Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے !

آپ جانتے ہیں کہ نیا ہجری سال شروع ہوچکا ہے لیکن ہمارا ہجری سال اس طرح آغاز نہیں ہوتا جس طرح عیسوی سال شروع ہوتا ہے۔ عیسوی سال تو رامش و رنگ سے منایا جاتا ہے لیکن ہمارا ہجری سال غم و اندوہ سے منایا جاتا ہے اور غم اس سید الشہداء کی شہادت اور قربانی کا ہوتا ہے جس نے اپنے اور اپنے کنبہ کے سر کٹا کر اپنے نانا کے دین کو بچالیا!سید الشہداء حسینِ معظم اور مظلوم کی قربانی کو ہم کیوں کہتے ہیں کہ وہ دین کی امان بن گئی؟اس سوال اور اس سوال میں پوشیدہ رمزو حکمت کو سلطان الہند، خواجہ غریب نواز نے کیا خوب بیان کیا ہے:
سر داد نہ داد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الہٰ است حسین
سید الشہداء کا جہاد یزید اور اس کی یزیدیت کے خلاف یوں تھا کہ وہ مسلمانوں کا قائد بن بیٹھا تھا جو کسی طرح سے بھی اپنے کردار اور افعال کی بنیاد پر اس کا اہل نہیں تھاکہ وہ مسلم امہ کا خلیفہ بنے اور مسلمانوں کی قیادت کرے!
آج جب ہم پندرہویں صدی ہجری کا تقریبا” نصف گذار چکے ہیں ہمارے وطنِ عزیز (جسے میں وطنِ مرحوم کہتا ہوں اور میرے پاس یہ کہنے کیلئے ناقابلِ تردید وجوہ بھی ہیں) پاکستان کا بھی من و عن وہی عالم ہے جس میں وہ اقتدار پر قابض ہیں جو نہ اس کے اہل ہیں کہ پاکستان کی قیادت کریں نہ ہی انہیں پاکستانی قوم نے اس منصب و افتخار کیلئے منتخب کیا تھا!لیکن یزیدی داستان پوری شان و شوکت کے ساتھ دنیا کی واحد ایٹمی طاقت رکھنے والی مسلم ریاست میں دہرائی جارہی ہے اور جس طرح سید الشہداء کو اور ان کے قدسی گھرانے کو یزیدیت کے خلاف آواز اٹھانےاور جہاد کرنے پر شہید کیا گیا تھا اسی طرح آج کے یزیدی مقبوضہ پاکستان میں بھی ان حق پرستوں کو عقوبت کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو پاکستان پر مسلط کردہ یزیدی راج کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں اور ان حق پرستوں کے رہنما اور قائد، عمران خان کو قیدِ تنہائی میں یزیدی عقوبت کا نشانہ اس حد تک بنایا جارہا ہے کہ نہ صرف عمران کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کئے ہوئے تین سال ہونے کوآرہے ہیں بلکہ یزیدیت اس حد تک گرچکی ہے اور اخلاقی دیوالیہ پن کا اس حد تک شکار ہوچکی ہے کہ عمران کی بہنوں کو بھی اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں ہے !آج کی پاکستانی یزیدیت بھی اپنے آپ کو کسی احتساب یا مواخذہ سے اسی طرح مستنثنیٰ سمجھتی ہے جس طرح یزید اپنے آپ کو ہر قانون سے بالاتر سمجھتا تھا!یزید تو اپنے وقت میں کسی کو جوابدہ نہیں تھا نہ ہی اسے کسی سرپرستی کی حاجت تھی لیکن ہمارے پاکستانی یزیدی قوم کے دشمن ہونے کے ساتھ ساتھ ملت فروش بھی واقع ہوئے ہیں اور ان کی ملت فروشی کا کعبہ وہی واشنگٹن ہے جو ہمارے طالع آزماؤں کا آج سے نہیں بلکہ گذشتہ ستر برس سے قبلہ و کعبہ بنا ہوا ہے !ہمارے یزید، خود ساختہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ گمان ہے کہ جب تک وہ اپنے امریکی آقا کے وفادار ہیںان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ کا دستِ شفقت ان کے سر پر چھتر چھایا بنا ہوا ہے اس وقت تک عاصم منیر کو یقین ہے کہ وہ ہر احتساب سے بری ہیں ! رہ گئی پاکستانی قوم تو اس کا گلا انہوں نے اپنی دانست میں اس حد تک گھونٹ دیا ہے کہ اب اس کے حلق سے صدائے احتجاج تو کجا کوئی ہلکی سی سسکی بھی نہیں نکل سکتی !