکھیا رحمان عباس کے زندیق کی طرح ایک ضخیم ناول نہیں ہے۔ایک سو ساٹھ صفحات میں ایک عورت کی خود نگری و خود شناسی و خود نمائی و خود شکنی تک کی کہانی مکمل تفصیل اور تشفی کے ساتھ لکھ لینا ثابت کرتا ہے کہ ناول کی معنی آفرینی کا تعلق ضخامت سے نہیں، ذہانت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور ذہانت بھی دوطرفہ ہونی چاہیئے۔ ان ابتدائی نظربازیوں کے بعد اب مجھے مرزا غالب کے اس شعر؎
اِک نو بہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ
چہرہ فروغ ِمے سے گلستاں کئے ہوئے!
کی تازگی اور معنی آفرینی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ناولوں کی نو بہار ناز کامکھیا کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ہوگا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button