Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

صحت

والد گرامی مرحوم خوش خط تھے چاہتے تھے کہ بچے بھی خوش خط ہوں،بچپن میں تختی اور قلم پر لکھنا سیکھا جاتا،تختی پر ملتانی مٹی لیپی جاتی،دھوپ میں سکھایا جاتا،تختی پر پنسل سے سیدھی لکیریں بنائی جاتیں،قلم تراشا جاتا، کالی روشنائی استعمال کی جاتی، یہ خیال رکھا جاتا کہ روشنائی نہ تو بہت پتلی ہو نہ ہی بہت گاڑھی،پھر قلم کو روشنائی میں ڈبو کر تختی پر لکھا جاتا،قلم کی تراش خاص قسم کی ہو تی تھی چاقو سے قلم کی نوک کو ترچھا بنایا جاتا تھا تاکہ حرف کی مناسب شکل بن سکے،قلم کی نوک کی ترچھی تراش سے حروف کے Curvesایسے نمایاں ہوتے کہ حروف کا مزاج کھل کر سامنے آجاتا،ج ،ؤ ،ق، اور س ش پر خاص توجہ ہوتی،ر ،ڑ، اور ڈ کی بناوٹ ایک ہنر گردانا جاتا،والد گرامی کے ایک دوست ایک اخبار میں کاتب تھے،کبھی کبھار والد گرامی سے ملنے آیا کرتے تھے،وہ ہمیں حروف کی بناوٹ سکھا جاتے ،ان حروف کی پریکٹس ہوتی رہتی، اگلی وزٹ پر ایک نیا سبق اور کسی بھی حرف کی بناوٹ کا نیا انداز، یہ سلسلہ خاصا دلچسپ تھا،پھر تختی پر مشق معطل ہوئی اور کاغذ پر زیڈ کی نب سے لکھا جانے لگا،زیڈ کی نب قلم کی نوک کی طرح ترچھی نہیں ہوتی تھی،سیدھی ہوتی تھی کاغذ پر زیڈ کی نب سے حروف کو اس طرح لکھنا جیسے تختی پر لکھا جاتا تھا قدرے مختلف تھا زیڈ کی نب سےحرف کو ایک خاص شکل میں لکھنا بھی ایک ہنر تھا یہاں بھی والد محترم کے کاتب دوست نے رہنمائی کی،والد گرامی کی خوش مزاجی بھی کمال تھی، وہ جب کاغذ پر ہماری لکھائی دیکھتے ،تو زیر لب مسکراتے اور کہا کرتے تھے میاںیہ تمہاری ج، س، ش، اور ق ہے نا ان کی صحت کچھ ٹھیک نہیں،دیکھو یہ ج کی کمر ٹیڑھی ہو گئی ہے، ق کا پیٹ نکل آیا ہے اور دیکھو یہ ر کے پاؤں پھیلے ہوئے ہیں،یہ تبصرے بہت خوب تھے ہم محظوظ بھی ہوتے ہنسی بھی آتی اور قہقہے بھی لگ جاتے پھر ایسے ہی تبصرے کسی کلاس روم میٹ کی تحریر دیکھ کر کر دیا کرتے،یہ بات ساری کلاس میں پھیل جاتی ،اور ہنسنے کے بہانے تراش لئے جاتے،ہمارے اُردو کے ایک استاد بھی کہا کرتے تھے کہ ممتحن کے سامنے آپ کی خوش خطی ہی آپ کی سفارش کرتی ہے، اور والد گرامی کہا کرتے تھے کہ تمہارے چہرے کی رونق، لباس، رکھ رکھاؤ،چال ڈھال اور بات کرنے کا انداز تمہاری شخصیت کی خوش خطی ہے،ان تمام چیزوں کی صحت جب تک ٹھیک رہتی ہے آپ لوگوں کو قابلِ قبول رہتے ہیں ،صحت بگڑتی ہے تو لوگ دور ہو جاتے ہیں ڈاکٹر قریب آ جاتا ہے،لہٰذا آپ کی صحت کا س، ق، ڈ اور ؤ درست ہونا چاہیئے،اس کا اطلاق جہاں فرد پر ہوتا ہے وہاں معاشرے اور قوم پر بھی ہوتا ہے،فرد، معاشرے اور قوم کی صحت جتنی اچھی ہوگی اتنی ہی دنیا میں منزلت ہوگی، معاشرے اور قوم کی بات ہو تو صحت کا مفہوم بہت وسیع ہو جاتا ہے،دیکھا جاتا ہے کہ معاشی، تعلیمی، دفاعی،اور سماجی آزادیوں کا معیار کتنا بلند ہیں، اس قوم سے بیماریاں کتنی دور ہیں ،اور اگر بیماریاں آئیں تو ان کی روک تھام کے کیا انتظامات ہیں،وغیرہ وغیرہایک صحت مند معاشرہ دماغی طور پر بھی صحت مند ہوتا ہے ،Robert Clay نے کہا تھا کہ ایک صحت مند لیڈرایک صحت