اسی گھمنڈ، اسی زعم میں انہوں نے عمران خان کو اپنے انتقام کا نشانہ بنایا ہوا ہے اور اس سیاہ کرتوت میں یہ طالع آزما ہر اخلاقی اور انسانی قدر کو اپنے پیروں تلے روند رہا ہے۔ اس کا عمل دیکھ کر تو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا اس بزعمِ خود حافظِ قران کو موت پر یقین نہیں ہے کہ ایک دن اسے بھی موت آنی ہے، دنیا کے ہر فانی انسان کی مانند، اور اگر اسے مرنے کا اعتبار بھی ہے تواس کے ساتھ ساتھ کیا یہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ مرنے کے بعد اسے اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے؟خود ساختہ فیلڈ مارشل کے رویہ سے تو یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ اس کو صرف اور صرف ایک ہی فکر لاحق ہے اور وہ یہ کہ اس کا ارضی خدا، صدر ٹرمپ، اس سے ناراض نہ ہوجائے اور اپنا دستِ شفقت اس کے سر سے نہ ہٹالے!اپنے ارضی خدا کی رضا کیلئے اس نے پاکستان کیلئے ایران- امریکہ جنگ میں ثالثی یا ایلچی کا کردار ادا کرنے کی سعی کی اور اس میں یہ کامیاب رہا!پاکستان کی کامیابی کا راز کوئی عاصم منیر یا اس کے گماشتہ، محسن نقوی کے نابغہء روزگار ہونے میں مضمر نہیں ہے بلکہ اس میں پاکستان کے جغرافیہ کا چمتکار ہے کہ پاکستان اور ایران نو سو کلومیٹر سے زیادہ ہی لمبی زمینی سرحد کے مالک ہیں اور پاکستان کو ثالثی کا جو کردار بغیر کسی کاوش کے مل گیا اس میں ایران کے پڑوسی ہونے کا عنصر غالب تھا اور ہے نہ کہ عاصم منیر کے جینئیس ہونے میں یا اس کے گماشتہ محسن نقوی کے کسی انوکھے ادراک کا!ایرانی قیادت کو اپنے کسی قریبی (جغرافیہ کے لحاظ سے) خلیجی عرب ملکوں پر بھروسہ نہیں تھا اور ہوتا بھی کیسے کہ خلیج کے تیل کی دولت سے مالا مال عرب امارتیں اور ریاستیں سب کی سب، بلا استنثیٰ، امریکہ کی حلیف نہیں بلکہ غلام ہیں اور ہر ملک نے اپنی سرزمین پر، بہ رضا و رغبت، سامراجی طاقت کے جنون میں مبتلا، امریکہ بہادر کو فوجی اڈے قائم رکھنے کی سہولت دی ہوئی ہے اگرچہ حالیہ ایران-امریکہ تصادم میں اگر کسی خلیجی عرب حکمراں کو یہ گمان تھا کہ امریکہ اسے حملوں یا جارحیت سے اسلئے محفوظ رکھے گا کہ اس کے فوجی اڈے اس کی سرزمین پر ہیں تو یہ وہم بھی زائل ہوگیا اسلئے کہ امریکہ نے اپنے عمل اور پالیسی سے ہر خلیجی ملک کو یہ باور کروادیا کہ امریکہ کی فوجی اور عسکری طاقت صرف اور صرف صیہونی اسرائیل کے دفاع کیلئے وقف ہے !پاکستان کے عسکری طالع آزماؤں کے ضمن میں بھی ایران کو کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ ایرانی قیادت سورج کی روشنی کی مانند اس حقیقت کا بھرپور ادراک رکھتی ہے کہ پاکستان کے طالع آزما جرنیل امریکہ کے غلام ہیں، ستر برس سے، اور عاصم منیر تو اس غلامی میں اپنے ہر پیشرو سے دو ہاتھ آگے ہے !عاصم منیر کی تاریخ یہ ہے کہ اس کو نا اہل پایا گیاتھا پاکستانی ملٹری کمیشن کیلئے جس کے ذریعہ فوج کے افسر کا انتخاب ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم کی بدنصیبی سے یہ نااہل کسی ٹریننگ اسکول کے راستے سے، جو اب برسوں سے بند کردیا گیا ہے، کاکول کی ملٹری اکیڈیمی میں تربیت کیلئے چور راستہ سے پہنچ گیا۔ یہ جعلسازی سے پاکستانی فوج کا سپہ سالار بنا ہے اسلئے کہ یہ اس منصب پر فائز ہونے سے تین دن پہلے فوج سے ریٹائر ہوچکا تھا لیکن، پھر وہی پاکستانی قوم کی بدنصیبی، کہ یہ جعلساز پاکستان کے رسوائے زمانہ چور "شریف” خاندان سے ساز باز کرکے پاکستان کی فوج اور پوری قوم پر مسلط ہوگیا!اس کے گماشتہ، محسن نقوی، کی تاریخ اس سے بھی بدتر ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ کارندہ کہاں سے آیا؟ اس کا کیا ماضی ہے؟ لیکن واقفِ حال جانتے ہیں اور ان کا اغلب گمان یہی ہے کہ یہ رسوائے زمانہ سامراجی خفیہ ایجنسی کا تربیت یافتہ ہے جسے منصوبہ کے تحت پاکستان میں رسائی دی گئی ہے اور مسندِ اقتدار پہ بٹھایا گیا ہے!محسن نقوی کی شان یہ ہے کہ وہ ہر ملاقات میں اپنی آستینیں چڑھاکر بیٹھے نظر آتے ہیں، بالکل اس طرح جیسے کٹھ پتلی وزیرِ اعظم نامی چور شہباز شریف کو یہ تمیز نہیں ہے کہ سفارتی ملاقاتوں میں قائدین کالے یا نیلے سوٹ پہنتے ہیں جبکہ یہ چھٹ بھئیا ہمیشہ ہلکے رنگ کے سوٹ میں ملبوس ہوتا ہے!اب یہ ہماری زیادتی ہے کہ ہم ایک لوہار کے لونڈے سے سفارتی نزاکتوں کا لحاظ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ یزید عاصم منیر کی کٹھ پتلیاں ہیں جنہیں وہ اپنی سہولت کیلئے اسٹیج پر نچا رہا ہے لیکن پردے کے پیچھے سے ان کی ڈوریاں ہلاتا رہتا ہے اور انہیں استعمال کرتا رہتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ خود اپنے امریکی سامراجی آقا کے اشاروں پہ ناچتا ہے !تو اب ہم یہ مناظر دیکھ رہے ہیں، ٹی وی کے پردے پر، کہ سوئٹزرلینڈ میں برگن اسٹوک کے مقام پر ایران اور امریکہ کے درمیان جو امن مذاکرات ہورہے ہیں اس میں پاکستان کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟یزید عاصم منیر قافلۂ سالار ہے اور اس کے گماشتوں میں آگے آگے کٹھ پتلی شہباز شریف ہے، محسن نقوی سامراجی مفادات کا گماشتہ ہے اور وہ بھی نمایاں ہے جس کے دادا نے آج کی پاکستانی عدلیہ کے اخلاقی زوال کی پہلی اینٹ رکھی تھی، یعنی رفیق تاڑر کا پوتا عطا اللہ تاڑر!یہ ہیں وہ سامراجی کٹھ پتلیاں جو اپنے آقا کی خوشنودی کیلئے پاکستان کی حمیت اور غیرت کو صرف اپنے ذاتی مفادات کےفروغ کیلئے نیلام کر رہی ہیں۔مرحوم محسن بھوپالی نے پاکستان کے پہلے عسکری طالع آزما اور آمر ایوب خان کے عہد میں جو شعر کہا تھا وہ آج کے بدقسمت پاکستان کی ایسی ہی سچی تصویر کشی کر رہا ہے جیسے ایوب کے دور میں:
نیرنگیء سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
وہ فوج جو ستر برس سے پاکستان کی مالک و مختار بنی ہوئی ہے اس کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار نہیں تھا لیکن وہ پاکستان پر ایسی قابض ہوئی کہ آجتک قوم کا گلا نہیں چھوڑ رہی ہے ۔ اس سیاہ عمل میں وہ آدھا ملک تو اپنے سیاہ کرتوت سے گنوا چکی۔ بچے کھچے پاکستان پر بھی نزع کا عالم طاری ہے۔ دیکھئے کب تک کی زندگی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ کو اس بدنصیب قوم پر رحم آجائےاور کوئی معجزہ ہو کہ ان یزیدیوں سے جان چھوٹے !ہم سید الشہدا سیدنا حسین (ع) کی لافانی قربانی کا سوگ مناتے ہوئے اپنے اللہ کی بارگاہ میں کمال عجز و نیاز سے یہی دعا کرسکتے ہیں کہ وہ ملک جو اللہ کے نام پر بنا تھا مالکِ کائنات اس کی ان یزیدیوں کی ملت فروشی کے خلاف حفاظت فرمائے !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button