’’مسلمان میئر‘‘سرکاری عہدے کو مذہبی رنگ دینا غلط ہے!

کسی منتخب عہدیدار کو صرف “مسلمان میئر” کہہ کر نمایاں کرنا ایک فرد کی شناخت سے زیادہ پوری مسلم کمیونٹی کو متاثر کرتا ہے۔ میڈیا ابلاغ کاسب سے طاقتور عنصر ہے،جب میڈیاکسی میئرکو’’مسلمان میئر‘‘کہتا ہے تووہ اپنی دانست میںخبر کو سنسنی خیز بنارہا ہوتاہے مگر وہ مذہبی شناخت کو ایک مرکزی نکتہ بنا دیتا ہے،عوامی گفتگو کو مذہب کی طرف موڑ دیتا ہے، سیاسی شخصیت کی پالیسی، کارکردگی اور عوامی خدمت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔اکثر ٹی وی چینلز پر اینکر حضرات اور رپورٹرز مئیر ممدانی کو ’’نیویارک کے مسلمان میئر ‘‘کہہ کر خبر دیتے ہیں۔ جب کسی منتخب میئر، گورنر یا کسی بھی عوامی نمائندے کو صرف اس کی مذہبی شناخت سے بیان کیا جائے تو اس طرز سےاس کی شناخت محدود ہو جاتی ہے جو اُس کی پوری سیاسی، انتظامی اور سماجی کارکردگی کو مذہبی شناخت تک محدود کر دیتی ہے۔شناخت کی محدودیت اس کی انتظامی صلاحیت، پالیسی وژن، تجربہ اور عوامی خدمت سب دُھوندلے پڑ جاتے ہیں اوران کی یہ صلاحیت ثانوی ہو جاتی ہے۔
تقاریر، بیانیوں اور رپورٹنگ میںمذہبی شناخت کو جگہ دینا اور اس کو سیاسی تنازع کا حصہ بنانے سے اسلاموفوبیا کو تقویت مل سکتی ہے۔اس سے اقلیتوں کی نمائندگی کو مثبت کے بجائے تنازعہ یا سنسنی خیزی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں،یہی مسئلہ کسی بھی اقلیتی گروہ کے ساتھ ہو سکتا ہےمثلاً ’’یہودی میئر‘‘،’’سکھ گورنر” ،’’ہندو سینیٹرجب مذہبی شناخت کو کارکردگی سے زیادہ نمایاں کیا جائے تو یہ فرد کو stereotype کا حصہ بنا دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی میئر کو “مسلمان میئر” کہہ کر نمایاں کرنا اسلاموفو کے بیانیوں کو جگہ دیتا ہے، اقلیتوں کو اکثر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ’’وفادار شہری‘‘ہیں۔جب کسی میئر کو ’’مسلمان میئر‘‘کہا جاتا ہے تو کچھ حلقے یہ سوال اٹھاتے ہیں’’کیا وہ پہلے مسلمان ہے یا امریکی‘‘ پھرا س سےاسلاموفوبیا جنم لیتا ہے۔
مسلم نمائندگی کی تاریخ امریکہ میں کوئی چھوٹی موٹی مختصر تاریخ نہیں ہےیہ ایک لمبا، پیچیدہ اور مسلسل ارتقاء پذیر سفر ہے۔ مسلمان صدیوں سے امریکہ میں موجود ہیں، مگر ان کی سیاسی نمائندگی خاص طور پر گزشتہ چند دہائیوں میں نمایاں ہوئی ہے ۔امریکہ میں مسلمانوں کی موجودگی نوآبادیاتی دور سے شروع ہوتی ہے۔تحقیقات بتاتی ہیں کہ افریقہ سے لائے گئے غلاموں میں سے 10سے 20فیصد لوگ مسلمان تھے۔یہ لوگ اپنی مذہبی شناخت کو چھپانے پر مجبور تھےسیاسی یا سماجی نمائندگی سے مکمل محروم تھےمگر انہوں نے امریکی ثقافت میں گہرا اثر چھوڑا یہ دور نمائندگی کے لحاظ سے بالکل صفر تھا، مگر مسلمانوں کی موجودگی کی بنیاد یہی تھی۔1900 ور1960 میں مسلمان دو بڑے ذرائع سے امریکہ آئے،مشرقِ وسطیٰ سے تارکینِ وطن جنوبی ایشیا سے طلبہ اور پروفیشنلز اور ہُنرمند،اسی دوران مسلم ادارے قائم ہوئےکمیونٹی نے اپنی مذہبی شناخت کو منظم کیامگر سیاسی نمائندگی ابھی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ 1960 کے بعدمحمد علی ۔