Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

فوج حکومت کے لیے کیوں موزوں نہیں؟

کچھ حالیہ دنوں میںپاکستانی اپنی فوج کی سیاسی شعبدہ بازیوں پر سوال کھڑے کر رہے ہیں کہ فوج کیوں سیاست میں مداخلت کر رہی ہے؟ جب کہ مانتی بھی نہیں۔ شہریوں میں فوج کی کچھ حرکات سے اس کے خلاف تاثر بن رہا ہے جو پاکستانیوں کے مزاج کے بالکل خلاف نظر آتا ہے۔ کیا فوج اس تاثر سے واقف ہے؟
راقم نے اے آئی سے پوچھا کہ کیا ایک منظم اور کار گذار فوجی حکومت پاکستان کے لیے بہتر ہے؟ جواب ملا، یہ بالکل علیحدہ سوال ہے، بمقابلہ کہ ایسی حکومت بالآخر ملک کے لیے بہتر ہوتی ہے یا نہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ فوج بنائی کس لیے جاتی ہے؟ قومی حفاظت کے لیے، حفاظتی اقدامات کے لیے، مشکلات سے نبٹنے کے لیے، اور فیصلہ سازی میں احکامات اور کنٹرول کے لیے۔ کسی ملک کو چلانے کے لیے، مزید اہلیتیں درکار ہوتی ہیں۔جیسے اقتصادی انتظام، ٹیکس کی حکمت عملی، تعلیمی حکمت عملی، صحت عام کا انتظام۔ شہری منصوبہ بندی، آزاد عدلیہ، قانون سازی کا عمل، اور مخالف سیاسی قوتوں سے نبھائو کرنے کے کئے۔ان تمام عوامل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ، مفاہمت، عوامی جوابداری، اور ایسے طریقے اختیار کرنا پڑتے ہیں جو فوجی کمانڈ سٹرکچر سے فرق ہوتے ہیں۔لیکن فوجی حکومت کے طرفدار کہتے ہیں کہ فوج نظم و ضبط اور مراتب کاخیال رکھتی ہے۔فیصلہ عجلت سے کیے جاتے ہیں۔وہ سیاسی کمزوریوں سے زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔ اور سیاسی ہلچل میں وہ حالات پر جلد قابو پا سکتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ کچھ ملکوں نے فوجی حکومت کے دور میںاقتصادی ترقی بھی ہوئی اور انتظامیہ میں اصلاحات لائی گئیں۔پاکستان میں، فوجی حکومت کے حامی، اکثر اشارہ کرتے ہیں کہ ایوب خان اور پرویز مشرف کے دور میں نسبتاً حکومت میں استحکام رہا اور معاشی ترقی بھی ہوئی۔فوجی حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے فوجی حکومتوں کو کچھ بنیادی حدود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جیسے: فوجی حکومت کی طاقت کا سر چشمہ آئینی شق ہوتی ہے، جب کہ منتخب حکومت کی طاقت کا سر چشمہ عوامی ووٹ ہوتے ہیں۔عوامی حکومت کی طاقت کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے، اور وہ ہی اس حکومت کو ختم کر سکتے ہیں۔اس لے مقابلہ میں فوجی حکومت کو اس قسم کے عوامی دبائو نہیں ہوتے۔اور وہ عوام کو جوابدہ بھی نہیں ہوتے۔جدید دور کی معیشت چلانے کے لیے جو مہارتیں چاہیے ہوتی ہیںان میں کئی ایسے معاشی شعبوں میں چاہیئے ہوتی ہیں، جو فوجی تربیت سے باہر ہوتی ہیں۔ اداروں کی ترقی کا مسئلہ بھی ہے۔ طویل فوجی حکمرانی سے سیاسی پارٹیاں کمزور ہوتی ہیں، قانون سازی، مقامی حکومتیں اور شہریوں کے زیر اثر انتظامیہ بھی کمزور ہوتی ہیں۔حکومتوں کی تبدیلی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ فوجی حکومتوں میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ قیادت کیسے تبدیل ہو گی۔ اور شہریوں کو حکومت کب اور کیسے واپس ملے گی؟فوجی حکومت کئی ملکوں میں کی گئی ہے جیسے پاکستان، مصر، برما، تھائی لینڈ، اور چلی وغیرہ۔ ان سب کا تاریخی ریکاڑد ِملا جلاُ ہے۔ کچھ فوجی حکومتوں نے استحکام اور ترقی کے دور دیکھے جب کہ دوسروں نے اقتصادی ٹہرائو، سیاسی تشدد اور کمزور ادارے دیکھے۔دنیا میں کہیں بھی ایسا ثبوت نہیں ہے کہ فوجی حکومتیں با قاعدہ اور متواتر سول، جمہوری حکومتوں سے بہتر کام کرتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں پاکستانی فوج کو ملک کا سب سے مضبوط اور منظم ادارہ تسلیم کیا گیا ہے۔حتیٰ کہ اس کے بہت سے ناقدین بھی مانتے ہیں کہ یہ دفاع، لوجسٹکس، حادثات میں انتظام اور ادارہ کے نظم و ضبط میں یکتا ہے۔ لیکن، پاکستام کے طویل ا لمعیاد چیلنجز میں جیسے تعلیم، ٹیکس وصولیابی، اٖفزائش آبادی،برآمدات،صحت ،عدلیہ میں اصلاحات، اور مقامی حکومتوں کے معاملے ،جو جمہوری حکومتوں کے مسائل ہیں نہ کہ فوجی حکومتوں کے۔
پاکستان میں جو اصل بحث ہے ، وہ یہ نہیں کہ فوج بڑا منظم ادارہ ہے، بلکہ یہ کیا کوئی ادارہ اکیلا ، فوجی یا شہری، ایک پیچیدہ نظام کو بغیر مضبوط جوابدہ ،شہری اداروں کے چلا سکتا ہے؟
اس ساری بحث کا ماحصل یہ ہے کہ منظم ہونا اور بااثر ہونا اچھی خصوصیات ہیں لیکن بذات خود، ایک جدید ریاست کو موثر طریقے سے چلانے کے لیے کافی نہیں۔ ایک کامیاب، طویل المدت حکومت عموماً ایک وسیع اداروں ،ماحولیاتی نظام، منتخب حکومتوں،عدالتوں، سول اداروں، جو ایک دوسرے سے تعاون کے ساتھ، ایک یقینی آئینی ڈھانچے پرچلیں ۔ فوج، اس ڈھانچہ میں ایک اہم قومی ادارہے، لیکن کسی ریاست کو چلانے کے لیے ایک وسیع نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو عسکری وسائل نہیں دے سکتے ۔پاکستان میں ویسے بھی آئین نے فوج کو سیاست میں دخل دینے کی گنجائش نہیں رکھی۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم نے بھی فوج کو منع کیا تھا کہ سیاست میں عمل دخل نہ رکھے۔ لیکن قائد اعظم کے باقی فرمانوں کی طرح اس پر بھی عمل نہیں ہو۔پاکستان کے قیام کے تھوڑی دیر بعدمیجر جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر حکومت قائم کر لی۔جو 1958 – 1969 تک قائم رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایوب خان نے فوجی حکمرانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کافی بہتری کے کام کیے۔ جن میں قابل تعریف منگلا ڈیم تھا۔ اس کے بعد جو قابل ذکر ترقی ہوئی وہ1999-2008 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئی۔مثلاً ٹیلی کمیونیکیشن ، بینکاری، اور شاہرائوں کے شعبوں میں ترقی ہوئی۔متوسط طبقہ اور صارفین کی معیشت میں اضافہ ہوا۔زر مبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا۔ فوجی حکومتیں عموماً فیصلے تیزی سے کرتی تھیں، بڑے ترقیاتی منصوبے سیاسی رکاوٹوں کے بغیر نسبتاً جلد مکمل ہوتے تھے۔بیوروکریسی اور انتظامیہ زیادہ مرکزی انداز میں کام کرتا تھا۔بعض ادوار میںامن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ سیاسی بے چینی اور بد امنی میں وقتی کمی دیکھی گئی۔سرمایہ کاروں کے لیے استحکام کا تاثر پیدا ہوا۔فوجی حکومتوں نے امریکہ اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔ سرد جنگ اور نائن الیون کے بعد پاکستان کو قابل ذکر فوجی اور معاشی امداد حاصل ہوئی۔(اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ یہ حکومتیں لاتا بھی تو امریکہ ہی تھا)۔ان فوجی حکومتیں کے بہت سے منفی اثرات بھی تھے۔مثلاً جمہوریت کمزور ۔ بار بار فوجی مداخلت نے جمہوری اداروں کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیا۔ سیاسی جماعتیں مضبوط اداروں کے بجائے شخصیتوں کے گرد گھومتی رہیں۔منتخب حکومتوں کے ادوار ادھورے رہ گئے۔فوجی حکومت نے آئین کو معطل کر دیا (جو غداری کے زمرے میں آتا تھا)۔غیر منتخب اداروں کا کردار بڑھتا چلا گیا۔ آئینی اور سیاسی استحکام متاثر ہوا۔فیصلوں کا اختیار محدود افراد اور اداروں تک مرکوز ہو گیا۔پارلیمانی نگرانی اور عوامی جوابدہی کمزور ہوئی۔علاقائی محرومیوں کا دور چلا۔ 1969-1971 میں یحییٰ خان کے دورمیں، انتخابات ہوئے لیکن نتائج کے مطابق اقتدار منتقل نہیں ہوا جس سے شدید سیاسی بحران پیدا ہوا۔ جس کے نتیجہ میں بنگلہ دیش بن گیا۔اسلامائیزیشن کی پالیسیوں نے پاکستان کے قانونی اور سماجی ڈھانچے کو تبدیل کیا۔ ناقدین کے مطابق فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی پر پابندیاں عائد کی گئیں۔کئی فوجی ادوار میں معاشی ترقی کا ایک حصہ بیرونی امداد اورجغرافیائی سیاسی حالات پر وابستہ تھا۔ ٹیکس، اصلاحات، تعلیم اور گورننس کے بنیادی مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔بیشتر فوجی ادوار میں میڈیا پر سنسر شپ نافذ رہی۔ صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور اپوزیشن رہنمائوں کو مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا،( جن میں جیل کی صعوبتیں شامل تھیں۔)فوجی حکومت نے جو سب سے بڑا نقصان کیا، وہ مشرقی پاکستان کو علیحدہ کروا دیا۔ اس کی ابتداءایوب خان کے زمانے میں ہوئی جب امریکہ کے اشارے پر ذوالفقار علی بھٹو نے صدر یحییٰ خان کے ساتھ ملکر پاکستان کے انتخابات سے بننے والی حکومت نہیں بننے دی۔ اور مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا۔اس کے بیج ایوب خان نے بوئے جب مجیب الرحمنٰ کو اگر تلہ سازش کیس میں الجھایا گیا۔ اور اس طرح اس کو پاکستان سے علیحدگی کا راستہ بتایا گیا۔فوج نے بھٹو کو پھانسی لگا دی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کبھی سچ سامنے آئے۔پاکستانی فوج باوجودیکہ ایک بہترین منظم فوج ہے، لیکن ملک اس کے اخراجات کو پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ہر سال بجٹ سے پہلے فوجی جھڑپیں ہونا، خواہ دہشت گردوں سے خواہ دوسرے شر پسند عناصر سے، اور کبھی کبھار بھارت سے ۔یہ سب اس لیے کہ حکومت فوج کے بجٹ میں کٹوتی نہ کرے۔ حکومت پھر کٹوتی نہیں کرتی ، اور بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی ذرائع سے قرضوں پر قرضے لیتی ہے۔فوج کو معلوم نہیں کیوں سات لاکھ کی فوج کی ضرورت ہے جب کہ ملک ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ پاکستانی فوج کسی نہ کسی طور بھارت کا ہوّ۱کھڑا رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کے ٹولے بھی جو بوقت ضرورت کام آئیں۔ اور ایک مستقل فتنہ بلوچستان میں پال رکھا ہے جو بلوچستان آزادی لشکر ہے۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی جب ایک جعلی معرکہ کیا گیا۔ اور دو سو فوجیوں سے لدی گاڑی پر حملہ کروایا گیا۔ یہ سب مقابلے کروانے کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے کہ فوج کو جو چاہیئے وہ حکومت دے دے۔اگر فوج کو یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہ ہو تو اخراجات کم کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔لیکن فوج کے بڑوں کو اپنی چودھراہٹ کم کرنے سے ڈر لگتا ہے۔فوج غالباً اس حقیقت سے با خبر نہیں کہ اس کے اخراجات پاکستانیوں کو ڈبو رہے ہیں۔ ایک طرف تو قرضوں کے انبار لگ رہے ہیں، دوسری طرف جو ضروری شہری حقوق ہیں جیسے بچوں کی تعلیم، انسانی صحت، نو جوانوں کے لیے ٹیکنیکل اور ہنروں کی تربیت، سب گھاٹے میں ہیں۔ چھوٹے بچوں کو متوازن خوراک نہیں ملتی۔ حاملہ مائوں کو ضروری خدمات نہیں ملتیں۔ بیروزگاروں کو روزگار نہیں ملتے۔ بے گھروں کے سر پر چھت نہیں ملتی۔ ان سات لاکھ جوانوں کے لیے، پورے ملک کی ۲۶ کروڑ کی آبادی کی ضروریات کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔کیا یہ سب ٹھیک ہے؟ اپنے گریبان میں جھانکیئے اور اپنے ضمیر سے پوچھیے۔ہم اپنی فوج کی برائی نہیں کرتے ۔ اس فوج سے پیار کرتے ہیں، لیکن اس کی قیادت سے سوال ضرور کرتے ہیں کہ کیا وہ ان مسائل سے واقف ہے؟ اگر نہیں تو وہ فوج پاکستانیوں کی دوست تو نہیں ہو سکتی؟

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button