Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

آج اسلام کا سب سے بڑا چیلنج!

اکتوبر 2023 میں دنیا نے دیکھا کہ غزہ میں کس طرح قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ ایک انسانی المیہ جنم لے رہا تھاجس کی تاریخ میں مثال نہیں تھی۔اکتوبر میں حماس کے عزرائیل پر حملے سے جو شروع ہوا، وہ بڑھ کر ایک لا امتناہی اور تباہ کن صورت اختیار کر گیا۔حماس کو امریکہ اور کچھ دوسری حکومتوں نے ایک دہشت گرد گروہ قرار دیا ہوا تھا، کیونکہ ان کی تاریخ تھی جس میں انہیں شدت پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی واقعات میں مورد الزام ٹہرایا گیا تھا۔ حالیہ جنگ میں،کتنی دفعہ جنگ بندی کے اعلانات کے با وجود، جن میں سے ایک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کروایا تھا، پھر بھی یہ جنگ کبھی بند نہیں ہوئی۔ عزرائیل روزآنہ باقاعدگی سے غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر بم برساتا رہا اور غزہ کے شہروں کو کھنڈر بنا دیا۔ہر نیا دن اپنے ساتھ ہوائی حملے لاتا رہا اور معصوم شہری، عورتیں اور بچے ہلاک ہوتے رہے۔یہ اکثر وہ لوگ تھے جو پانی اور خوراک لینے کی قطاروں میں لگے ہوتے تھے۔آج تک اس سفاکی میں کوئی افاقہ نہیں ہوا ہے۔جب سے یہ جارحیت شروع ہوئی ہے، غزا کی وزارت صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق بہتر ہزار فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ بہتر ہزار زخمی۔ان اعداد میں بم کے حملوں میں زخمی ہونے والے شامل ہیں اور ہزاروں جو بلڈنگوں کے ملبے میں پھنس گئے۔آزاد عمرانی اور میڈیکل تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اعداد کہیں زیادہ ہیں۔پورے علاقے جو کبھی زندگی سے بھر پور تھے اب خاک کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ساٹھ سے سترفیصد سے زیادہ غزہ کا
علا قہ فلسطینیوں سے چھن چکا ہے۔ یا وہ کھنڈر بنا دیا گیا ہے یا دشمن کے قبضہ میں چلا گیا ہے۔یاد رہے کہ حملہ آوروں کے ہتھیاروں کا زیادہ حصہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دیا ہوا ہے، جس کی عزرائیل کوفوجی اعانت مصدقہ ہے۔بہت سے مبصروں کا کہنا ہے کہ یو ایس کانگریس، سینیٹ، اور وفاقی سٹاف کی سیاسی تائید عزرائیل کی امداد میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ غزہ کا سانحہ اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ امت مسلمہ میں بے اتفاقی ہے اور بکھرا ہوا شیرازہ ہے۔ 1.8 ارب کی امت مسلمہ جو 57 ملکوں میں ہے، سیاسی طور پر منتشر ہے۔اور اکثر حالات میں ایسے قائدین کے زیر اثر ہے جو اپنی رعایا کی امنگوں سے لا تعلق ہوتے ہیں۔بہت سے مسلم ممالک مطلق العنان حاکموں کے زیر اثر ہیں جو بجائے اپنی عوام کی ترجمانی کرنے کے بیرونی طاقتوں سے حکم لیتے ہیں۔گذشتہ دو دہائیوں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے لیبیا، عراق، سوڈان، صومالیہ اور لبنان کے حکومتوں کو تہس نہس کر دیا۔ ایران کو پے در پے نشانہ بنایا گیا۔ اکثر صورتوں میںمسلم امہ نے محض احتجاجی بیانات پر ہی اکتفا ءکیا۔جب حماس نے بارڈر کے اس پار حملہ کیا تو اس کی وجہ بتائی تھی کہ عزرائیل نے مسجد اقصی کی بے حرمتی کی تھی، اور اسے امید تھی کہ امت مسلمہ اس کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہو گی۔لیکن ہوا کیا؟ امت مسلمہ کچھ بیانات دیکر ٹھس ہو کر بیٹھ گئی۔جنوبی افریقہ نے عزرائیل پر نسل کشی کا مقدمہ عالمی عدالت میں دائر کر دیا۔بڑے مسلم ممالک نے او آئی سی کا اجلاس بلایا جہاں مذمتی قراردادیں پاس کی گئیں۔کئی ملکوں نے فلسطینیوں کے لیے دوائیاں، طبی سہولتیں، خوراک وغیرہ کی امداد بھیجی۔مصر نے رفاہ کے راستے اشیا ءکو گذرنے دیا۔اردن نے ہوائی جہاز سے امداد پہنچائی۔عزرائیلی مصنوعات کا بایئکاٹ ہوا۔ اس کے ساتھ پاکستان میں غزا کی حمایت میں احتجاجوں کو روک دیا گیا۔اگر کوئی مسلح احتجاج ہوا تو وہ ایران نے کیا۔ اس کے حمائتی گروہ لبنان کے حزب اللہ نے بھی اس جنگ میں بھرپور حصہ لیا۔لیکن اکثر عرب ریاستوں نے کسی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔یہ دیکھتے ہوئے کہ دنیا میں مسلمانوں کی کتنی تعداد ہے اور کتنے وسائل ہیں، ان کا مجموعی رد عمل انتہائی مایوس کن تھا۔اس سے سوال پیداہوتا ہے کہ غزہ میں انسانیت کا قتل عام روکنے کے لیے مسلمان کر کیا سکتے تھے اورکیا کر سکتے ہیں؟ (ایک ملک پاکستان جو جوہری صلاحیت رکھتا ہے اور عزرا ئیل کو موثر جواب دے سکتا ہے، اس کے فوجی چیف اور وزیر اعظم کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے اپنا غلام بنا لیا گیا۔لہٰذااور کوئی قابل ذکر خطرہ باقی نہیں رہا۔ اب مسلمان ملکوں کے لیے سوائے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے حق میں کرنے کے اور کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ایک حل یہ ہے کہ مسلمان ممالک عزرائیل کو سفارتی سطح پر تسلیم کریں اور اس کے بدلے میں عزرائیل فلسطینی ریاست کے قیام پر معاہدہ کر لے، یا فلسطینیوں کو پورے شہری حقوق دے۔اس سے ہٹ کر مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلمان تمام فرقوں کے نمائندہ مشائخ اور مفتیوں کی اعلیٰ سطح پر عالمی کونسل بنائے جو امت کو درپیش مسائل پر ایک لا ئحہ عمل ترتیب دے۔اگر جہاد کی ضرورت ہو تو اس کا اعلان کرے۔یہ کونسل مذہبی بنیادوں پر مسلمان ملکوں کو رہنمائی دے۔دوسرا ادارہ عسکری لحاظ سے اہم مسلمان ممالک کا NATO کے نمونے پر ایک عالمی ادارہ بنایا جائے جیسے مسلم ڈیفنس لیگ، جس میں پاکستان۔ ایران، انڈونیشیا، مصر،بنگلہ دیش، اورترکی شامل ہوں۔اس ادارے کے مقاصد میںکسی بھی مسلمان ملک پر غیر مسلموں سے دفاع کرنا شامل ہو۔یہ ادارہ مسلمان ملکوں کی دفاعی قوت کو مضبوط بنانے میں بھی مدد کرے، جیسے کہ تربیت وغیرہ۔اگر کچھ دوسرے مسلمان ملک بھی اس میں شامل ہونا چاہیں تو ان کو بھی لینے پر غور کرے۔بلا شبہ۔ امریکہ اور کچھ دوسرے مغربی ممالک اس ادارے کے قیام پر تعاون نہیں کریں گے لیکن مسلمانوں کو اس پر سودا نہیں کرنا چاہیے۔ مغربی ممالک اور امریکہ اپنا بہت سا مال مسلمان ملکوں کو بیچتے ہیں اور ان سے بگاڑ کرنا نہیں چاہیںگے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر وہ ان ملکوں کی تائید اور اعانت بھی چاہیں گے۔اگر چین اور روس ،مسلم ڈیفینس لیگ کواپنی پوری تائید دے دیں گے تو یہ ادارہ ایک حقیقت بن سکتا ہے۔ایک تیسرا بین الاقوامی اسلامک ادارہ بھی بننا چاہیے (جیسے عالمی اسلامک ترقیاتی فنڈ) جس کا کام مسلمانوں میں سائنسی تعلیم، دینی اور دنیاوی علوم، کو تقویت دینا، اوراسلامی معاشرت، اور اجماع طلب مسائل پر کام کرنا ہو۔ اس کو مالی طور پر فعال کرنے کے لیے تمام اسلامک ملک اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالیں۔ اس کے ہر شعبہ میں انتہائی قابل اور سند یافتہ افراد متعین کیے جائیں۔اس ادارے کی مدد سے دور جدید کے تقاضوں پر اسلامی نقطہ نظر واضح کیا جائے۔عالم اسلام میں اس چیز کی کمی ہے کہ ان کے تدریسی نظام میں، مناسب اسلامی تعلیمات کا فقدان ہے۔ایسی تعلیمات جوشریعیہ کے علاوہ زندگی کے مسائل اور معاشرے پر نوجوانوں کی ذہن سازی کریں۔پاکستان کی قیادت نے اسلامی ملکوںکو ضرور شرمسار کیا ہو گا۔غزہ کے معاملے میںپاکستان کا رویہ اتنا شرمناک ہے کہ پاکستانی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔یہ صورت حال پاکستانی عوام کی ترجمانی نہیں کرتی۔ یہ صرف اسکے مطلق العنان حکمرانوں کی ترجمان ہے، جنہوں نے عوام پر جابرانہ نظام بٹھا رکھا ہے۔اس نظام نے مذہبی رہنمائوں کو بھی جکڑ دیا ہے۔ وہ بھی آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔اس کی وجہ امریکہ ہے جو اس وقت، بلکہ تیس سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مشرق وسطیٰ کے ایک چھوٹے سے ملک کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔اور اب ہر وہ حکم بجا لاتا ہے جس کا اسے حکم ملتا ہے۔