ہفتہ وار کالمز

کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس عہدے کیلئے مناسب ہیں؟

آزادی کے ڈیکلریشن کی ڈھائی سو سالہ امریکن ہسٹری میں شاید ہی امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا کوئی کریزی، بے حس، اسٹوپڈ اور منافق صدر گزرا ہو گا جس نے اپنے غیر متوقع رویوں، نان سینس بیانات اور مضحکہ خیز حرکتوں سے پوری دنیا کے سامنے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اس کے سادہ لوح عوام کے سر شرم سے جھکا دیئے ہوں۔ کبھی کبھی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک بوڑھے مگر بردبار شخصیت رکھنے والے شخص میں ایک نابالغ بچہ گھسا بیٹھا ہو۔ وہ امریکہ جس کا پورے عالم میں طوطی بولتا تھا، سپر پاور کہا جاتا تھا، ارض زمین پر طاقتور ترین اور سنجیدہ ریاست کا امیج ہوتا تھا، اس ذہنی طور پر نابالغ شخص ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ڈیڑھ ٹرم میں برباد کر کے رکھ دیا۔ حالیہ ماضی قریب میں ہم نے جوبائیڈن کے چار سالوں میں، باراک اوبامہ کے آٹھ سالوں میں، جارج بش کے آٹھ سالوں میں، بل کلنٹن کے آٹھ سالوں میں، سینئر بش کے چار سالوں میں اور رونالڈ ریگن کے آٹھ سالوں میں ان صدور میں سے کسی ایک کو بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جیسی گراوٹ کی نچلی ترین سطح پر نہیں پایا۔ امتیازی رویوں سے بھرپور جو گھٹیا زبان ڈونلڈ ٹرمپ بولتے رہے ہیں اس کی وجہ سے یورپین یونین سمیت امریکہ کے کئی دوست ممالک ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ سے متنفر ہو گئے ہیں۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک کی صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کا جھوٹ بولنا اور کھلی منافقت کرنا کوئی قابل شرم بات نہیں ہے۔ بنیادی خصلتیں اور ماضی کی جنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے کبھی ری پبلکن پارٹی کو سپورٹ نہیں اور نہ ہی ووٹ دیا۔ مگر زندگی میں پہلی مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے کی بنیاد پر کہ وہ اقتدار میں آتے ہی غزہ میں جنگ رکوادیں گے وہ وارمونگر نہیں ہیں، امن کے حامی ہیں جنگوں کے خلاف ہیں وغیرہ وغیرہ کی بنیاد میں انہیں ووٹ دیا تھااس مرتبہ۔ مگر ہمیں یہ نہ معلوم تھا کہ یہ شخص اسقدر جھوٹا اور مکار ثابت ہو گا۔ سی این این پر ہم دیکھ رہے تھے کہ اپنے دوسری مرتبہ اقتدار میں آتے ہی ٹرمپ نے دنیا کے مختلف علاقوں میں سات عدد جنگوں کو شروع کیا، کسی ملک پر چڑھائی کر کے اس کے صدر کو اغواء کر کے امریکہ لایا گیا، کسی ملک کو اپنے ملک امریکہ کا حصہ بنادیا گیا، غزہ کو ملیا میٹ کر کے تفریح گاہ ریزورٹ شہر بنانے کا اعلان کیا گیا اور اب تازہ ترین واردات میں اپنے غیر قانونی اور غیر حلالی بچے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ ایران کے روحانی پیشوا اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ اور اڑتالیس رفقاء کو شہید کر دیا۔ جنگ کی ابتدا میں کہا گیا کہ ایران میں رجیم چینج آپریشن کرنا ضروری ہے اور اس کیلئے آیت اللہ خامنہ ای کو مارنا ضروری ہے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا جھوٹ تھا جو وائٹ ہائوس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بولا، آیت اللہ کی شہادت کے بعد فوراً ہی دوسری قیادت سامنے آگئی اور آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا جس کا مطلب یہ ہوا رجیم چینج سے اور آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے سے بھی ایران کی اسرائیل اور امریکہ کے متعلق پالیسی تبدیل نہیں ہو گی اور ہزاروں بے گناہ اور معصوم شہری جو مارے گئے اور ہزاروں ٹن بم جو گرائے گئے اس سے ہدف کا حصول نہیں ہو سکا تو پھر دوسرا جھوٹ بولا گیا کہ اصل اہداف ایران کے جوہری توانائی کی تباہی، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی بربادی اور ان کے ذخیروں کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو پچھلے سال جون میں اسرائیل اور امریکہ نے جب ایران پر حملہ کیا تھا تو صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ ایران کے ایٹمی مراکز کو شدید بمباری کر کے نیست و نابود کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یا تو جون 2025ء میں جھوٹ بولا گیا یا پھر اب مارچ 2026 میں صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ بہرحال صدر ٹرمپ کی ہسٹری بتاتی ہے کہ وہ پرلے درجے کے جھوٹے، مکار، فریبی اور منافق شخص ہیں۔ ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر ٹرمپ شاید اسی حیثیت سے امریکن ہسٹری میں خود کو یاد کرانا چاہتے ہیں۔وہ کیا کہتے ہیں کہ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔ ٹرمپ کے مخصوص امتیازی رویے کی یادگار وائٹ ہائوس میں وہ میٹنگ ہے جس میں انہوں نے یوکرائن کے صدر زیلنکسی کو اپنے درالخلافوں میں بلا کر ٹرمپ کی اس بے عزتی کا جواب دیا تھا۔ میکسیکو کے صدر ،کینیڈا کی حکومت اور گرین لینڈ کی حکومت کیلئے ٹرمپ کے دھمکی آمیز اور توہین آمیز رویے سے کون واقف نہیں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس قسم کے بچگانہ اور غیر قانونی بیانات اور ایکشنز کی وجہ سے ہی ہمارا ملک امریکہ اس وقت دنیا میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت کی تازہ ترین خبروں کے مطابق اسپین، فرانس اور یوکے نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیل کیساتھ مل کر ٹرمپ کا حملہ کرنا نہ صرف امریکی آئین اور قانون کی رو سے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی نقطہ نگاہ سے بھی غیر قانونی ہے اور وہ اس جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔ کسی شخص کی ذہنی نابالغی، دماغی نابالیدگی اور معذوری کا اندازہ صرف اس ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک چھپاسی سالہ سربراہ ملک کو بمبار طیاروں سے ما کر وہ اپنی فتح کا اعلان کررہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کا ایک ذہنی معذور فیلڈ مارشل جو خود ایک سید زادہ اور حافظ قرآن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ایک اسلامی ملک پر حملے کی مذمت بھی نہیں کرتا اور صدر ٹرمپ اس بے حس فیلڈ مارشل کواپنا دوست کہتے ہیں یعنی دو ذہنی معذوروں کا یہ تماشا ہے گویا خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دو معذور۔
ہم جب امریکہ آئے تھے تو امریکہ کے حوالے سے ہمارے خیالات بہت بلند تھے کہ یہ وہ ملک ہے جس کی اخلاقی اور انسانی اقدار بہت اعلیٰ ہیں۔ یہ بات حقیقت بھی ہے کہ امریکہ کے فار فادرز نے اس ملک کو ایک امیگرنٹ ملک قرار دیا تھا جہاں پر ہر شخص کے پاس برابر کے حقوق ہوں گے۔ کسی بھی رنگ، نسل، فرقے اور گروہ کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جا سکے گا۔ کسی کو نسلی بنیادوں پر ہزیمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا بھر سے لوگ یہ ہی سمجھ کر امریکہ آتے ہیں کہ ان کے ممالک میں ان اقدار کا کوئی وجود نہیں ۔حقدار کو اُس کا حق نہیں ملتا ہے۔ مظلوم کو انصاف نہیں ملتا ہے اور غریب کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔ جیسا کہ اس وقت پاکستان میں ملٹری کے جنرل نے حشر برپا کیا ہوا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اس مملکت امریکہ میں ہمیں ایسے کسی صورت حال کا سامنا نہیں ہے۔ امریکہ ایک آئیڈل ریاست ہے۔ یہاں کے لوگ بہت مخلص اور معصوم ہیں مگر پاکستان کے فیلڈ مارشل حافظ سید جنرل عاصم منیر کی طرح سے یہاں پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگ اقتدار میں آجاتے ہیں اس عظیم ملک کے نام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے لیکن پاکستان کے برعکس ہمیں یہاں اپنے ووٹ کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے بلا کسی بے ایمانی کے کیونکہ یہاں پر انتخابات میں پاکستان میں آٹھ فروری کی طرح سے کوئی جنرل دھاندلی نہیں کراتا ہے۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتن یاہو کی دوستی کی وجہ سے اور ایران سے ذاتی نفرت کے باعث ہمارے ینگ میرینز اور فوجی تابوتوں میں واپس آرہے ہیں لیکن یہ سلسلہ زیادہ نہیں چلے گا۔ اس سال پرائمری انتخابات میں ہی آپ نتیجہ دیکھ لیں گے کہ امریکی عوام کس سے طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست سے دو چار کریں گے۔ اس ہاتھی اور چیونٹی کی جنگ امریکی عوام کے سوشل میڈیا کی وجہ سے سامنے آگئی ہے اور ہم بھی اس بات کو یقینی بنائیں گے اس دفعہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جھوٹے دعوے اور جھانسے میں ٹریپ نہیں ہوں گے۔ امریکی ریاست زندہ باد، امریکی عوام زندہ باد۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button