عالمی طاقت کا چوتھا مرکز!

اتوار کو اسرائیل پر ایران کے حملے کے بعدکہا جا رہا ہے کہ تہران کی نئی قیادت دو ماہ پہلے کی جنگ بندی ختم کر کے امریکہ اور اسرائیل سے تین ماہ پرانی جنگ دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے۔ اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے طول و عرض میں مشترکہ حملے کر کے جو تباہی مچائی تھی اسکے بعد عام تاثر یہی تھا کہ ایران آٹھ اپریل کی جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرے گالیکن سات جون کو ایران نے اسرائیل کے شمالی علاقے پر حملہ کر کے ایک خطرناک دشمن کو نہ صرف للکارا ہے بلکہ اسکی پشتیبان عالمی طاقت کو بھی ایک نیا پیغام بھیجا ہے۔ پیر کو ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے اپنے ایکس اکائونٹ میں لکھا ہے کہ ’’ ہم سفارتکاری کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں مگر دوسری زبانیں ہم زیادہ بہتر طریقے سے بول سکتے ہیں۔‘‘ پیر ہی کے دن ایران نے امریکہ کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کا بہت جلد جواب دیں گے۔ اسی روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کو یہاں سے چلے جانا چاہیئے کیونکہ کسی بھی حادثے یا انکی اپنی غلطی کی وجہ سے انکا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایران کی اعلی قیادت کی طرف سے دئے گئے یہ دونوں بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ تہران کی نئی قیادت دشمنوں کی جارحیت کے جواب میں خاموش رہنے کی پالیسی کو تبدیل کر چکی ہے۔ جنوری 2020 میں جب پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو صدر ٹرمپ کے حکم پر بغداد ایئر پورٹ پر ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا تو اسکے جواب میں اسوقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے خاموشی اختیار کی تھی۔ اسی طرح جولائی 2024 میں اسرائیل نے تہران میں ایک میزائل حملہ کر کے فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کو ہلاک کر دیا تھا۔ تہران کی حکومت نے اسکے جواب میں بھی کوئی عسکری کاروائی نہیں کی تھی۔ لیکن اب بیروت کے مضافات میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے براہ راست اسرائیل پر حملہ کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اب خاموش نہیں رہے گا۔ ماہرین کے مطابق اس حملے کے بعد خلیجی ممالک کی جنگی بساط میں ایک دور رس تزویراتی تبدیلی آ گئی ہے۔ نظر یہ آرہا ہے کہ تہران کی نئی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اب تک جارحانہ طرز عمل ان کے لیے نہ صرف مفید ثابت ہوا ہے بلکہ اس نے دشمنوں کو دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس حملے کا یہ مفہوم بھی لیا جا رہا ہے کہ ایران بیروت کے مضافات پر ہونے والے کسی بھی حملے کو تہران پر حملہ تصور کرے گا اسرائیل جب تک بیروت سے دور جنوبی لبنان کے دیہات پر حملے کرتا رہا ایران نے اسکا جواب نہیں دیا لیکن بیروت کے مضافات کا علاقہ حزب اللہ کا گڑھ ہے ۔اس پر حملے کے جواب میں ایران کی خاموشی یہ ظاہر کرتی کہ اسے اپنے سب سے بڑے اتحادی کے نقصانات کی کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن ستمبر 2024 میں جب اسرائیل نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کیا تو اس کے جواب میں بھی ایران نے اسرائیل پرحملہ نہیں کیا تھا۔ اب صورتحال یقیناً تبدیل ہو چکی ہے ۔شکاگو یونیورسٹی میںپولیٹیکل سائینس کے پروفیسر Robert Pape نے سات اپریل کو نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’’ روایتی دانش کے مطابق دنیا میں طاقت کے تین مراکز ہیں ۔ امریکہ‘ چین اور روس ۔ لیکن یہ مفروضہ اب غیر متعلق ہو گیا ہے۔ اب ایران عالمی طاقت کے چوتھے مرکز کے طور پر سامنے آ گیا ہے۔ ‘‘ پروفیسر رابرٹ پیپ کے مطابق ایران معاشی اور عسکری اعتبار سے ان تینوں طاقتوں کے مقابلے میں نہایت کمزور ہے۔ لیکن اسکے دنیا کے اہم ترین آبی راستے آبنائے ہرمز پر کنٹرول نے اسے عالمی طاقتوں کی صف میں شامل کر دیا ہے۔ دنیا بھر کوخلیجی ممالک سے سپلائی ہونے والے تیل اور ایل این جی یعنی Liquefied Natural Gas کا پانچواں حصہ اسی آبی راستے سےگذرتا ہے۔ مغربی اور خلیجی ممالک کی کوششوں کے باوجود اس راستے کا کوئی متبادل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ پروفیسر پیپ کی رائے میں اگر ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول اگلے چند ماہ تک برقرار رہتا ہے تو یہ عالمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا باعث بن جائے گا اور اسکا سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو ہو گا۔ بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ایران کا اس آبی راستے پر تسلط وقتی ہے اور امریکہ اور اسکے یورپی اتحادی بہت جلد اس قبضے کو ختم کر دیں گے۔ پروفیسر پیپ کی رائے میں یہ توقع خام خیالی ہے۔ اسکی تہہ میں یہ مفروضہ ہے کہ ایران کو مسلسل اس گذر گاہ کی نگرانی کرنا ہو گی جو کہ اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔ لیکن ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کی مسلسل نگرانی کئے بغیر بھی اس پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکتا ہے۔ فروری میں شروع ہونیوالی جنگ کے بعد اس آبی راستے سے گذرنے والے جہازوں کی تعداد میں نوے فیصد کی کمی آ چکی ہے۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ ایران اس آبنائے سے گذرنے والے ہر جہاز پر حملے کر رہا ہے بلکہ ان حملوں کی دھمکی نے ہی تجارتی جہازوں کو اس سے دور رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انشورنس کمپنیوں نے War Risk Coverage کی بنیاد پر اپنی فیس میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اس وجہ سے ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول مغربی ممالک کے کاروباری اداروں کے لیے صرف تجارتی خسارے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ تزویراتی مسئلہ بن چکا ہے۔ امریکہ کو اس آبی گزرگاہ پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے یہاں ایک طویل عرصے تک موجود رہنا پڑے گا ۔ صدر ٹرمپ کی افتاد طبع اور امریکی سیاست کے تقاضے انہیں کسی بھی طویل جنگ میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دے رہے۔ بے یقینی کی یہ کیفیت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ خلیجی ممالک نے اگر چین‘ روس اور ایران سے ملکر طاقت کی پرانی بساط کو الٹنے کی کوشش کی تو یہ امریکہ کے اسی برس پرانے عالمی نظام کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو گی۔ صدر ٹرمپ اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں اسی لیے انہوں نے اسرائیل کو ایران کے حالیہ حملوں کے جواب میں خاموشی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ ہر گھنٹے بدلنے والی اس صورتحال کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔



