Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

محمد حفیظ خان کا ناول وبھاج !

وبھاج محمد حفیظ خان کا آٹھواں ناول ہے ۔ ناول کا عنوان قدرے غیر مانوس ہے، ایسا لگتا ہے کہ ناول نگار جان بوجھ کر کچھ چھپانا چاہتا ہے ۔لیکن ناول کے مندرجات باور کرا رہے ہیں کہ ناول نگار وبھاج میں کچھ چھپانا نہیں ،بلکہ کچھ زیادہ بتانا اور کچھ الگ سے دکھانا چاہتا ہے۔ غیر مانوس "وبھاج ” سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔جس کے ابتدائی معنی تقسیم ہونے والا،قابل تقسیم ، اسی طرح منقسم شخصیت اور تقسیم ذات کی الجھن میں مقید کردار ہو سکتے ہیں۔خود ناول نگار وبھاج کو معنوی اعتبار سے منقسم صنفی شناخت کا المیہ قرار دیتا ہے۔ منقسم صنفی شناخت حیاتیاتی بھی ہو سکتی ہے اور نفسیاتی بھی ،دونوں حالتوں میں ایسی الجھن میں مبتلا کردار حد درجہ اذیت میں زندگی گزارتا ہے ۔اذیت کی بنیادی وجہ سماج کی طرف سے اس کے منقسم صنفی احوال اور اس سے جڑے مسائل سے ناواقف اور لاتعلق ہونے اور رہنے کا وطیرہ ہے ۔جب کسی کے کرداری اوصاف اُسے معاشرے میں دوسروں جیسی سہولت کے ساتھ آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں ؛ تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر واپس اپنی ہی ذات کے اندھیروں میں پناہ لینے کی کوشش کرتا اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتا ہے ۔ہمارے جنوب ایشیائی معاشرے اور ماحول میں ترازو بردار لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان سے بچ پانا یا ان کو نظر انداز کر سکنا یا ان کے تول میں پورا اترنا ممکن ہی نہیں ہوتا ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں ناول وبھاج میں بیان کیئے گئے موضوعات پر بات کرنے،سننے یا ماننے کا رواج یا مزاج یا ذہنی تربیت نہیں ہے ۔چونکہ یہاں کے بیشتر لوگ ازخود بنے ہوئے منصف ہیں ،لہٰذا ان کا اولین مشغلہ اور ترجیح؛ انصاف کی نہیں ،مجرم کی تلاش رہتی ہے ۔یہ ناول پڑھنا مشکل ، سمجھنا دشوار اور سمجھانا ناممکنات میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔ہاں بہت کوشش کر کے رنج و کرب کی اس کیفیت کا اک اندازہ سا قائم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے ،جس سے منقسم صنفی شناخت کی اذیت میں مبتلا کردار گزرتے اور جیتے یا جینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔وبھاج اپنے مرکزی کردار جلال کے گرد گھومتا ہے۔ہاں گھومتا ہے لکھنا زیادہ موزوں معلوم ہو رہا ہے کیونکہ الم ناچ اس ناول کے کرداروں کے لیے غیر ارادی مگر متواتر عمل کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس غیرارادی الم ناچ یا رقص درد سے جلال کا باپ ، جلال خود اور اس کے بیشتر ہم مشرب و ہم کیفیت و ہمراز گزرتے رہتے ہیں۔ جلال اپنے بارے میں کیا سوچتا تھا؟ ۔ ۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو بین الجنس سمجھنے لگا تھا اُن جانداروں کی مانند جو اپنے آپ میں نر بھی ہوتے ہیں اور مادہ بھی اور اپنے تولیدی مراحل کے لیے خود کفیل ۔ خود ہی فاتح اور خود ہی مفتوح – جلال مردانہ صفات ہوتے ہوئے بھی جب کبھی نسوانی کیفیت کا اسیر ہو جاتا تو وقت کی اُس کڑی میں وہ اپنے آپ کو صنف سیال سمجھنے لگتا جس کی طبع اور مزاج وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ایک دو رخا مرد ہوتے ہوئے بھی جلال کو اس بات سے چڑ تھی کہ کوئی اُس کے باطن میں چھپی ہوئی عورت پر نگاہ رکھے یا اُس کی موجودگی کو بھانپ کر اُس کی صنفی شناخت کو متنازع کرے۔ شاید یہ اس کے اندر کبھی خوابیدہ اور کبھی جاگتی ہوئی عورت کا عمل یا رد عمل تھا کہ وہ دیگر عورتوں کی قربت سے دور بھاگتا تھا۔ ہو سکتا ہے خوف زدہ ہو کہ آس پاس کی عورتوں سے میل ملاپ کی صورت میں کہیں اُن کی ژرف نگاہی کی زد میں نہ آ جائے۔ جلال کے کردار کا ارتقاء اور اس ارتقاء کے مختلف مراحل کے بیان میں ناول نگار نے سماج کے تاریک حاشیوں میں چھپے کرداروں کے تعارف ، تفصیل اور بیان کے لیے حد درجہ غیر مانوس لفظیات کا جال بنا ہے۔اس جال میں پھنسے معنی میں سے جو کچھ بھی پڑھنے والے کے ہاتھ آ جائے ، اسی کو غنیمت سمجھنا چاہیئے ۔لیکم ، چڈھالیکم، اڑیل لیکم ،چامکا ،دھورکل سیگا ، گریے ،اکھوا اور مورت ایک خاص مگر معیوب طبقے کی زیر استعمال لفظیات میں سے چند ایک ہیں ۔وبھاج میں حفیظ خان نے سماج کے بلیک ہول کی نظر ہو جانے والے ، اس بلیک ہول میں گرائے جانے والے اور بہ رضا و رغبت گرنے والے کرداروں کی نفسیاتی و حیاتیاتی جزییات نگاری میں بڑی مہارت کا ثبوت دیا ہے ۔وبھاج انارا نام کی ایک فلسطینی مہاجر لڑکی کا الم نامہ بھی ہے ۔وہ میڈیکل کی طالبہ کے طور پاکستان آتی ہے اور میڈیکل کالج کا حصہ بنتی ہے ۔یہی دور جنرل ضیاء الحق کی طرف سے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف مکارانہ بغاوت اور مارشل لاء کے نفاذ کا بھی ہے ۔ اُردن میں بطور برگیڈیئر پوسٹنگ کے دوران فلسطینیوں کے قتل عام کے مابعد اثرات جنرل ضیاء الحق کی نفسیات کا لازمی حصہ بن کر اس کی شخصیت پر چپک چکے تھے ۔اس اذیت کی حدت پاکستان میں تعلیم کی غرض سے آنے والے فلسطینی طالب علموں نے مسلسل محسوس بھی کی اور برداشت بھی ۔انارا ایک مقام پر جلال کی زندگی میں داخل ہوتی ہے اور اپنی منقسم نفسیاتی کیفیات کے درد کا درماں تلاش کرنا چاہتی ہے۔اس کی سب سے بڑی خوبی جلال کے نفسی اور حیاتیاتی انحرافات کو سمجھنا اور برداشت کرنا تھا۔اپنے حصے کی تمام اذیتیں برداشت کرنے کے بعد وہ تہی دامن ، بجھے دل اور خالی دماغ کے ساتھ بمشکل اس ملک سے نکل جانے کی راہ پاتی ہے ۔انارا کے ساتھ اس ناول میں تقریباً وہی کچھ ہوا ، جو تحریک آزادی فلسطین کے ساتھ ہوا تھا۔جلال شہر کی تاریک ، بدبودار اور ناقابل تسلیم دنیا کا حصہ بھی بنتا ہے۔جلال کو وہاں شہروں کی روشن زندگیوں کی متبادل تاریکیوں کے احوال اور مطعون کرداروں کے افعال و اعمال سے بھی آگہی ملتی ہے ۔اسے اس پر قابض ہیجڑا بتاتا ہے کہ؛ "ہم جیسے لوگ دن میں چھپتے ہیں، رات کو سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ خریدار ہمیں دیکھ کر ہنستے بھی ہیں اور خریدتے بھی ہیں۔ صبح ہونے پر وہی لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں لیکن رات کے اندھیرے میں ہمارے قدم ڈھونڈتے اور چومتے ہیں۔ آج بھی ایک بیگم صاحبہ نے گلبرگ مین مارکیٹ کے اندھیرے کونے میں گاڑی کا شیشہ نیچے کرنے کے بعد میرا لیکم ٹٹول کر محسوس کیا اور جب یقین ہو گیا کہ میں چڈھا لیکم ہوں تو صرف اپنا کہہ کر ساتھ لے گئی مگر وہاں دو بیگمات اور بھی تھیں۔ مجھے ٹیکہ لگا کر پانچ گھنٹے خوب روندا، نچوڑا لیکن جب ٹھپر دینے کی باری آئی تو پچاس روپے دے کر گھر سے نکال دیا۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ کھدڑے کرمنل ہیں ۔ کل بھی ایک چامکا مجھے مورت بنا کر ساتھ لے گیا مگر وہاں جب اُسے محسوس ہوا کہ میں چڈھے کے ساتھ ساتھ اڑیل لیکم بھی ہوں تو فوراً چامکے سے دھورکل سیگا بن گیا۔ کوئی ہم سے تو پوچھے کہ یہ چامکے اور گریے جو مرد بن کر سارا دن مونچھوں کا تاؤ دیتے رہتے ہیں اور ہمیں ہیجڑا بولتے ہیں، رات کو خود ہیجڑے بن کر ہم اکھووں کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ ہم ان کی بھی پوری کریں اور ان کی بیگمات کی بھی ۔۔۔۔میری بات پلے باندھ لو، ہم اکھوے من کے ہیجڑے ہیں ، تن کے نہیں اور یہ چٹے کپڑے اور اونچی پگ والے عزت دار من کے مہاتما اور تن کے ہیجڑے ہیں۔ اگر ہم اکھوے نہ ہوں تو ان کی اگلی نسلیں کون پیدا کرتا… ۔ جلال کو غلاظت کے اس گڑھے سے شبنم نامی ایک متمول خاتون نکالتی اور پناہ دیتی ہے۔ شبنم سامنے بیٹھے بظاہر محو مطالعہ جلال کو اپنے احساس میں شریک کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ ہم دونوں ایسے وجود ہیں جن کی خواہشیں جسم کے تصادم سے نہیں جڑتیں۔ ہم ایسے چراغ ہیں جن کی لو جسم کی حرارت سے نہیں جلتی بلکہ ایک دوسرے کے سایے اور احساس اشتراک سے زندہ رہتی ہے۔ معاشرہ ہمیں ادھورا سمجھے تو سمجھے کیونکہ اس کے پیمانے پر صرف مکمل جسم اور روایتی جنسی فعل ہی پورا اترتا ہے۔ مگر ہم دونوں کے لیے شناخت کا معیار کچھ اور ہے۔ ہمارا ادھورا پن کسی کمی کا خلا نہیں بلکہ ہماری مرضی کا انتخاب ہے، یہی سچ ہمیں مکمل کرتا ہے۔ ہم لمس سے محروم نہیں بلکہ لمس سے بے نیاز ہیں۔ کیونکہ ہماری قربت کا فلسفہ جسم کی دیوار میں نہیں ، روح کی روشنی میں ہے۔“ ناول وبھاج کے تین سو تین صفحات پر لفظوں کا فونٹ چھوٹا کر کے اس میں چھ سو چھ صفحات کا متن قید کر دیا گیا ہے ۔اس متن کے معنی کو سمجھنا مشکل اور برداشت کرنا تکلیف دہ معلوم ہوتا ہے۔ حفیظ خان نے ایسا ناول کیسے اور کیوں لکھ لیا ،اس پر علحدہ سے تحقیق ہونی چاہیئے۔ حفیظ خان کی بے لحاظ حقیقت نگاری کو اگر ظلم نگاری اور قہر شماری قرار دیا جائے تو بھی ٹھیک ہو گا۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ناول میں مذکور کسی بھی مستور کا پردہ باقی نہیں رکھا گیا۔اس ناول کے اختتام پر ناول نگار نے متن اور معنی کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے کہ۔’’ یہ تمدن اپنے افراد کو اُسی کھانچے میں دیکھنا چاہتا ہے جو اُس نے جوڑ رکھا ہے، جو اس سے باہر نکل کر من مرضی کرنا چاہتے ہیں، یہ انھیں نگل لیتا ہے ‘‘پر میں سوچتا ہوں کہ،کسی بھی تمدن کی تشکیل بھی تو خود انسان ہی کرتے ہیں۔کوئی ایک انسان یا ایک ہی طرح اور طرز کے انسان نہیں ،بلکہ ہر طرح کے انسان مل کر تمدن کی تشکیل کرتے ہیں ۔روایت ، رسم ، تواتر اور دیگر معاشرتی مسلمات و مروجہ اخلاقیات کو توڑنا بعض اوقات مشغلہ، بسا اوقات مجبوری اور کبھی کبھی بے اختیاری بھی بن جایا کرتی ہے۔انسان کی سرشت اطاعت نہیں ،بغاوت اور سرکشی ہے۔اگر انسان تمدن کے جوڑ رکھے کھانچے میں رہنے پر طبعاً یا فطرتاً آمادہ و تیار ہوتا تو پھر اتنے اوپر نیچے رکھے مذاہب کی کیا ضرورت تھی۔یہ بھی جدا جدا ماحول اور الگ الگ ضروریات کے تحت تشکیل دیئے گئے کھانچے ہی تو تھے۔یہ سارے ٹوکرے اگر مرغ اور مرغیوں کے لیے بنائے گئے ہوتے تو ٹھیک رہتا،مگر انسان تو ایک دوسرے سے اتنے مختلف اور مزاجاً اور عادتاً متحارب ہوتے ہیں کہ انہیں ایک ہی ٹوکرے میں اکٹھے رکھنے کی کوشش یا خواہش کرنا محض نادانی اور اسی لیے رائیگانی شمار ہوتی ہے ۔اور شاید یہی سبب ہے کہ اپنے بنائے دائرے کی حدود سے نکل کر من مرضی کرنے والوں کو تمدن نامی یہ عفریت نگل لیتا ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button