Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

چار ممالک میں انتخابات!

رواں ہفتے میں برازیل‘ سربیا اور اسرائیل میں انتخابات ہوئے۔ اگلے ہفتے امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات ہو ں گے۔ جن تین ممالک میں انتخابات ہو چکے ہیں وہ تین مختلف بر اعظموں میں واقع ہیں۔ انکے نتائج کو اکٹھا کر کے کسی سیاسی رحجان یا نظریئے کی برتری کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا لیکن ان تینوں کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لاطینی امریکہ اور یورپ میں دائیں بازو کی قوم پرست تحریکوں کے جس غلبے کا شور برپا تھا اسکی شدت میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ برازیل میں بائیں بازو کے سیاسی نظریات سے وابستہ صدر Lula Da Silva الیکشن کا پہلا رائونڈ ہار چکے تھے اور انکی فتح کے آثار معدوم تھے۔ وہ برازیل کے موجودہ صدر ہیں اور اس سے پہلے بھی دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں۔ اسرائیل اور سربیا کی طرح برازیل میں بھی نوجوان ووٹروں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔ نئی نسل کے لوگ ہر ملک میں سٹیبلشمنٹ سے بد ظن ہیں اس لیے انکے ووٹ حکمران جماعت کے خلاف ہی پڑتے ہیں۔ لیکن برازیل میں نوجوا نوں نے بڑی تعداد میں حکمران جماعت کو ووٹ دیئے ہیں۔ اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ لولا ڈا سلوا نے ہمیشہ محنت کشوں اور محروم طبقات کی حمایت کی ہے۔ انکی کامیابی کی دوسری وجہ صدر ٹرمپ کی مخالفت ہے۔ انہیں لاطینی امریکہ میں ایک بے خوف اور جرأت مند لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انکی فتح اس لیے بھی حیران کن ہے کہ گذشتہ اٹھارہ ماہ میں لاطینی امریکہ کے سات ممالک میں دائیں بازو کی جماعتوں نے الیکشن جیتے ہیں۔ برازیل میں اگر ڈا سلوا کو شکست ہو جاتی تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا کہ لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی سیاست زوال پذیر ہے۔ اتوار کے الیکشن میں لولا ڈا سلوا نے 51.8 فیصد ووٹ لیے جبکہ انکے مخالف Flavio Bolsonaro کو48.2 فیصد ووٹ ملے۔ حزب مخالف کے امیدوار Flavio Bolsonaro کے والد Jair Bolsonaroدائیں بازو کے پاپولسٹ لیڈر ہیں۔ وہ 2019 سے 2023 تک برازیل کے صدر رہے ہیں۔اس وقت وہ پر تشدد طریقے سے لولا ڈا سلوا کی حکومت گرانے کے الزام میں ستائیس برس کی قید کاٹ رہے ہیں۔ بولسو نیرو خاندان کے صدر ٹرمپ سے قریبی تعلقات ہیں۔ لاطینی ممالک کی سیا ست میں امریکہ کی مداخلت کی وجہ سے برازیل کے عوام میں امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں ۔جس طرح امریکہ کے اندر لوگ صدر ٹرمپ کے مخالفین کی حمایت کر رہے ہیں اسی طرح برازیل میں بھی لوگوں نے لولا ڈا سلوا کو چوتھی مرتبہ صدر منتخب کر کے امریکہ کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ لاطینی امریکہ سے دس ہزار کلو میٹر دور جنوب مشرقی یورپ کے ملک سربیا میں طالب علموں کی جماعت Student List نے بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر 9 برس تک حکومت کرنے والے صدرAleksander Vucic کو بر طرف کر دیا۔ طا لب علموں نے دو سال قبل بڑھتی ہوئی کرپشن کی وجہ سے سابقہ صدر کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی تھی۔ الیگزینڈر ووسک دائیں بازو کے پاپولسٹ لیڈر ہیں اور انہیں یورپ کے قوم پرست لیڈروں کی حمایت حاصل تھی۔ سربیا کی سرحد پر واقع ہنگری میں چند ماہ پہلے وکٹر اوربان کی پاپولسٹ حکومت کی شکست یورپ کے قوم پرستوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی۔ وکٹر اوربان کی مدد کے لیے صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ہنگری بھیجا تھا مگر انکی دھواں دھار تقریریں بھی اوربان کو شکست سے نہ بچا سکیں۔ اسوقت مغربی یورپ میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں خاصی مقبول ہیں۔ اگلے سال ہونے والے کئی ممالک کے انتخابات میں انکی فتح یقینی سمجھی جا رہی ہے لیکن ہنگری‘ پولینڈ ‘ سربیا اور چیک ریپبلک میں بائیں بازو کی جماعتوں کی کامیابی اب واضح طور پر ایک نئے رحجان کا پتہ دے رہی ہے۔ ستائیس اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے انتخابات تجزیہ نگاروں کی پیش گوئیوں کے عین مطابق دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ بنجا مین نتن یاہو اور انکے مخالف گیڈی آئزن کاٹ میں سے کسی کو بھی برتری حاصل نہیں ہو سکی۔ ان انتخابات میں ایگزٹ پولز کے ذریعے جو اندازے لگائے گئے ہیں انکے مطابق نتن یاہو کی لیکوڈ جماعت کو معمولی برتری حاصل ہے ۔ نتن یاہونے گذشتہ انتخابات میں انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی مدد سے حکومت بنائی تھی۔آئزن کاٹ کو لبرل نظریات رکھنے والے ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ آئزن کاٹ 2015 سے 2019 تک اسرائیل کے آرمی چیف رہے ہیں۔ انکا بیٹا اور دو بھتیجے غزہ کی جنگ میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ نتن یاہو پر اسرائیل کو بدنام اور یکہ و تنہا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ آئزن کاٹ بھی فسلطین کے دو ریاستی حل کے حق میں نہیں ہیں مگر وہ غزہ اور ویسٹ بینک میں نتن یاہو کی پر تشدد پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ جس طرح برازیل اور سربیا میں غیر متوقع نتائج سامنے آئے ہیں اسی طرح اسرائیل کے الیکشن میں مسلمانوں کی جماعت رام اٹھارہ نشستیں جیت کر ایک کنگ میکر کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اب لیکوڈ اور یشار میں سے کوئی بھی رام کے ساتھ ملکر حکومت بنا سکتی ہے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسرائیل کی سیاست میں مداخلت کا موقع نہیں دیں گے۔ لیکن جب جوڑ توڑ شروع ہو گی تو اسوقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ان تینوں ممالک کے انتخابات میں یہ بات مشترک ہے کہ ان میں دائیں بازو کی جماعتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور ان تینوں شکست خوردہ جماعتوں کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ہفتے امریکہ کے مڈ ٹرم الیکشن میں صدر ٹرمپ کی جماعت سینٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ریپبلیکن پارٹی ہائوس کے علاوہ سینٹ بھی کھو دیتی ہے تو اس صورت میں صدر ٹرمپ کو اگلے دو برسوں میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button