سامراج کا گماشتہ آمرِ وقت !

جھانسی کی رانی بہادر تھی، بلا کی دلیر تھی اور سب سے بڑھ کر یہ اعلیٰ ظرف تھی۔ اسی لئے فرنگی راج کے خلاف دلیری سے لڑی اور برصغیر کی جنگِ آزادی میں اپنا نام چھوڑ گئی۔ ایسا نام جس پر خاص طور سے برصغیر کی خواتین بجا طور پہ فخر کرسکتی ہیں اور کرتی رہیںگی!ہماری تحریکِ انصاف بھی ان دنوں، گذشتہ تین چار برس سے، ان جرنیلوں اور عسکری طالع آزماؤں کے خلاف جہاد کررہی ہے جو خود کو فرنگی راج کے جانشین سمجھتے ہیں اور پاکستانی قوم کے ساتھ اس سے بدتر سلوک کررہے ہیں جو فرنگیوں نے ہندوستان میں اپنی دیسی رعایا کے ساتھ کیا تھا!یہ جو فرعونِ وقت، یزید عاصم منیر ، خود ساختہ فیلڈ مارشل اور نام نہاد حافظ، قرآن ہے اس نے پاکستان میں جو ظلم و جور روا رکھا ہوا ہےجس کی مثال اگر کہیں ملتی ہے تو وہ صیہونی ریاست اسرائیل میں، اس ظلم و جبر میں جو عاصم منیر کے جڑواں بھائی بن یامین نیتن یاہو نے غزہ اور مقبوضہ فلسطین کے بیکس باسیوں پہ مسلط کیا ہوا ہے !نیتن یاہو جو مظالم فلسطینیوں پہ توڑ رہا ہے وہ سمجھ میں آتا ہے اسلئے کہ نیتن یاہو موجودہ زمانہ کا وہ چنگیز خان ہے جس کو اپنے مفتوحہ شہروں میں انسانوں کو قتل کرکے ان کی کھونپڑیوں کے مینار بنانے میں تسکین ملا کرتی تھی۔ نیتن یاہو کا زندگی کا مشن ہی فلسطینیوں کو مٹانا اور برباد کرنا ہے۔نیتن یاہو کی فلسطینی دشمنی سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ نام نہاد حافظ تو اپنی ہی قوم کے ساتھ وہ ظلم کر رہا ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں کیا دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس کی سنگدلی تو ضرب المثل بنتی جارہی ہے۔ جو ظلم کا بازار اس نے اپنے مقبوضہ پاکستان میں گرم کیا ہوا ہے وہ شقاوت اور سنگدلی کی روز سینکڑوں داستانیں رقم کر رہا ہے ! لیکن ہم نے تو کالم شروع کیا تھا جھانسی کی رانی کے ذکر سے پھر یہ یزید عاصم منیر کہاں سے ٹپک پڑا؟۔یوں ٹپک پڑا کہ اس کے ظلم کے خلاف عمران خان کے جانثار اور تحریکِ انصاف جیالے جو پر امن مزاحمت کر رہے ہیں، اپنی اخلاقی جرأت کا جو مظاہرہ دن رات کر رہے ہیں اس میں تحریکِ انصاف کی خواتین ان کے شانہ بشانہ ہیںبلکہ اکثر تو مردوں سے کہیں زیادہ ثابت قدمی اور عزم و حوصلہ کے ساتھ اس عسکری اور یزیدی ظلم کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔ایسی ہی بہادر خواتین میں ایک نام جو نمایاں ہے وہ ایمان مزاری کا ہے جو اپنی ہمت اور جرأت سے ظلم کے خلاف جھانسی کی رانی کی یاد تازہ کر رہے ہے!ایک بہادر ماں، شیریں مزاری کی یہ بلند حوصلہ بیٹی، ایمان زینب مزاری عاصم منیر کے ظلم و ستم کے خلاف وہی کرادر ادا کر رہی ہے جو اس کے نام میں شامل بی بی زینب نے دربارِ یزید میں سفاک قاتلِ سیدنا حسین کے خلاف ادا کیا تھا!ایمان زینب پیشہ کے اعتبار سے خود بھی وکیل ہیں اور ان کے اتنے ہی بہادر شوہر ہادی ہزاری بھی ان ہی کی مانند وکالت کرتے ہیں۔ ان دونوں جوان اور بلند حوصلہ میاں بیوی کو عاصم منیر نے اپنی طاقت سے مرعوب کرنے کیلئے مثالِ عبرت بنانا چاہا تھا ان کے خلاف اسی طرح کے فرضی اور جھوٹے مقدمے قائم کرکے جس طرح کے درجنوں مقدمے اس جوان جوڑے کے قائد دلیر عمران خان کے خلاف بنائے ہوئے ہیں۔عاصم منیر نے اپنے دورِ یزیدی میں پاکستان کے تمام عدالتی نظام کو ایک مذاق بنادیا ہے۔ رحم بھی آتا ہے اور طیش بھی ان زرق برق عباؤں میں ملبوس منصفوں کو مسندِ انصاف پہ بیٹھے دیکھ کر جو انصاف و عدل کی پیشانی پر کلنک کے داغ ہیں۔ مسخرے لگتے ہیں یہ پاکستانی منصف جنہوں نے دنیا کی خاطر اپنی عاقبت بگاڑ لی ہے۔ یہ بے ضمیروہ لوگ ہیں جنہیں نہ مرنے پہ یقین ہے، نہ عذابِ قبر پر اور نہ ہی یومِ حساب پر!تو ایسی ہی تابعِ فرمان نام نہاد انسدادِ دہشت گردی میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف بھی مقدمہ پیش ہوا۔ یاد رہے کہ یہ بہادر جوڑا بھی مہینوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہا ہے اس لئے کہ عاصم منیر کے دورِ یزیدی میں نامعلوم افراد، جو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے بدنامِ زمانہ آئی ایس آئی کے غنڈے اور کرائے کے قاتل ہوتے ہیں، شریف لوگوں کو اٹھا کے لےجاتے ہیں اور پھر اس نیوز میڈیا میں جس کا پاکستان میں یزیدِ وقت نے گلا گھونٹ دیا ہے یہ خبر لگائی جاتی ہے کہ فلاں فلاں افراد کو نامعلوم لوگوں نے اغوا کر لیا ہے!صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ ، سہیل آفریدی ، جن کی حکومت برطرف کرکے صوبہ میں گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے، انہیں بھی نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے اور اب تک کوئی سراغ نہیں ہے کہ انہیں اور صوبہ کی اسمبلی کے اسپیکر کو زمین نگل گئی یا آسمان نے انہیں اٹھالیا!سو دہشت گردی کی ایک کٹھ پتلی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی صفائی میں بیان نہیں دیا تو ان کے خلاف فیصلہ سنادیا جائے گا!
ایمان مزاری اور ہادی نے اس دفعہ 342 کے تحت جو دہشت گردی کا الزام ان دونوں پہ لگایا گیا ہے اس میں بیان دینے سے معذرت کرلی ہے اس لئے کہ جن الزامات کے تحت انہیں گرفتار کیا گیا ہے اور جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے وہ بجا طور پہ اس کالے قانون کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے حوالے سے وہ کوئی صفائی کیوں پیش کریں جبکہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا الزام ہر اس شخص پہ لگادیا جاتا ہے جو آمرِ وقت کے فرمان کو بجالانے سے منکر ہو!لہٰذا کسی پاکستانی کو کٹھ پتلی شہباز حکومت کے اس بیانیہ پر یقین نہیں ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو اس لئے برطرف کیا گیا کہ وہ وفاق کی دہشت گردی کے خلاف مہم میں تعاون کرنے کیلئے آمادہ نہیں تھے۔پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ عاصم منیر سامراجی گماشتہ ہے اور اپنے آقاء ٹرمپ کے اس فرمان کو بجالانا چاہتا ہے کہ خیبر پختونخواکی زمین کے سینے میں جو نایاب معدنیات پوشیدہ ہیں ان کے ذخائر امریکی سامراج کو درکار ہیں اور اس مقصد کی بجاآوری میں ہمیشہ کی طرح پاکستان کے بکاؤ اور ملت فروش جرنیل، جو ستر پچھتر برس سے امریکی سامراج کے غلام چلے آرہے ہیں اس بار بھی اپنی تابعداری کا ثبوت دے سکیں تاکہ ان کے ملت فروش سروں پر سامراجی آقاء کا دستِ شفقت برقرار رہے!یہ تو امریکہ کے متعدد دانشور اوانٹیلی جنس کے ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں کہ جب انہیں پاکستان میں کوئی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی کام کروانا مقصود ہوتا ہے تو وہ پاکستان کے لالچی اور بے ضمیر جرنیلوں کی تجوریاں بھردیتے ہیں اور یہ ازلی غلام اپنے آقاء کے فرمان پر خوشی خوشی سر تسلیم خم کردیتے ہیں اور سامراجی مفاد پر اپنی ملت کے مفادات کو آنکھیں بند کرکے قربان کردینے میں ہی اپنی شان سمجھتے ہیں!سو اس بار بھی وہی پرانی داستان دہرائی جارہی ہے، سامراج کا وہی اس کے حق میں آزمودہ نسخہ آزمایا جارہا ہے اور پاکستان کی معدنی دولت کو یزید اور اس کے حواری بہ رضا و رغبت سامراج کے دیوتا کی نذر کررہے ہیں!لیکن تازہ پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ باہر والے بھی اس یزید اور اس کے حواریوں کے سیاہ کرتوت کو سمجھتے جارہے ہیں!