ملکم ایکس جیسی شخصیات نےاسلام کو امریکی عوامی گفتگو کا حصہ بنایا جس نےسیاہ فام مسلمانوں کو سیاسی طور پر بااختیار بنایامسلم شناخت کو ایک سماجی انصاف کے بیانیے سے جوڑایہ وہ دور تھا جب مسلمانوں میں پہلی بار سیاسی شعور پیدا ہوا اس کے بعد مسلمان مقامی سطح پر منتخب ہونا شروع ہوئے،اسکول بورڈز، سٹی کونسلز اور ریاستی اسمبلیوں میں جگہ بنانے لگے، امریکہ میں مسلم نمائندگی غلامی کے دور کی خاموش موجودگی سے لیکرسول رائٹس کی جدوجہد اور 9/11 کے بعد کے چیلنجزاور آج کی مضبوط سیاسی شرکت تک ایک گہرا اور مسلسل ارتقاء ہے۔یہ نمائندگی اب صرف مذہبی شناخت نہیں بلکہ امریکی سیاسی تنوع کا حصہ بن چکی ہے۔
9/11کےبعداسلاموفوبیا میں اضافہ ہوامسلمانوں پر نگرانی اور شکوک بڑھ گئےمگر اسی کے ساتھ سیاسی تنظیم بھی بڑھی مسلمانوں نےحقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی سرگرمیاں بڑھائیں،CAIR جیسے اداروں کو مضبوط کیا،مقامی سیاست میں زیادہ فعال کردار ادا کیا،یہ دور مشکل بھی تھا اور تبدیلی کا محرک بھی ثابت ہوا۔یہی وہ دور تھا جس میں مسلم نمائندگی نے نمایاں ترقی کی۔نمایاں شخصیات میںرشیدہ طلیب پہلی فلسطینی نژاد امریکی کانگریس وومن۔ الہان عمرپہلی صومالی نژاد امریکی کانگریس وو من عبداللہ حمو د،مشی گن کے پہلے میئر،اور دیگر ریاستی سطح پر منتخب ہونے والی مسلمان خواتین۔ مسلمان اب صرف شہری حقوق کے موضوع پر نہیں بلکہ ما حولیات ،صحت ،علمی و معاشی اصلاحات جیسے وسیع موضوعات پر بھی قانون سازی کر رہے ہیں،اس طرح مقامی سطح پر یہ تبدیلی تیزی سے آگے بڑھی ۔ اور اب سینکڑوں مسلمان سٹی کونسلزہیںدرجنوں ریاستی اسمبلیوں میںکئی میئرز منتخب ہوئے ،اب آج کایہ وہ دور ہے جس میں مسلمانوں کی نمائندگی نارمل ہوتی جا رہی ہے ،آج امریکہ میں مسلمان تقریباً 3.45ملین سےزیادہ ہیں 40 لاکھ سے کہیں زیادہ مسلمان عوامی عہدوں پر ہیںکئی ریاستوں میں مسلم ووٹرز سوئنگ بلاک بن چکے ہیںمسلم خواتین کی نمائندگی تیزی سے بڑھ رہی ہےیہ سفر ابھی جاری ہے، اور رفتار پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
کسی سیاسی شخصیت کو مذہب کی بنیاد پر نمایاں کرنا تعصب، غلط فہمی اور سیاسی پولرائزیشن کو بڑھا سکتا ہے۔ مذہبی شناخت کا ذکر تب مناسب ہے جب وہ موضوع سے براہِ راست متعلق ہو کیونکہ مذہبی لیبل سنگل آؤٹ کرنے کا سبب بنتا ہے۔سیاسی گفتگو اور خبروںمیں مذہب کا ذکر اکثر شخصیت کو ایک ہی زاویئے میں محدود کر دیتا ہےعوام میں غیر ضروری تقسیم پیدا کرتا ہےمخالفین کو مذہبی بنیاد پر نشانہ بنانے کا راستہ دیتا ہےیہ سب چیزیں سیاسی ماحول کو غیر صحت مند بنا دیتی ہیں اگر مذہب کا تعلق موضوع سے براہِ راست ہو، تو ذکر کرنا جائز ہے، جیسے،میئر کسی بین المذاہب پروگرام میں شامل ہومذہبی تہواروں کے انتظامات کی نگرانی کر رہا ہوکمیونٹی نمائندگی کے تناظر میں مذہب کا ذکر ضروری ہویہ صورتیں معلوماتی اور متعلقہ ہوتی ہیں ۔عوام کو جذباتی یا مشتعل کرنامذہب کو لیبل بنا کر شخصیت کو محدود کرنایہ صورتیں فرد کو سنگل آؤٹ کرنے کے مترادف ہیں جومناسب نہیں۔صرف ’’مسلمان میئر‘‘کہنا اگر موضوع سے غیر متعلق ہو تو یہ سنگل آؤٹ کرنا سمجھا جا ئے گا ۔ بلکہ کسی تقریر میں کسی آرٹیکل یا رپورٹنگ میں’’نیویارک کے میئر ظہوران ممدانی ‘‘ کہنے سے میئر ممدانی کو وسیع فریم میں دیکھا جائے گا۔مئیر ظہوران ممدانی پوری دُنیا کےلئےنیویارک کے امریکن میئر ہیں،ہاں! مگر وہ اپنے گھر میں ضرور مسلمان ہیں۔



