Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

گوئی یانگ: مریم نواز کی چینی وفد سے ملاقات، پنجاب اور گوئی ژو میں ڈیجیٹل و اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق

لاہور (آصف اقبال) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوئی ژو کے شہر گوئی یانگ میں منعقدہ انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو کے موقع پر گوئی ژو کے پارٹی سیکرٹری ہی زونگ یو اور چینی وفد سے ملاقات کی اور خطاب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی ٹرانسفر، لوکل مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز پیش کردی مریم نواز شریف نے ڈیجیٹل کوآپریشن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سمارٹ ایگریکلچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے طبی تشخیص کے شعبے میں بھی چین کے ساتھ اشتراک کار کا خواہاں ہے۔ انہوں نے گوئی ژو کے وفد کو دورہ لاہور کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وفد متعلقہ محکموں، یونیورسٹیوں، چیمبر آف کامرس اور ممکنہ کاروباری شراکت داروں سے ملاقات کرے تو انہیں خوشی ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب بیرونی سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے تیار اور خواہاں ہے، جبکہ چین ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے دنیا کی سمت تبدیل کررہا ہے۔ گوئی ژو میں ہونے والی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی قابل تقلید ہے اور ہم چین کے تجربات اور کامیابیوں سے سیکھنا چاہتے ہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ گوئی ژو کی خوبصورتی، ترقی اور قابل ذکر تبدیلی متاثر کن ہے، گوئی ژو ٹیکنالوجی میں ترقی کرکے چین کا ڈیجیٹل مرکز بن چکا ہے۔ ہم انڈسٹری، ڈیجیٹلائزیشن اور رورل ڈویلپمنٹ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے کے چینی تجربے سے سیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی تاریخی دوستی کو سالڈ پراجیکٹس، سرمایہ کاری اور روزگار کے حقیقی فوائد میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے قومی تعلقات کو صوبائی اور عوام سے عوام تک تعلقات کی سطح پر لے جایا جاسکتا ہے۔ گوئی ژو کی ٹیم کو پنجاب کے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلنے کی استدعا کرتے ہیں اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کے لیے چین کی معاونت چاہتے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سب چین کے قابل قدر صدر شی جن پنگ کے زبردست مداح ہیں۔ ان کا وژن، فولادی عزم اور کامیابی کے لیے انتھک جستجو قابل تقلید ہے۔ ذاتی طور پر صدر شی جن پنگ کے مشترکہ خوشحالی، مشترکہ انسانی اہداف، سلامتی، استحکام اور تمام اقوام کی خودمختاری کے فلسفے کی پرجوش پیروکار ہوں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب زرعی شعبے کی سب سے بڑی مارکیٹ، ملک کا معاشی محور اور فوڈ باسکٹ ہے۔ چین کے صوبہ گوئی ژو میں محض ترقی نہیں بلکہ مکمل تبدیلی آرہی ہے اور اس ترقی کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کا سہرا چینی صدر شی جن پنگ کی عظیم قیادت کو جاتا ہے۔انہوں نے گوئی ژو کے پارٹی سیکرٹری ہی زونگ یو اور ان کی ٹیم کو شاندار، صاحب علم اور صاحب مطالعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پبلسٹی، میڈیا ریگولیشن، سائبر اسپیس، ایڈمنسٹریشن، گورننس اور شنگھائی، مرکزی حکومتی تنظیموں اور گوئی ژو میں ان کا وسیع تجربہ اور قائدانہ کردار قابل تحسین ہے۔ ہی زونگ یو جیسے باعلم اور خطیب انسان سے ملاقات کو خوش بختی سمجھتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان اور چین تاریخی آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود ہر موسم کی دوستی کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک اس سال فخر کے ساتھ مثالی سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں مریم نواز شریف نے کہا کہ پاک چین دوستی کا رشتہ صرف دو حکومتوں اور دو ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دلوں، عوام اور دو قوموں کے درمیان اعتماد پر قائم رشتے کا نام ہے۔ یہ رشتہ اعتماد، باہمی احترام اور محبت پر قائم ہے، جس کی بنیاد باہمی تعاون اور حمایت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کے حوالے سے ہمارے درمیان ایک ذاتی اور بہت مضبوط تعلق بھی موجود ہے۔ پاکستانی قیادت کی پے در پے نسلوں نے پاک چین دوستی کو پروان چڑھایا ہے، خاص طور پر میرے والد محمد نواز شریف نے ہمیشہ پاک چین تعلقات کو سب سے زیادہ اہمیت دی، جبکہ میرے چچا اور موجودہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک چین تعلقات اور اقتصادی شراکت داری کے لیے مسلسل اور انتھک محنت کی۔مریم نواز شریف نے کہا کہ پاک چین دوستی کو آگے بڑھانے کا اعزاز خوش قسمتی سے اب مجھے حاصل ہوا ہے۔ چین سے محبت اور لگاؤ نہ صرف ملک سے ملک اور عوام سے عوام بلکہ دل سے دل تک ہے اور میرے خون میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے 13 کروڑ لوگوں کے صوبے کی ذمہ داری سنبھال رہی ہوں۔ چین ہمارے لیے ایک قابل اعتماد دوست اور بھائی ہے اور ہم اس تاریخی رشتے کو ایک نئے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ چین کے ساتھ تعلقات کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، جدت، ثقافت اور مشترکہ انسانی مقاصد کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب اور گوئی ژو کے درمیان تعلقات کی بہت مضبوط بنیاد موجود ہے۔ معیشت کا حجم ضرور مختلف ہے لیکن دونوں خطوں میں بہت سی خصوصیات مشترک اور مماثل ہیں۔ پنجاب نہ صرف 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے بلکہ دیگر وفاقی اکائیوں سے بھی لوگ بہتر زندگی کے مواقع کی تلاش میں پنجاب آتے ہیں، جبکہ گوئی ژو کی آبادی 3 کروڑ 86 لاکھ ہے۔ دونوں بڑے خطے ہیں جہاں انسانی وسائل وسیع ہیں اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے اور اڑھائی برس میں انتھک محنت سے پنجاب نمایاں پیشرفت کرچکا ہے۔ صوبے میں 50 ہزار روڈز کی تعمیر، مرمت، بحالی اور توسیع کا کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ پہلی مرتبہ مکمل الیکٹرک موبیلٹی انفراسٹرکچر بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ چین سے تیار کردہ ماحول دوست الیکٹرو بسیں پنجاب میں مصروف خدمت ہیں اور الیکٹرو بسوں کے ذریعے فضائی معیار میں تیز تر بہتری کا معجزہ بھی رونما ہوچکا ہے۔ ماضی میں پنجاب میں تین ماہ فضائی آلودگی اور سموگ رہتی تھی، لیکن گزشتہ دو سال سے سموگ نظر نہیں آئی۔ سموگ کے خاتمے کے لیے ہم نے چین کی کامیابی سے سبق سیکھا اور مسلسل سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بہت کام ہوچکا ہے، جنگلات کے رقبے میں بھی اضافہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ سموگ جیسی آفت سے نمٹنے کا یہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گوئی ژو اور پنجاب کے درمیان مضبوط زرعی بنیاد، مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے بھی موجود ہیں۔ پاکستان کی زرعی فصلوں کا کل 70 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے، اسی لیے زراعت پنجاب کے لیے انتہائی اہم ہے۔ زرعی شعبہ پنجاب کی آبادی کے کثیر حصے کے لیے روزگار اور ذریعہ معاش فراہم کرتا ہے۔مریم نواز شریف نے کہا کہ گوئی ژو کی معیشت بھی زراعت، صنعت، تعمیرات اور سروسز جیسے بڑے شعبوں پر مشتمل ہے۔ پنجاب بہت بڑی زرعی اور کنزیومر مارکیٹ ہے، جبکہ 30 سال سے کم عمر 65 فیصد نوجوان افرادی قوت اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے انہوں نے کہا کہ گوئی ژو صنعتی ترقی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور انٹیلی جنس کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کے تجربات سے مالا مال ہے۔ ہم گوئی ژو کے ساتھ روایتی معاشی ماڈل سے آگے بڑھ کر زیادہ پیداوار، ویلیو ایڈڈ گڈز، ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کرنے والا صوبہ ہے۔ AI میں سرمایہ کاری جاری ہے اور پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں ٹیکنالوجی کے بہتر اور مؤثر استعمال کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس آفس موجود ہے انہوں نے کہا کہ ہواوے اور علی بابا کی میڈیکل سروسز اور اختراعات سے سیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔ پنجاب پاکستان میں AI کا باقاعدہ استعمال کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔ پنجاب میں ایک ہزار بیڈ کا کینسر ہسپتال مریضوں کے لیے امید کا مرکز بنے گا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے طبی تشخیص کے حوالے سے بھی تعاون خارج از امکان نہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ ترقی، تعاون اور باہمی حمایت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مجوزہ مشترکہ ورکنگ گروپ 12 ماہ میں مکمل پراجیکٹ تیار کرسکتا ہے۔ گوئی ژو کے پاس ٹیکنالوجی، عزم اور مشترکہ انسانی فلاح و بہبود کا فلسفہ ہے، جبکہ پنجاب کے پاس نوجوان آبادی کا حجم، صلاحیت، مارکیٹ اور اربن ڈویلپمنٹ کا عزم ہے۔ انہیں یقین ہے کہ گوئی ژو اور پنجاب کی صلاحیتیں اور قوتیں ایک دوسرے کے لیے موزوں ترین ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں مقیم چینی شہریوں کی حفاظت، سلامتی اور سہولت ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہیں یقین ہے کہ ان کا دورہ پنجاب اور گوئی ژو کے تعلقات میں نئے عملی باب کا آغاز کرسکتا ہے۔ گوئی ژو میں آمد اور چین کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کو خوش بختی سمجھتی ہوں۔مریم نواز شریف نے بتایا کہ ان کی ٹیم میں زیادہ تر وزراء نوجوان اور 50 سال سے کم عمر ہیں۔ سینئر وزیر، وزیر منصوبہ بندی و ماحولیات مریم اورنگزیب فضائی آلودگی کے خلاف جنگجو کی طرح کام کررہی ہیں۔ محترمہ عظمیٰ زاہد بخاری وزیر اطلاعات و ثقافت ہیں، کاظم پیرزادہ وزیر آبپاشی، رانا سکندر حیات وزیر تعلیم، عاشق حسین کرمانی وزیر زراعت و لائیوسٹاک ہیں جبکہ صوبائی مشیر علی مصطفیٰ ڈار پنجاب میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس آفس کے سربراہ ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آخر میں چین کے لیے مزید کامیابیوں اور چینی عوام کے لیے بہتر مستقبل کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے پاک چین دوستی کے مزید مضبوط اور مستحکم ہونے کی دعا کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button