پاکستان کا جو لیڈرایسے موقع پر قوم کو اٹھا سکتا تھا، عمران خان، اُسے تین سال سے جیل میں بند رکھا ہوا ہے۔ اس پر اتنی پابندیاں ہیں کہ وہ اپنی بہنوں تک سے نہیں مل سکتا۔اپنے وکیلوں سے بھی نہیں۔اس لیے کہ بیرونی طاقتیں اس سے خوفزدہ ہیں کہ وہ کہیں مسلمانوں کو جگا نہ دے۔اس ناپاک حرکت میں ایک پاکستانی خاص طور پر ان ظالمین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اسے نہ پاکستان کی پرواہ ہے اور نہ مسلمانوں کی۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کی طاقت ان دشمنوں کی فرما برداری میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی اور مقاصد بھی ہوں؟ورنہ پاکستان کی فوج پاکستان کی محافظ ہے، اور اس کا مستقبل پاکستان کے ساتھ نتھی ہے۔ اس فوج کو پاکستان اپنے خون پسینے کی کمائی سے پالتا ہے۔ اس لیے ہمیں فوج سے بڑی امیدیں ہیں۔اس کی سیاست میں شرکت قابل اعتراض ہے، اور جو آج کل آزاد کشمیر اور بلوچستان میں ہو رہا ہے وہ اسی شرکت کا نتیجہ ہے۔ اگر فوج ان صوبائی معاملات میں دخل نہ دے توپاکستانی سیاستدان، بغیر خون خرابے کے، کوئی بہتر حل نکال سکتے ہیں۔غزا میں فلسطینیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے، یہ مسلمانوں کے لیے ایک اخلاقی اور انتہائی سنجیدہ چیلنج ہے۔کیا امت مسلمہ اس کے خلاف، پوری طاقت کے ساتھ اور سوچ بچار کے ساتھ، متحد ہو کر اٹھے گی، ایک بہت بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔اور اگر کوئی رد عمل نہیں دیتی، تو مسلمانوں پر ظلم و ستم کے دروازے اور وا و جائیں گے۔ اور کوئی مسلم ملک ان دشمنوں سے نہیں بچ سکے گا۔ جو ان کو ذلیل و خوار، بے عزتی اور خواری سے نہیں بچا سکے گا۔اس لیے لازم ہے کہ امت مسلمہ پوری طاقت کے ساتھ متحد ہو کر آگے بڑھے اور دشمنوں کو یقین دلا دے کہ وہ اس کو اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔تبھی یہ ظلم ختم ہو گا۔ مسلم ممالک میں پاکستان کی اہمیت کیا ہے؟ اے آئی کے مطابق،آبادی کے لحاظ سے نمبر ۲ ہے، عسکریت میں اوپر کے تین چار ملکوں میں ہے۔پہلا اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور ان کو پھینکنے کی اہلیت بھی۔اس کی معیشت چوٹی کے پانچ ۔سات ملکوں میں سے ایک ہے۔ البتہ جی ڈی پی فی کس نیچے سے وسطی دائرے میں ہے۔انسانی ترقی میں بھی نیچے ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں بہت سی عرب ریاستوں اور ایشیائی مسلمان ممالک کے پیچھے ہے۔سائنسی اور تیکنیکی میدان میں درمیانی حیثیت ہے لیکن ترکی، ملائشیا اور گلف کی ریاستوں کے پیچھے۔اکثر پڑھے لکھے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان میں جمہوریت ہوتی، سیاستدان اور سول سروس میں بد عنوانی نہ ہوتی تو یہ ملک اسلامی دنیا میں سب سے آگے ہوتا۔لیکن یہ شرائط بہت سخت تھیں۔ یہ پاکستانیوں کے خمیر ہی میں نہیں۔ رشوت کا نظام انگریزوں کی حکومت میں آ چکا تھا، اور جب پاکستان بنا تو بجائے ختم ہونے کے یہ پھلتا پھولتا رہا۔ آخر ایک ایسا وقت آیا کہ ملک میں کوئی کام نہیں ہو سکتا تھا جو بغیر رشوت کے ہوتا۔ سرکاری نوکریاں، تبادلے، ترقیاں، امتحانات، مقدمات، غرضیکہ ہر معاملے میں جس میں سرکار سے واسطہ پڑتا تھا، بغیر مٹھی گرم کیے کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔بد قسمتی یہ ہے کہ عوام الناس نے بجائے احتجاج کرنے کے اس نظام کو قبول کر لیا۔اب اس کے ختم ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس میں مذہبی رہنما بھی دخل اندازی نہیں کرتے۔ باقی کون رہ گیا۔عدالتیں جن کا کام تھا کہ رشوت کے ملزموں کو سزا دے، وہ خود پوری طرح اسی لعنت میں ملوث ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button