مند قوم بناتا ہے،صحت مند لیڈر سے مراد ایک ایسا شخص جو نہ صرف جسمانی طور پر تندرست ہو بلکہ ذہنی طور پربھی چست و چوبند ہو ،فراست اور ہوشمندی میں یکتا،اور اس کے پاس قوم کو آگے لے جانے کا وژن بھی ہو،یہ جدید دور کی سیاست کی ضروریات ہیں جن کے بغیر آگے کا سفر ممکن نہیں،ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سال کی تاریخ میںکوئی بادشاہ ایسا نہیں گزرا جو فراست اور ذہانت میں یکتا ہواور جس کا کوئی وژن بھی ہو، مغلیہ دور کا واحد کارنامہ بندوبستِ دوامی تھا tax collection کا ایک ایسا نظام جس کو انگریزوں نے بھی نہیں چھیڑا،مغلیہ سلطنت کے اہل کار وقت پر لگان، مالیانہ وغیرہ اکٹھا کرتے تھے جس کا ایک حصہ راجے مہاراجے اور نواب وضع کرکے باقی رقم بادشاہ کو روانہ کر دیتے،یہ نظام کامیابی سے چلتا رہا مگر مغلیہ سلطنت نے آبادی کی تعلیم کا کوئی نظام رائج نہیں کیا،نہ ہی صحت کا کوئی نظام تھا، اس کے برعکس مغرب میں بادشاہتوں کے باوجود تعلیم اور صحت کے لئے نظام موجود تھے،اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہندوستان میں ایک ہزار سالہ موجودگی میں تعلیم اور صحت کی priorityتھی ہی نہیں اور ایک ہزار سال کی تاریخ میں کسی ولی،صوفی،یا عالم نے اقراء اقراء کا راگ الاپا، چلیں مغلیہ سلطنت کو چھوڑیں جب نیشنل انڈین کانگریس بنی تو پارٹی کا ایک آئین تو بنا مگر پارٹی کا منشور نہیں بنا،اس کے بعد مسلم لیگ کا جنم ہوا مسلم لیگ کا بھی آئین تو بنا مگر کوئی منشور نہ تھا اور دونوں جماعتوں نے کبھی ہندوستان کے لوگوں کی تعلیم اور صحت کےبارے میں انگریز سرکار سے کوئی مطالبہ نہیں کیا، تعلیم اور صحت کا جو نظام انگریز نے قائم کر دیا تھا اسی پر اکتفا کیا گیا،یہ mind setمسلم لیگ کا برقرار رہا،تقسیم کے بعد نہ تختی پر ملتانی مٹی ملی گئی نہ سکھایا گیا نہ تختی پر لکیریں لگائی گئیں نہ قلم تراشا گیا اور نہ ہی ق ش اور ؤ کی قوسیں درست کرنے کا اہتمام ہوا حالانکہ تعلیم اور صحت کی اہمیت سے انکار کس کو تھا تحریک پاکستان میں کہیں پر بھی اس کا ذکر نہ تھا کہ ملک کے حصول کے بعد تعلیم اورصحت پر توجہ دی جائے گی،اور تقسیم کے بعد تو ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اسلام بن گیا،جب لیاقت علی خان نے قرار داد پاکستان منظور کرائی تب پاکستان، پاکستان بن کر رہ گیا ،تعلیم اور صحت کے مسائل کہیں دور رہ گئے بلکہ یوں کہیے کہ یہ نظروں سے اوجھل ہو گئے، اور قوم بیمار ہوتی چلی گئی اور جاہل اتنی کہ سرِ عام ختم نبوت کے نام پر جھوٹا الزام لگا کر معصوم لوگوں کو قتل کر سکتی ہے اب لاکھ سمجھاتے رہیئے کہ یہ غلط ہے وہ نہیں سمجھتے،فوج سے بہت غلطیاں ہوئی، مگر ان غلطیوں میں سیاست دان برابر کے شریک تھے،ایوب خان سے مشرف کے ادوار پر 166کتابیں لکھی گئیں اور سیاست دانوں کی غلطیوں پر صرف 23،فوجی جنرلز کی ہمت نہیں کہ وہ آزادانہ ملک کے کسی مال میں اپنی فیملی کے ساتھ شاپنگ کر لیں ،گر بد نام ترین سیاست دان کھلے عام کسی بھی دکان سے چھولے چاٹ اور بریانی کھاتے مل جائیں گے،میڈیا ان سے بات بھی کرے گا اور ان کی ویڈیوز بھی میڈیا