بجٹ

جون کا مہینہ ہے،جون کا مہینہ عام آدمی کے لئے کم از کم تین چیزیں لاتا ہے ایک تو گرمی،دوسرے آم اور تیسرا بجٹ۔گرمی سے تو مفر نہیں اور خاص طور پر اس وقت گرمی عذاب بن جاتی ہے جب نہ بجلی ہو نہ پانی نہ گیس،،جی ہاں میں ،پاکستان کے حوالے سے ہی بات کر رہا ہوںاس پر مستزاد یہ کہ بجلی اور گیس کے بھاری بھرکم بل زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں اور قلیل وسائل میں کچن چلانا مشکل ہو جاتا ہےاتنے پیسے نہیں بچتے کہ آموں کے اس موسم میں اس نعمت سے لطف لیا جا سکے ،مجھے نیٹ پر کچھ ویڈیوز ملیں جو آم کے باغات کی ہیں واللہ کیا مناظر تھے،آم کے باغات، درخت آموں سے لدے ہوئے تیز آندھی، پکے ہوئے آم درختوں سے ٹپکتے ہوئے، اور باغ کے ملازمین کا ان آموں کو ٹوکریوں میں بھرنا،سچ بتاؤ ں تو رال ٹپک ہی پڑتی ہے اور اور مجبوری یہ ہے کہ ویڈیوز میں لنگڑا،انور رٹول، سندھڑی اور ہماری قسمت میں میکسیکو کے آم،اب یہی ایک راستہ ہے اپنی طلب کو مطمئن کرنے کا، اور شوگر کی علت پالنے کے باوجود نتائج سے بے پرواہ میکسیکو کے آموں پر ہی ہاتھ صاف کرنا رہ جاتا ہے ،امریکہ میں تو آم پیدا نہیں ہوتے امریکہ آم میکسیکو اور دیگر ممالک سے در آمد کرتا ہے،آم ضروری تو نہیں مگر لذتِ کام و دہن کے لئے ضروری ہو جاتے ہیں ،آم کو ذکر ہی دوست چھیڑ دیں تو زبان خواہ مخواہ کئی ذائقوں سے آشنا ہو جاتی ہے،یعنی آم تو نہیں ملتا مگر آم کا ذکر بھی ذکرِ خوباں ہی لگتا ہے اور اگر یہ بات کسی ایسے دوست سے ہو رہی ہو جس کا ادب، شعر و شاعری سے کچھ تعلق ہو اور غالب کا ذکر چھڑ جائے تو گفتگو کا لطف دو بالا ہو جاتا ہے،مگر اس حسین گفتگو کے بعد ایک لمبی انگڑائی لیں اور بیوی یہ مطالبہ کر دے کہ گروسری کرنی ہے تو سارا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے،اور اس وقت تو اور وحشت سوار ہو جاتی ہے جب اہلیہ یہ فرما دیں کہ گروسری ذرا ہاتھ روک کر کی جائے یعنی حکم یہ ہوتا ہے کہ گروسری اسٹور سے اسنیکس بالکل نہ خریدے جائیں ،یار یہ کوئی بات ہوئی کہ بندہ گروسری کرنے جائے اور وہ شیلف پر سجے ہوئے اسنیکس پر نظر بھی نہ ڈالےاور صرف آلو، بینگن،گوبھی اور ساگ خرید کر گھر واپس آ جائے ،یہ انتہائی غیر رومانی بات ہے، میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ والٹ میں کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے ،اور طبیعت مچل جاتی ہے،اور سپر اسٹور کی ہر Aisle سے گزرتے ہوئےکچھ نہ کچھ بڑی سی کارٹ میں رکھ ہی دیا جاتا ہے اس سے قطع نظر کہ گھر واپسی پر کیا تکرار ہوگی اورجو بھارتی کہتے ہیں کہ بوال ہو گا یہ لفظ بھی کسی نے خوب تراشا ہے مگر کچھ صورتوں میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ لفظ بوال ہی استعمال کیا جائےجیسے کراچی کی زبان میں پھڈا ،ہر چند کہ کچھ متبادل الفاظ موجود ہیں مگر لفظ پھڈا ایک خاص کیفیت کو بیان کرتا ہے۔کچھ لفظ اس طرح استعمال ہوتے ہیں کہ ان کا متبادل اچھا نہیں لگتا’’رات کے بارہ بجے چوک میں ہلڑ مچے‘‘اس مصرعہمیں ہلڑ کے معنی ہی بدل گئے خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا میں اس گفتگو میں آپ کو بجٹ کے خشک موضوع تک لے آیا ہوں مجھے بھی آسانی ہوگی کہ میں بجٹ کے حوالے سے کچھ ہلکی پھلکی گفتگو کر سکوں۔
بجٹ معاشیات کا موضوع ہے معاشیات کو جب سے سائنس کا درجہ ملا ہے بجٹ ایک ہنر بن چکا ہے امریکی صدرریگن کے زمانے میں امریکہ کو Green Spineنام کا معاشی جادوگر ملا تھا جس نے نہ صرف ریگن کو معاشی مشکلات سے نکالا بلکہ ملک کو معاشی استحکام دیا،گرین کو اس زمانے میں بڑا نام ملا، معاشیات کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ آپ کے وسائل کیا ہیں اور ان وسائل کے اندر اپنے اخراجات کس طرح پورے کر سکتے ہیں،کچن، بچوں کے اسکول کی فیس، دوائی، کار کا پیٹرول ،کپڑے جوتے، کیا اس میں بچت کا کوئی امکان ہے یا نہیں،اسی طرح ملک کے وسائل ہوتے ہیں اور اخراجات بھی،کبھی ہندوستان کی معیشت بندوبست اراضی، لگان مالیانے پر چلتی تھی،بہت سادہ سی معیشت،اب معاشیات بہت پیچیدہ ہو گئی ہے،کبھی economics of planning کا کوئی تصور نہیں تھا public borrowingکا کوئی تصور نہ تھا، مگر اب قرض پبلک سے ہی نہیں لیا جاتا ملکوں سے قرض لیا جاتا ہے، مالیاتی ادارے موجود ہیں ان سے بھی قرض لیا جاتا ہے ،یہ کام وسائل کو بڑھانے کے لئے ہوتا ہے،پھر حکومتوں کے اخراجات بھی ہوتے ہیں دفاع کے اخراجات بھی ہوتے ہیں،یہ بہت پیچیدہ عمل ہے بہت complexبھی،اور اس کے لئے بہت وژن کی ضرورت ہوتی ہے،ہمارے ہاں شعیب معاشی جادوگر تھے انہوں نے نہ صرف پاکستان کو تین پانچ سالہ منصوبے دیئے بلکہ لکی بانڈز کے ذریعے عوامی بچت اسکیم سے حیرت میں ڈال دیاجنرل برکی ایک صاحب زادے جاوید برکی نے کرکٹ میں بڑا نام کمایا جاوید برکی کے چھٹے بھائی شاہد برکی نہایت قابل معیشت دان منسٹری آف کامرس سے متعلق تھے اور پاکستان کے لئے جدید معاشی ماڈل رکھتے تھے
انہوں نے سیاست میں آنے سے انکار کر دیا تھا شاہد برکی سے میری دو ایک ملاقاتیں ہوئی اور ان کی معاشی تجاویز سن کر میں حیران رہ گیا،اگر ان پر عمل ہوتا تو پاکستان ایک بڑی معاشی قوت بن سکتا تھا شعیب کے بعد پاکستان کو کوئی اچھا وزیر خزانہ نہ مل سکا، جو معاشی complicationsکو سمجھتا ہو اور ان کا حل بھی جانتا ہو،
ساری دنیا میں ہر ملک کی وزارت خزانہ بجٹ بناتی ہے اور وہ آسانی سے پارلیمنٹ منظور کر لیتی ہے، اپوزیشن جو تجاویز دیتی ہے ان کو بجٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے،پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا،اٹھارویں ترمیم سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے،یہ وفاق کو کمزور کرنے کی ایک شاطرانہ کوشش تھی،نواز شریف کو ایک بار تین چوتھائی اکثریت ملی تھی فوج کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف کو گھر جانا پڑا اس کے بعد establishmentنے فیصلہ کیا کہ مخلوط حکومت ہی بنے گی،مخلوط حکومت کی وجہ سے بجٹ یکسوئی سے نہ بن سکا بجٹ کے موقع پر حکومتی پارٹی بجٹ تو بنا لیتی ہے مگر اس موقع پر ہر سال اتحادی جماعتیں ناراض ہو جاتی ہیں اور اپنے اپنے مطالبات لے کر حکومت کے پاس پہنچ جاتی ہیںاور
حکومت کو دھمکی دی جاتی ہے کہ ان کے مطالبات مانے جائیں ورنہ بجٹ پاس نہیں ہوگا، بجٹ پاس نہیں ہوگا تو حکومت گر جائے گی،حکومت اپنے آپ کو بچانے کے لئے ان کے مطالبات مان لیتی ہے اور ایک کمزور بجٹ تیار ہوتا ہے جس سے غریب کو کوئی ریلیف نہیں ملتا، اور عام طور پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ جاتا ہے،
گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں آرہی ،مقامی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لئے تیار نہیں، تاجر ٹیکس نہیں دیتے، سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر آ جاتا ہے، اصلاحات ہوتی نہیں ،اور ادارے مفلوج ہیں ایف بی آر tax
collection کے لئے جو بھی اسکیم دیتی ہے تاجر اس کو مسترد کر دیتے ہیں اور ٹیکس کا ہدف پورا نہیں ہوتا،اور حکومت کے پاس اخراجات کے لئے رقم نہیں بجتی،حکومت اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے مگر اتحادی جماعتیں
صاف انکار کر دیتی ہیں،فوج کی مجبوری یہی ہے کہ اس کو مسلم لیگ اور پی پی پی کو خوش رکھنا ہی ہوتا ہے تاکہ دفاع کے لئے مناسب بجٹ مل سکے،سیاسی جماعتیں فوج کو بلیک میل بھی کرتی ہیں،وہ فوجی غلبہ نہیں چاہتیں مگر سیاسی جماعتوں کے پاس وہ مشنری نہیں وہ انتظامی materialکہ وہ حکومت چلا سکیں لہٰذا ان کو فوج کے اشاروں پر ہی عمل کرنا ہوتا ہے اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کے پاس سارے فنڈز ہوتے ہیں وفاق کنگال،اس بار بجٹ سے پہلے گلگت بلتستان میں الیکشن کرائے گئے یہ بات پہلے سے طے تھی کہ پی پی پی کو کھلی چھوٹ دی جائیگی اس کے بدلے پی پی پی صوبوں کے بجٹ کا کچھ حصہ وفاق کو دے گی،پی پی پی نے گلگت بلتستان کا الیکشن جیا، دوسرے دن بلاول کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی شہباز کی صدر سے ملاقات،اسحق ڈار کی بلاول سے ملاقات،اسحق ڈار کی صدر سے ملاقات، یہ سب کچھ دو دن کے اندر ہو گیا اور اعلان کر دیا گیا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ کی حکومت کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں یہ سب pre planned تھا ملی بھگت تھی اور مک مکا تھااور اعلان ہوا کہ وہ بجٹ جو پانچ جون سے لٹکا ہوا تھا بلآخر بارہ جون کے اجلاس میں منظور کر لیا جائے گا،شہباز نے کے پی کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کو بھی منا لیا ہے ،اور وہ بھی اپنی ضد چھوڑ کر صوبے میں ترقیاتی کام کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
اس دوران کراچی کے چار ٹھگ خاموش تھے یہ چار ٹھگ کراچی کے معاملات پر بھی نہیں بولتے تھے اب خالد مقبول صدیقی نے کوئی مطالبہ حکومت کے سامنے رکھ دیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر مطالبہ نہ مانا گیا تو وہ سڑکوں پر آ جائیں گے،یہ پرانی روش ہے حکومتوں کو بلیک میل کرنے کی اور ایم کیو ایم اس بلیک میلنگ کی ماہر ہے،میں جانتا ہوں کہ میں بجٹ پر تکنیکی گفتگو نہ کر سکا تکنیکی گفتگو اعداد و شمار کا
گورکھ دھندہ ہے چالیس بڑے الیکٹرانک میڈیا کے نام نہاد ماہرین معاشیات بجٹ کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں موٹی موٹی تکنیکی باتیں،موٹے موٹے الفاظ مگر کوئی عوام کو نہیں سمجھا نہیں پا رہا کہ اس بجٹ میں عوام کو کیا ملے گا مگر
بات بہت سادہ سی ہے کہ جب حکومت کے پاس پیسہ نہیں ،غیر ملکی امداد ملنے کی کوئی صورت نہیں، سرمایہ کاری آنہیں رہی ،تاجر ٹیکس نہیں دے دے رہے،دفاعی اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں ،ہر بجٹ کی طرح یہ بجٹ بھی ایلیٹ کلاس ہی بنا رہا ہے ایلیٹ کلاس ہی پیسوں پر لڑ رہی ہے،تو وہ غریب کو ریلیف کیسے دے سکتی ہے ہر چند کہ غریب کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں مگر سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح جانے کی روش بر قرار ہے ۔