عاصم منیر جب سے ایران پر سامراجی اور صیہونی جارحیت مسلط کی گئی ہے بار بار پاکستان کا کلیدی سفارتکار بن کے پڑوسی ملک ایران کے دورے لگاتا رہا ہے۔ ابھی پچھلے ہفتہ وہ تہران کے اپنے پانچویں دورہ پر اپنی پخ ابنِ زیاد محسن نقوی کے ہمراہ نکل پڑا۔ لیکن ایرانی بھی اب اس یزیدِ دوراں کے اعمالِ سیاہ سے بخوبی آشنا ہوچکے ہیں۔ وہ جان گئے ہیں کہ یہ اپنے آقاء ٹرمپ کا گماشتہ ہے اور آقاء جب بھی ایران کے حوالے سے کسی مصیبت کا شکار ہوتا ہے اس کا یہ گماشتہ تہران میں ایرانی قیادت کی آنکھوں پر پردے ڈالنے کے مشن پہ نکل پڑتا ہے!سو اس بار جب یہ یزید اپنے آقاء کے حکم کی بجاآوری کیلئے اپنی پخ کے ساتھ تہران پہنچا تو اول تو اس کا استقبال ایرانی قیادت کی طرف سے سرد مہری کے ساتھ کیا گیا ۔ دوئم اس کے خلاف ایرانی عوام نے باقاعدہ مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے کہ انہیں امریکہ کا یہ غلام ایلچی قبول نہیں ہے!لیکن وہ جو شیفتہ نے اپنے اس لافانی شعر میں کہا تھا کہ
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں نام سے کیا کام
بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا
تو عاصم منیر بھی ہر گماشتہ کی طرح بے ضمیر اور بے شرم ہے۔ اور وہ جو کسی نے کہا تھا کہ دوچار طمانچوں اور گھونسوں سے کیا عزت جاتی ہے تواسی کے مصداق عاصم منیرکے خلاف تہران کے عوام نے جو نعرے لگائے اور جو احتجاج کیا اس کا اس پر کوئی اثرہونے سے رہا۔ ملت فروش بلا کے بے ضمیر ہوتے ہیں۔ بڑے چکنے گھڑے ہوتے ہیں جن پر جتنا بھی پانی پڑے وہ بہہ جاتا ہے اور گھڑے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سو یہی حال، یہی کیفیت عاصم منیر اور اس کے حواری ملت فروش جرنیلوں کا ہے!جن کا ضمیر زندہ ہو وہ تو ایمان مزاری جیسی دلیر خاتون ہوتی ہے یا عمران خان جیسا اللہ پہ بھروسہ کرنے والا مردِ مومن ہوتا ہے جو یزیدی ٹولہ کے ہتھکنڈوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پہ آمادہ نہیں ہے اور یزید کی ہر پیشکش کو اپنے ایمان کی قوت سے ٹھکرا چکا ہے کہ وہ عمران کو جیل سے رہا کردے گا بشرطِیکہ عمران اس یزید اور اس کے حواریوں کا کسی طرح کا احتساب نہ کرے اور ان کے گناہوں پر پردہ پڑا رہنے دے!دنیا کی تاریخ شاہد ہے، گواہی دے رہی ہے کہ حسینی سنت ہی سرخرو ہوتی ہے اور یزید کی ہار بہرحال مقدر ہے۔ سو یہ یزیدِ وقت جو یہ سمجھتا ہے کہ اسے نہ موت آئے گی نہ وہ اس سماوی عدالت میں پیش کیا جائے گاجہاں کوئی جھوٹی گواہی نہیں ہوتی، جہاں پاکستان کے بے ضمیر اور بے حیا و شرم منصف نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی عدالت میں رائی برابر خیر کی جزا اور رائی برابر بدی کی سزا ہی نصیب ہوگی۔ اس عدالت میں یہ نام نہاد حافظ، قرآن بھی پیش کیا جائے گا اور اس کے سیاہ کرتوت وہاں حرف بہ حرف بیان ہونگے۔ پھر یہ بے ضمیر کیا جواب دے گا؟
ملت فروش نام کے یہ پاسبان ہیں
جن کو یہ زعم ہے کہ وہ ملت کی شان ہیں
بندے یہ سامراج کے اس کے غلام ہیں
توہینِ قوم ہیں یہی ذلت نشان ہیں






