Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

کراچی کی سیاست: ایک خلا جو آج بھی سانس لیتا ہے

کچھ شہر صرف نقشے پر نہیں ہوتے، وہ لوگوں کے سینوں میں بھی بستے ہیں۔ کراچی ایسا ہی شہر ہے۔ یہ وہ زمین ہے جس نے ان لاکھوں انسانوں کو پناہ دی جو 1947 کے طوفان میں سب کچھ چھوڑ کر آئے تھے، صرف ایک خواب لے کر کہ یہاں ان کی آواز سنی جائے گی، یہاں ان کی شناخت کا احترام ہوگا، یہاں وہ اجنبی نہیں ہوں گے۔ مگر تاریخ نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کسی المیے سے کم نہ تھا۔جو مہاجر اس سرزمین پر آئے انہوں نے اس ملک کی بنیاد میں اپنا لہو ملایا۔ انہوں نے اُردو زبان کو قومی شناخت کا حصہ بنایا، بیوروکریسی سنبھالی، تجارت کی رگیں روشن کیں اور ایک نئی ریاست کو قدموں پر کھڑا کرنے میں اپنی جوانیاں لگا دیں۔ کوئی اقربا پروری نہیں کی میرٹ کا اصول اپنایا، مگر آہستہ آہستہ وہی ریاست انہیں اجنبیوں کی نگاہ سے دیکھنے لگی۔ کوٹہ سسٹم نے ان کے بچوں کے دروازے بند کیے، سرکاری ملازمتوں میں ان کی جگہ سکڑتی چلی گئی اور سیاسی نمائندگی کا سوال ایک کھلے زخم کی طرح ہر انتخاب میں تازہ ہوتا رہا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک نوجوان الطاف حسین نے کراچی کی گلیوں میں وہ آواز بلند کی جو لاکھوں دلوں میں دبی پڑی تھی۔ 1978 میں اے پی ایم ایس او اور پھر 1984 میں ایم کیو ایم کا قیام کوئی سیاسی کھیل نہ تھا، یہ ایک اجتماعی چیخ تھی جو تنظیم کی شکل اختیار کر گئی۔1988 سے لے کر کئی دہائیوں تک کراچی اور حیدرآباد کے بیشتر حلقوں میں ایم کیو ایم نے جو انتخابی طاقت دکھائی وہ محض تنظیمی مہارت کا نتیجہ نہ تھی، وہ طاقت اس یقین سے پیدا ہوئی تھی کہ پہلی بار کسی نے ان کی تکلیف کو نام دیا، پہلی بار کوئی ان کا اپنا بول رہا تھا۔ ناقدین نے ہمیشہ اس جماعت پر تشدد اور لسانی سیاست کے الزامات لگائے اور یہ الزامات بعض اوقات حقیقت کی چھاؤں سے بالکل خالی بھی نہ تھے، مگر ایک سوال جو ناقدین کبھی نہ پوچھ سکے وہ یہ تھا کہ جب ایک طبقے کو ریاست ہی تشدد کی زبان میں جواب دے تو وہ کون سی زبان بولنا سیکھتا ہے، اور جب نمائندگی کے دروازے بند ہوں تو کیا احتجاج ہمیشہ پھولوں کی زبان میں ممکن ہے؟اگر ایم کیو ایم واقعی ایک دہشت گرد تنظیم تھی تو وہ آج تک کراچی کے عوام کے دلوں میں زندہ کیوں ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ چار دہائیوں سے نہیں دے سکی۔ 1992 میں آپریشن کلین اپ کا آغاز ہوا، رینجرز کے بوٹ شہر کی گلیوں میں اترے، نائن زیرو کو گھیرا گیا اور کارکنوں کو اٹھایا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1996 میں دستاویز کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کی بڑی تعداد لاپتہ ہوئی یا طویل عرصے تک انکمیونیکیڈو حراست میں رکھی گئی اور ایسے افراد پر تشدد کا خطرہ بطور خاص زیادہ تھا۔ مگر جتنا دباؤ بڑھا اتنا ہی ووٹ بھی بڑھتا رہا۔ 2013 کا آپریشن آیا، 2016 کا نائن زیرو پر چھاپہ پڑا، الطاف حسین کو لندن میں محاصرے میں لیا گیا۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں میں اس کے دو سو سے زائد کارکنان لاپتہ ہوئے جن میں سے کچھ زندہ واپس آئے، کچھ کی ٹارچر زدہ لاشیں سندھ کے مختلف علاقوں میں ملیں اور بہت سے آج تک غائب ہیں۔ ستمبر 2025 میں بھی ایم کیو ایم کے سینئر رہنما نثار احمد پنہور اور انور خان ترین کراچی سے لاپتہ ہوئے اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر ہوئیں، نثار پنہور کے بیٹے نے بتایا کہ یہ اس کے والد کا پانچواں اغوا ہے، اور اس کے بعد باپ اور بیٹے کو بھی اٹھا لیا گیا جو تاحال غائب ہیں۔یہ اعداد و شمار نہیں، یہ زندہ انسانوں کی داستانیں ہیں۔ باپ بیٹوں کے سامنے اٹھائے گئے، بہنوں نے عدالتوں میں درخواستیں دیں اور رینجرز نے انہیں دھمکیاں دیں کہ ان کا نام ایف آئی آر میں مت لکھو۔ پھر بھی کراچی کا وہی طبقہ ہر بار ایم کیو ایم کے حق میں کھڑا ہوتا رہا۔ کیا یہ دہشت گردی کی محبت تھی؟ یا یہ اس درد کا اظہار تھا جو ریاست نے خود پیدا کیا؟تاریخ میں ایسے بہت کم رہنما ملتے ہیں جن کے خلاف ریاست کی پوری مشینری لگ جائے، جنہیں دہشت گرد قرار دیا جائے، جن کے ہزاروں کارکنوں کو قید کیا جائے یا غائب کیا جائے، جن کا ہیڈکوارٹر مسمار کیا جائے، جن کی آواز پر پابندی لگائی جائے، مگر پھر بھی ان کے نام پر لاکھوں آنکھیں نم ہو جائیں۔ الطاف حسین انہی رہنماؤں میں سے ہیں جن کے سحر کو آج تک توڑا نہ جا سکا۔ 2022 میں برطانیہ کی عدالت نے انہیں بری کیا اور یہ بریت صرف قانونی فیصلہ نہیں تھی، یہ ان لاکھوں لوگوں کے لیے ایک اخلاقی تصدیق تھی جو یہ مانتے تھے کہ الطاف حسین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ اگست 2025 میں جب انہوں نے تقریباً 47 برس کے سفر کے بعد اپنی جماعت تحلیل کی اور وجہ یہ بتائی کہ خاندان پر جبر جاری رہا، کارکنوں کو ستایا جاتا رہا، مہاجروں کے حقوق نہ مل سکے اور پاکستان کا سخت نظام نہیں بدلا تو یہ شکست کا اعلان نہ تھا، یہ ایک زخمی مگر باوقار انسان کی آہ تھی۔مگر اسی زخمی انسان کی طرف سے آج صلح کا ہاتھ بڑھا ہوا ہے۔ انہوں نے فوجی قیادت خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ باعزت اور ایمانداری پر مبنی مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، قومی مصالحت کا فارمولا پیش کیا ہے اور ماضی کی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ نئے سماجی معاہدے کی بات کی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی اپیل بھی کی، وہی فیلڈ مارشل جن کے ادارے نے دہائیوں تک ان کی جماعت کے کارکنوں کو اٹھایا۔ یہ تضاد نہیں، یہ ایک گہری سیاسی پختگی ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے سینکڑوں کارکنان لاپتہ ہوئے، جس کا دفتر گرایا گیا، جسے وطن سے ہزاروں میل دور جلاوطنی میں رہنے پر مجبور کیا گیا، وہ آج بھی صلح کی زبان بول رہا ہے۔ یہ کمزوری نہیں، یہ پاکستان سے ایک ایسی محبت کی علامت ہے جو تمام زخموں کے باوجود ٹھنڈی نہیں پڑی۔اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سامنے ایک تاریخی آئینہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ جس شخصیت نے امریکہ اور ایران کے درمیان صلح کرائی، جن کی ثالثی نے ایک ممکنہ جنگ کو روکا اور جن کا نام آج عالمی سطح پر امن کے حوالے سے لیا جاتا ہے، کیا وہ اپنے ہی ملک کے ایک محروم طبقے کے دلوں کا زخم نہیں بھر سکتے؟ ایم کیو ایم الطاف یہ نہیں مانگ رہے کہ فارم 47 کے ذریعے انہیں منتخب کرایا جائے، وہ درست جمہوری عمل کے تحت اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، وہ ریاست کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہتے ہیں، تو پھر یہ دوری کیوں؟ کراچی کے لاپتہ کارکنوں کو واپس لانا، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا اور شہری سندھ کے مظلوم طبقے کو جمہوری عمل میں برابری کی بنیاد پر شامل کرنا، یہ کام اگر اس دور میں ہوئے تو تاریخ اسے نوبل امن انعام سے بھی بڑے اعزاز سے نوازے گی۔میں نے چار دہائیوں کی صحافت میں یہ دیکھا ہے کہ سیاسی جماعتیں کمزور ہو سکتی ہیں، تقسیم ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ منظرنامے سے غائب بھی ہو سکتی ہیں، مگر وہ سوالات نہیں مرتے جو انہیں جنم دیتے ہیں۔ کراچی کا شہری آج بھی شناخت کے لیے لڑتا ہے، اُردو بولنے والے طبقے کا یہ احساس کہ فیصلے ان کے بغیر ہوتے ہیں آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا پینتالیس سال پہلے تھا، اور اگر ایک آواز کو خاموش کر دیا جائے تو وقت کے ساتھ کوئی دوسری آواز اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے سامنے آ جاتی ہے۔ قومیں صرف زخم گن کر آگے نہیں بڑھتیں ، ایک وقت آتا ہے جب مرہم رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔شاید وہ وقت آ گیا ہے۔ اور شاید تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوگا کہ جو ہاتھ پوری دنیا میں امن کا پیامبر بن کر ابھرا، اس نے اپنے ہی گھر میں پھیلے ہوئے ہاتھ کو تھامنے سے انکار کر دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button