Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

بابا بلھے شاہ کے افکار آج بھی ہمارے معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں: اسپیکر پنجاب اسمبلی

قصور ( آصف اقبال ) 36ویں سالانہ بابا بلھے شاہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ محققین لکھتے ہیں کہ معاشرہ جو انصاف کرتا ہے وہ عدالت نہیں کرسکتی۔ بابا بلھے شاہ نے اپنے کلام کے ذریعے معاشرے کی ایسی تشریح کی جو آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ آج ہم جن مشکلات کا شکار ہیں، ان پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ہم صوبوں کا تجربہ چار بار کرچکے ہیں، اب جب صوبوں اور اختیارات کی تقسیم کی بات آتی ہے تو ضلعی سطح پر فنڈز کی تقسیم کی بات کردی جاتی ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ اگر اب فنڈز کی تقسیم کا فیصلہ ہونا ہے تو ماضی کی محرومیوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جب بھی تبدیلی کی بات ہوتی ہے تو خدشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کہیں تبدیلی کے نام پر کوئی غلط قدم نہ اٹھا لیا جائے۔ صوبوں کے معاملے پر کھل کر بحث ہونی چاہیے اور اسمبلی، یونیورسٹیوں سمیت تمام فورمز کو اس بحث کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ کیا چھوٹے یونٹس بنانے سے واقعی بہتری آئے گی، اس پر سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا، بابا بلھے شاہ نے اس کیفیت کی نشاندہی بہت پہلے اپنے کلام میں کردی تھی۔ ہمارے ہاں اسمبلی چلانے کے قوانین آج بھی 18ویں صدی میں رکے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ڈی سی کے پاس زیادہ اختیارات ہیں جبکہ اسمبلی میں بیٹھا وزیر بے اختیار نظر آتا ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں بابو کی سرداری سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں حقیقی بہتری کے لیے سول سروس ریفارمز لانا ناگزیر ہے۔ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر حکمرانی کا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بابا بلھے شاہ کے افکار اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بلھے شاہ یونیورسٹی کا قیام ہمارا فرض ہے تاکہ ان کے علم، فکر، انسان دوستی اور معاشرتی شعور کو ایک مستقل علمی ادارے کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی آئین اٹھا کر دیکھ لیں، اس میں بابا بلھے شاہ کے کلام کے پیغام کی جھلک نظر آئے گی۔ بلھے شاہ نے صدیوں پہلے جن انسانی، سماجی اور اخلاقی اقدار کی بات کی، وہ آج بھی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button