امریکہ، اسرائیل اور ایران کی 100 روزہ جنگ!کیا کھویا، کیا پایا؟

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی’’سو روزہ جنگ ‘‘ نے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کا نقشہ یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اس قلیل مدتی لیکن انتہائی شدید جنگ میں کسی بھی فریق کو مطلق فتح حاصل نہیں ہوئی، بلکہ یہ ایک طویل اور مہنگی سفارتی و فوجی بساط میں تبدیل ہو چکی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آغاز میں ایک فوری اور یکطرفہ فتح کا دعویٰ کیا تھا، لیکن یہ جنگ طویل ہو گئی۔جنگ کی شروعات ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور شدید بمباری سے ہوئی تھی،ایران نے اپنے سپریم لیڈر سمیت کئی اہم فوجی کمانڈر کھوئے اور اس کے معاشی اور فوجی مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔، جس کے بعد ایران نے سخت مزاحمت دکھائی۔ ایران کی معیشت شدید دباؤ میں آ گئی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اسے اب اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی کی ضرورت پیش آرہی ہے۔اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کو پہنچا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی منڈیاں متاثر ہوئیں، تیل مہنگا ہوا اور دنیا کو نئے معاشی خدشات کا سامنا کرنا پڑا۔
ا س جنگ کے منظر نامے میںاسرائیل جنگ کا سب سے بڑا محرک اور فرنٹ لائن کھلاڑی رہا ہے اور اسےاپنے سب سے بڑے حریف ایران کے جوہری مراکز پر براہِ راست ضرب لگانے کا موقع ملا۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تقریباً 100 روز تک جاری رہنے والی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کو گہرے اثرات سے دوچار کیا۔ اس جنگ میں کسی ایک فریق کی مکمل فتح یا مکمل شکست کا اعلان کرنا آسان نہیں، کیونکہ ہر ملک نے کچھ حاصل کیا اور کچھ کھویا۔
ایران نے سب سے زیادہ جانی اور معاشی نقصان برداشت کیا۔ ایران کی فوجی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو شدید دھچکا پہنچا، جبکہ ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں اور اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوا۔دوسری جانب ایران نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شدید حملوں کے باوجود وہ مکمل طور پر جھکا نہیں۔ اس نے اپنی مزاحمتی صلاحیت برقرار رکھی اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مکمل طور پر ختم ہونے نہیں دیا۔اسرائیل نے اپنے اہم حریف ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا اور اسے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی سمجھا گیا۔تاہم اسرائیل بھی ایرانی میزائل حملوں، معاشی دباؤ اور مسلسل جنگی کیفیت کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا۔ شہری زندگی متاثر ہوئی اور خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ گیااور امریکہ نے اپنے اتحادی اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے ایران پر دباؤ برقرار رکھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے۔لیکن اس جنگ کی قیمت بھی کم نہیں تھی۔امریکی کانگریس کے مطابق جنگ کے ابتدائی چند دنوں میں ہی اربوں ڈالر خرچ ہوئے اور طویل مدتی تخمینہ سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ خلیج میں کشیدگی بڑھی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور امریکی وسائل پر اضافی بوجھ بڑھ گیا۔
بعض مبصرین کے مطابق اس جنگ نے امریکہ کی عالمی ساکھ اور سفارتی کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ امریکہ کے اندر جنگ مخالف جذبات بڑھے ہیں اور امریکی ہاؤس نے صدر کی جنگی طاقت کو محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ملک میں پٹرول کی قیمتیں 50فیصد تک بڑھ گئیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔ جس کے سبب بڑا نقصان عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کو پہنچا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی منڈیاں متاثر ہوئیں، تیل مہنگا ہوا اور دنیا کو نئے معاشی خدشات کا سامنا کرنا پڑا۔آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی تجارتی گزرگاہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کی حکومت یا عزم کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ ایران اور اس کے اتحادی شدید جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد اب بقا کی طویل جنگ لڑ رہے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان دنیا کے عام صارفین کا ہوا ہے جو اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بدترین معاشی اور ایندھن کے بحران کی قیمت چکا رہے ہیں
حالیہ عرصے میں مڈل ایسٹ کی یہ جنگ ایک نئے اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں اور ایران کے جوابی حملوں کے بعد خطہ ایک طویل اور پیچیدہ سکیورٹی بحران کی زد میں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران میں سے کوئی بھی فریق مکمل اور طویل جنگ کا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتا۔ اسی لیے مستقبل غالباً محدود کشیدگی، وقفے وقفے سے تصادم اور مذاکرات کے امتزاج پر مشتمل ہوگا۔ تاہم ایک غلط فیصلہ یا غیر متوقع واقعہ پورے خطے کو دوبارہ بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔درمیان میں فریقین نے بعض مواقع پر حملے روکنے اور مذاکرات جاری رکھنے کے اشارے بھی دیئے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو جنگ مکمل فتح یا شکست کے بجائے ایک سیاسی معاہدے پر ختم ہو سکتی ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ خطہ ’’نہ مکمل امن، نہ مکمل جنگ‘‘ کی کیفیت میں داخل ہو سکتا ہے ۔
حقیقی کامیابی جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ پائیدار امن اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ جدید جنگوں میں مکمل فاتح کوئی نہیں ہوتا۔اس 100 روزہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ دور میں روایتی طاقت کے بل بوتے پر فوری فتح حاصل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز، لبنان، شام یا خلیجی ممالک میں کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ حالیہ میزائل حملوں اور خلیجی ممالک میں بڑھتی تشویش نے اس خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔
موجودہ دور کی جنگ صرف بارود سے نہیں، بلکہ سوشل میڈیا، نیوز چینلز اور سفارتی بیانات کے صفحات پر بھی لڑی جا رہی ہے۔اس کا نقصان یہ ہورہاہے کہ دنیا کے عام شہری مسلسل ایک ذہنی دباؤ اور خوف کے سائے میں جی رہےہیں کہ نہ جانے اگلا لمحہ کیا لے کر آئے گا۔جب بھی آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا توانائی کی سپلائی لائنز کو نشانہ بنانے کی صرف بات یا دھمکی ہی سامنے آتی ہے، تو سپلائی بند ہونے سے پہلے ہی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ معیشت کی ترقی کاسب سے بڑادارومدار اعتماد پرہوتا ہے۔ جب بڑے ممالک کے رہنما سخت بیانات دیتے ہیں یا ایٹمی حملوں اور اقتصادی ناکہ بندیوں کی دھمکیاں دیتے ہیں، تو عالمی منڈیوں میں سنسنی پھیل جاتی ہے۔ ایک ہی سخت بیان یا ٹویٹ کے نتیجے میں چند منٹوں کے اندر دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس سے اربوں ڈالر ڈوب جاتے ہیں۔
موجودہ جنگوں کا مستقبل کسی ایک فیصلہ کن فتح یا شکست کی طرف جاتا دکھائی نہیں دیتا، بلکہ دنیا ملٹی پولر ہائبرڈ وار کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں معاشی پابندیاں، سائبر حملے، اور علاقائی پراکسیز طویل عرصے تک بین الاقوامی نظام کو غیر مستحکم رکھیں گی ۔اس عالمی بے یقینی کے دور میں اب وہی ملک محفوظ رہے گا جو اندرونی طور پر مضبوط ہوگا۔ غیر ملکی امداد یا قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل کو بچانا، سادگی اپنانا اور مقامی پیداوار کو بڑھانا ہی اس معاشی دباؤ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔



