لاہور سول کورٹ میں وکلاء انقلابی تحریک کے زیر اہتمام مکالمہ، مصنوعی ذہانت، ای گورننس اور قانونی شعبے کے مستقبل پرگفتگو

لاہور ( آصف اقبال ) وکلاء انقلابی تحریک کے زیر اہتمام لاہور سول کورٹ میں ’’عہدِ حاضر کا تقاضا‘‘ کے عنوان سے ایک سیاسی و علمی مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، ای گورننس اور قانونی شعبے کے مستقبل کے موضوع پر ایڈووکیٹ شکیل اے میاں نے وکلاء سے تفصیلی مکالمہ کیا۔نشست میں مصنوعی ذہانت کی وکلاء، عدلیہ اور انسانی زندگی کے روزمرہ معاملات میں بڑھتی ہوئی اہمیت، سرکاری و نجی اداروں میں اس کے استعمال، قانون سازی پر اس کے اثرات اور سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت میں ٹیکنالوجی کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔پروگرام کا آغاز وکلاء انقلابی تحریک کے سیکریٹری جنرل ایاز صفدر سندھو نے کیا۔ انہوں نے تحریک کے قیام کے اغراض و مقاصد، موجودہ سیاسی و سماجی حالات اور عصرِ حاضر کے تقاضوں پر اظہارِ خیال کیا۔ بعد ازاں ایڈووکیٹ شکیل اے میاں نے مقررہ موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت اور ای گورننس کے قانونی پیشے سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی پر اثرات کا جائزہ پیش کیا۔ اس موقع پر دیگر شرکاء نے بھی مکالمے میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خیالات اور تجاویز پیش کیں۔پروگرام کے اختتام پر وکلاء انقلابی تحریک کے چیئرمین الیاس خان نے شرکاء کے سوالات کی روشنی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ٹیکنالوجی کو بنیادی طور پر منافع کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس تک رسائی و استعمال بھی اسی معاشی مفاد کے تابع ہے انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی اور دیگر صنعتوں کو سرمایہ دارانہ منافع خوری کے بجائے محنت کش طبقے کی زندگی آسان بنانے، عوامی ضروریات پوری کرنے اور معاشرتی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔الیاس خان نے اپنے خطاب میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکنالوجی اور پیداواری وسائل کو عوامی مفاد میں بروئے کار لانے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اور سوشلسٹ انقلاب کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے۔ یوں لاہور سول کورٹ میں منعقدہ یہ مکالمہ جدید ٹیکنالوجی، قانونی پیشے اور معاشی نظام کے باہمی تعلق پر فکری و سیاسی تبادلے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔








