Select Language:
Urdu / English / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

میک بفیلو گریٹ اگین : صدارتی معافی والا بھینسا !

امریکہ میں جب تھینکس گیونگ ڈے آتا ہے تو تقریباً ہر گھر کے باورچی خانے میں ٹرکی شطر مرغ پکتی ہے، خاندان میز کے گرد جمع ہوتے ہیں، تہوار منایا جاتا ہے اور اسی ایک دن لاکھوں شطر مرغ ( ٹرکیاں) خاموشی سے اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ مگر انہی لاکھوں میں ایک شطر مرغ ایسی بھی ہوتی ہے جسے ہر سال زندگی کا خصوصی استثناء عطا ہو جاتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پرانی روایت کے مطابق ایک منتخب شطر مرغ صدرِ امریکہ کے سامنے لایا جاتا ہے، صدر اس پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسے باقاعدہ معاف کر دیتا ہے اور یوں وہ باقی زندگی آرام و راحت میں گزارتا ہے۔ گویا امریکی جمہوریت کا سب سے کامیاب پرندہ وہی ٹھہرتا ہے جو پلیٹ میں سجنے کے بجائے صدارتی رحم کھا جائے۔اور اب شاید اسلامی دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک بھینسے کو بھی ٹھیک ویسی ہی صدارتی معافی نصیب ہو گئی ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہ وائٹ ہاؤس نہیں بلکہ بنگلہ دیش تھا، اور یہ شطر مرغ نہیں بلکہ ایک سفید بھینسا تھا جس کے ماتھے پر سنہرے بالوں کی ایسی لہراتی لٹ تھی کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا کہ یہ کسی باڑے کی پیداوار ہے یا واشنگٹن کی۔دراصل اس دنیا میں دو ہی مخلوقیں ایسی ہیں جن کے بال عالمی سطح پر موضوعِ گفتگو رہتے ہیں۔ ایک تو فلمی ہیروئنیں اور دوسرے ہمارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ فرق بس اتنا ہے کہ ہیروئنوں کے بالوں پر شیمپو کمپنیاں کماتی ہیں اور ٹرمپ کے بالوں پر پورا عالمی میڈیا۔ اب اس فہرست میں ایک تیسرا نام بھی شامل ہو چکا ہے، اور وہ بنگلہ دیش کا یہ بھینسا ہے۔موصوف سفید رنگ کے ہیں، عمر چار برس، وزن کوئی پندرہ سو پاؤنڈ، اور پیشانی پر وہ سنہری لٹ کہ دیکھنے والا یا تو کسی سیلون کا پتا پوچھے یا سیدھا وائٹ ہاؤس کا۔ مالک کے چھوٹے بھائی نے پہلی ہی نظر میں اسے ڈونلڈ ٹرمپ قرار دے دیا تھا۔ ہمارے ہاں لوگ بچوں کے نام بزرگوں اور اسلامی ہیروز پر رکھتے ہیں، بنگلہ دیش میں اب بھینسوں کے نام عالمی رہنماؤں پر رکھے جا رہے ہیں۔ ترقی شاید اسی کا نام ہے۔ہوا یوں کہ عیدالاضحیٰ قریب آئی تو بیچارے ٹرمپ نام والے بھینسے کو قربانی کے لیے فروخت کر دیا گیا۔ مگر پھر سوشل میڈیا نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو آج تک اقوامِ متحدہ بھی سرانجام نہ دے سکی۔ امریکہ کے میڈیا نے بھی بھرپور کوریج دی، اور اسکے فوٹو اخبارات کی زینت بنے کئی تصویروں میں تو اس نے اوپر کے ہونٹوں کو ایسا چڑھایا ہوا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسا کہ وہ ہمارے صدر کی نقل اتارتے کی ناکام کوشش کررہا ہے بنگلہ دیش میں لوگ میلوں دور سے صرف اس بھینسے کے بال دیکھنے آنے لگے ہیں، کسی نے تبصرہ کیا کہ یہ تو ٹرمپ کی ایشیائی شاخ ہے، کسی نے کہا کہ امریکہ اگر اسی طرح ٹیرف لگاتا رہا تو اگلا الیکشن یہی صاحب لڑیں گے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ اور اس بھینسے میں شاید صرف ایک ہی فرق تھا وہ یہ کہ یہ بھینسا ٹوئٹ نہیں کرتا۔پھر بات بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ تک جا پہنچی۔ کہ اگر اس بھینسےکو سلاٹر کردیا گیا تو عالمی میڈیا لکھے گا اور کہیں اصل ٹرمپ ناراض نہ ہوجائیں اس لیئے انہوں نے اس سے پہلے کہ ایساکیا جاتا وزیر داخلہ نے فوراً حکم صادر فرمایا کہ خریدار کو رقم واپس کی جائے اور بھینسے کو قومی چڑیا گھر منتقل کردیا جائے۔ یہ غالباً تاریخِ انسانی میں پہلی سیاسی پناہ تھی جو کسی بھینسے کو نصیب ہوئی ہے۔ مجھے تو حیرت اس بات پر ہے کہ اس بھینسے کو وہ سرکاری پروٹوکول مل گیا جو کئی ریٹائرڈ افسروں کو مدتِ ملازمت میں بھی نہیں ملتا، اور وہ سکیورٹی نصیب ہوئی جو ہمارے ہاں اکثر صحافیوں کو خواب میں بھی میسر نہیں آتی۔البتہ بنگلہ دیش حکومت نے ایک نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کیا کہ اس نے بھینسے کو کسی سرکاری افزائشِ نسل کے مرکز منتقل نہیں کیا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھینسے اور افزائشِ نسل کے مرکز کا آپس میں کیا تعلق۔ ارے صاحب، ہمارے دیہاتوں میں ایسے جانوروں کے سرکاری اسپتال ہوا کرتے ہیں جہاں خاص نسل کے بھینسے رکھے جاتے ہیں اور قرب وجوار میں لوگ اپنی گائے بھینسیں یہاں لیکر آتے ہیں تاکہ انکی مانگ بھری جاسکے دیہات میں لوگ انکو “سرکاری بھینسے “ کے نام سے پکارتے ہیں انکا کام صرف اور صرف کھانا کھانا اور افزائش نسل کا کام آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اگر خدانخواستہ یہی ٹرمپ بھینسا وہاں پہنچ جاتا تو کیا ہوتا۔ کچھ ہی عرصے میں پورے علاقے میں سنہری بالوں والی نسل پھیل جاتی، ہر دوسرے باڑے میں ایک ٹرمپ جونئیر گھوم رہا ہوتا، بھینسیں خاموش کھڑی رہتیں اور یہ صاحب دیوار پر سینگ مار مار کر اعلان فرماتے کہ میک بفیلو گریٹ اگین۔ کچھ مہینوں بعد شاید دودھ بھی امریکی لہجے میں نکلنے لگتا۔ حکومت نے حالات کی نزاکت بروقت بھانپ لی اور سوچا کہ اگر یہ نسل زیادہ پھیل گئی تو ممکن ہے یہ بھینسے بھی کسی روز ٹیرف لگانا شروع کر دیں۔ چنانچہ احتیاطاً اسے سیدھا چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا تاکہ عوام صرف فاصلے سے دیدار کریں اور جمہوریت بھی محفوظ رہے۔اب ذرا سوچئے کہ یہی بھینسا اگر بنگلہ دیش کے بجائے امریکہ میں پیدا ہوا ہوتا تو کیا منظر ہوتا۔ یقین مانیے، اب تک اس پر تین ٹاک شوز ہو چکے ہوتے، دو انتخابی سروے مکمل ہو چکے ہوتے اور ایک دستاویزی فلم بھی ریلیز ہو چکی ہوتی۔ سی این این والے پوری سنجیدگی سے ثابت کر رہے ہوتے کہ یہ بھینسا دراصل جمہوریت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اس کے سینگ آئینی اقدار پر حملہ ہیں اور اس کی خاموشی کسی سازش کا حصہ ہے۔ ادھر فاکس نیوز اسے کب کا آخری محبِ وطن جانور قرار دے چکا ہوتا۔ پرائم ٹائم میں نیچے چلنے والی سرخی میں لکھا ہوتا کہ یہ بھینسا ہماری اقدار کا محافظ ہے، اور اینکر آنکھوں میں آنسو لیے فرما رہا ہوتا کہ آج اصل امریکہ اسی باڑے میں زندہ ہے۔ کوئی مہمان دانشور دعویٰ کرتا کہ بائیں بازو والے اس معصوم بھینسے سے اس لیے خوفزدہ ہیں کہ یہ ٹیکس کم کرنے کے حق میں ہے، اور پھر اسی شام فاکس نیوز کا اسٹور اس بھینسے کی تصویر والی ٹوپیاں،چائے کے کپ اورمَگ فروخت کرنا شروع کر دیتا۔ یہی تو اس عہد کی سب سے بڑی کرامت ہے کہ ایک ہی بھینسا ایک چینل کے لیے جمہوریت کا قاتل ہے اور دوسرے چینل کے لیے قوم کا نجات دہندہ۔مشتاق احمد یوسفی زندہ ہوتے تو شاید لکھتے کہ ہمارے معاشرے میں انسان کی حیثیت اب وہ نہیں رہی جو ایک وائرل جانور کی ہے۔ آدمی برسوں ایمانداری سے نوکری کرتا رہے، کوئی اس کا حال نہیں پوچھتا، مگر ایک بھینسا دو سنہری لٹیں اُگا لے تو حکومت ذاتی طور پر اس کی سلامتی کا بندوبست کرنے پہنچ جاتی ہے۔ اور منٹو اگر یہ خبر سنتے تو سگریٹ کا ایک لمبا کش لے کر صرف اتنا کہتے کہ صاحب، یہ وہ زمانہ ہے جہاں انسان روز ذبح ہو رہا ہے اور دنیا ایک بھینسے کے بچ جانے پر بغلیں بجا رہی ہے۔اصل المیہ یہ نہیں کہ ایک بھینسا اتفاق سے ٹرمپ جیسا دکھائی دیتا تھا۔ اصل المیہ یہ ہے کہ اب پوری دنیا سیاست کو بالوں، وائرل ویڈیوز اور تماشے کے حوالے سے پہچانتی ہے۔ نظریات کب کے دفن ہو چکے، اب صرف ہیئر اسٹائل زندہ ہیں۔ آج کی سیاست میں منشور سے زیادہ مانگ بالوں کی ہے، اور یہ سبق دنیا کو خود ٹرمپ صاحب نے ازبر کرایا ہے کہ سیاست میں دماغ بعد میں آتا ہے، ہیئر اسٹائل پہلے۔ ہمارے ہاں تو یہ بھینسا اگر پیدا ہوتا تو شاید اسے کوئی پلاٹ بھی الاٹ ہو جاتا، کسی ٹاک شو میں بطور تجزیہ کار بٹھا دیا جاتا، اور سکیورٹی کے نام پر دو گاڑیوں کا اسکواڈ بھی ساتھ لگا دیا جاتا، اور پھر اس کے گرد ایسی سنجیدگی اور اہمیت کا حصار کھینچ دیا جاتا جیسے وہ واقعی کوئی قومی اثاثہ ہو، کیونکہ ہمارے یہاں اکثر شہرت قابلیت سے نہیں بلکہ تماشے سے پیدا ہوتی ہے۔مجھے تو اصل ڈر اس بات کا ہے کہ اگر یہ بھینسا اور زیادہ مشہور ہو گیا تو ممکن ہے اگلے امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی واقعی اسے امیدوار نامزد نہ کر دے، کیونکہ آج کل سیاست میں قابلیت سے کہیں زیادہ ضرورت بالوں کی ہے۔ ویسے بھی سیاست کا آخری انجام دو ہی مقامات پر ہوتا ہے، یا تو آدمی پارلیمنٹ پہنچتا ہے یا چڑیا گھر، اور ہمارے بعض حکمرانوں کو دیکھ کر تو یہ دونوں مقامات ایک دوسرے کے قریب ہی محسوس ہوتے ہیں۔سب سے زیادہ افسوس مجھے اس بات پر ہے کہ یہ بیچارہ بھینسا اپنی پوری زندگی یہ سمجھے بغیر گزار دے گا کہ آخر اسے کیوں بچایا ؟ ۔ وہ تو شاید آج بھی اپنی ناند( کھُرلی ) پر کھڑا یہی سوچتا ہوگا کہ یا اللہ، صرف بال سنہرے ہونے سے اتنی عزت، اگر میں نے ٹائی بھی باندھ لی ہوتی تو شاید کہیں اقوامِ متحدہ نہ پہنچادیا جائے۔انسان صدیوں سے اپنی قسمت بنوانے نجومیوں اور عاملوں کے پاس بھٹکتا رہا، اور یہ بھینسا محض ایک ہیئر اسٹائل لے کر سیدھا قومی چڑیا گھر پہنچ گیا۔ بہرحال میں دل ہی دل میں اس کے لیے خوش ہوں، کیونکہ یہ کم از کم دنیا کا وہ واحد ڈونلڈ ٹرمپ ثابت ہوا جسے عوامی دباؤ نے آج ذبح ہونے سے بچالیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button