
امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ریکیٹ کے سرغنہ جیفری ایپسٹین سے متعلق مقدمات میں جین ڈو 4 کے نام سے شناخت رکھنے والی خاتون منظر عام سے غائب ہوگئیں۔ یہ خاتون وہی ہیں جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔خاتون نے ایف بی آئی کو 2019 میں 4 مرتبہ انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 1980 کی دہائی میں جب میری عمر 13 سے 15 برس کے درمیان تھی تو جیفری ایپسٹین نے جنسی استحصال اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جنسی زیادتی کی۔تاہم ان الزامات کے حق میں اب تک کوئی عدالتی ثبوت یا باضابطہ فردِ جرم سامنے نہیں آئی البتہ خاتون کی حفاظت کے پیش نظر ایف بی آئی نے شناخت خفیہ رکھی اور اصل نام کے بجائے کوڈ ورڈ جین ڈو 4 بطور نام دیا۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اگر ان دعوؤں میں کوئی حقیقت ہوتی تو سابق صدر جو بائیڈن کی وزارتِ انصاف ان پر کارروائی ضرور کرتی۔ادھر ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ایپسٹین کیس سے متعلق جاری ہونے والی دستاویزات نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مکمل طور پر بے گناہ ثابت کر دیا ہے۔