چینلز پر چلا دے گا، شیخ رشید سے کوئی نہیں پوچھے گا کہ مجاہدین کے کیمپ کیوں چلائے نہ ضیا الحق کے بیٹے سے کوئی سوال ہوگامگر ناروے میں ایک پشتون جنرل باجوہ کو گھیر سکتا ہے اور گالیاں بھی دے سکتا ہے،میں فوج کی حمایت نہیں کر رہا عوام کاState of Mind بتا رہا ہوں،سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی آمر یا کسی فوجی طالع آزما نے سیاست دانوں کی حمائیت کے بغیر حکومت کی؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلی رہے،تین بار وزیراعظم ،پنجاب پر ان کی حکومت چالیس سال سے ہے، نواز شریف فوجی جنرلز کے سائے میں پھولے پھلے،اب بھی ایک آرمی چیف کی نیابت میں ان کی سیاست کو دوام حاصل ہے کیا نواز شریف کے منشور میں تعلیم اور صحت کو اولیت حاصل رہی،اگر منشور میں یہ بات درج بھی ہے تو کیا نواز شریف، یا ان کے خاندان کے کسی فرد نے تعلیم اور صحت کو اہم جانا،آج بھی مریم وہ کام کر رہی ہیں جو نظر آئیں مریم کی پالیسیوں میں کہیں تعلیم اور صحت نظر نہیں آتی، ستھرا پنجاب ضرور نظر آتا ہے،ایک عطیرہ بنا ہوا ہے ایوب خان کے زمانے میں ملک امیر محمد خان آف کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر تھے آکسفورڈ سے فارغ التحصیل تھے مگر تعلیم کے بارے میں بہت رجعت پسند ،ان سے کہا جاتا آپ تو آکسفورڈ سے فارغ التحصیل ہیں آپ تعلیم پر توجہ کیوں نہیں دیتے تو موصوف کہا کرتے تھے کہ اتنا کافی ہے کہ میں تعلیم یافتہ ہوں،ان کے مقابلے میں نواز شریف تو پھر ایک سرمایہ دار تھے وہ تعلیم اورصحت پر توجہ کیوں دیتے،چالیس سال کے دور حکومت میں نواز شریف نے تعلیم اور صحت پر کوئی کام نہیں کیا،قوم سے اسکول لے لئے ان کی جگہ مدارس کا جال پھیل گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ نواز شریف کو دینی جماعتوں سے ووٹ لینے تھے،نواز شریف کی طرف سے دینی جماعتیں جن کے اندر دہشت گرد پلتے تھے ۔مدارس ایک سیاسی رشوت تھی،اور اقتدار کے لئے تو نواز شریف کچھ بھی کر سکتے ہیں،نواز شریف کا ہی دور تھا جب پاکستان میں تعلیمی اور صحت کے نظام Nose Dive کر گئے،اب غریبوں کے لئے مدارس ہیں جہاں غریبوں کے بچے مولویوں کی ہوس کا شکار ہوتے ہیں یہ مولوی کبھی مہذب ہو ہی نہیں سکتے لندن کے ایک مدرسے میں ایک مولوی بچوں کو ہوس کا نشانہ بناتا رہا،،اب حال یہ ہے کہ پنجاب اور پختون خواہ میں ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے،اس کی وجہ ہم جنس پرستی ہے،خبر تو یہ بھی آئی کہ بنوں میں لڑکوں کا ایک بازار سجتا ہےاور امرد پرستی عام ہے، تو اس کے نتائج تو ہونگے،ابھی تک پنجاب اور کے پی میں ایڈز کے علاج کے مراکز نہیں،اور نہ ہی امرد پرستی روکنے کی کوئی تدابیر ،سول سو سائٹی خاموش، این جی اوز چپ، کالم نگار وں کو تو قومی مسائل سے کبھی سروکار رہا ہی نہیں وہ تو ایسے کالم لکھتے ہیں جن سے ان کی viewership میں اضافہ ہو، اس حکومت کو بھی تعلیم اورصحت کے مسائل سے آگاہی نہیں، حکمرانوں کی ترجیہات میں اگر تعلیم اور صحت نہ ہوں تو یہ بیمار ذہن کی عکاسی کرتے ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button