Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی
Trending

روس نے ایک بار پھر کیف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کردیا،کئی ہلاکتیں

کیف: روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ 34 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے چند گھنٹے قبل ہی روس کی جانب سے ایک بڑے حملے کا انتباہ جاری کیا تھا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی حملے جمعرات کی صبح کیے گئے، جن میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیف کے تقریباً تین درجن مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد رہائشی عمارتیں، تجارتی مراکز اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا۔دوسری جانب کیف کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق حملوں میں 34 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نو منزلہ رہائشی عمارت میں کئی افراد ملبے تلے پھنس گئے، جبکہ ایک بلند و بالا اپارٹمنٹ عمارت کا بڑا حصہ براہ راست میزائل لگنے سے منہدم ہو گیا۔یوکرینی فضائیہ نے حملے کے دوران خبردار کیا تھا کہ روسی بیلسٹک میزائل تیزی سے کیف کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس کے بعد شہر بھر میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور ہزاروں شہری زیرزمین میٹرو اسٹیشنوں اور پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے۔عینی شاہدین کے مطابق حملوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ امدادی اداروں اور فائر فائٹرز نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔حملے سے چند گھنٹے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آئرلینڈ کا دورہ مختصر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق روس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ فضائی حملے کے الرٹس پر فوری عمل کریں اور اپنے اہل خانہ خصوصاً بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔زیلنسکی نے روس پر الزام عائد کیا کہ ماسکو جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں اور مسلسل جارحیت کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق یوکرین مذاکرات کے لیے مختلف سفارتی ذرائع استعمال کر رہا ہے، لیکن روس مثبت پیش رفت پر آمادہ نہیں۔ادھر حملوں کے دوران پڑوسی ملک پولینڈ نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے لڑاکا طیارے فضا میں بھیجے، تاہم بعد ازاں حکام نے بتایا کہ پولینڈ کی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی ریکارڈ نہیں ہوئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ شہری علاقوں پر حملوں سے انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button