جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو بڑی پیشکش، 70 سالہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت

سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو باضابطہ طور پر کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ روک کر براہ راست مذاکرات شروع کریں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے باقاعدہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہوسکے۔جنوبی کوریا کے صدر نے جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی سے کوریا کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دی۔صدر لی جے میونگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ترک کرکے طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست فریقین کی حیثیت سے مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔دونوں کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں۔ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کا اختتام مکمل امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی کے معاہدے پر ہوا تھا۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود باضابطہ طور پر جنگ کا خاتمہ نہیں ہوا۔جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں توسیع روکنے کے مؤثر طریقوں پر بھی بات کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق بات چیت کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ایک مستحکم امن کی بنیاد رکھنا ہونا چاہیے۔



