Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

ایک شام انو کپور کے نام: جب گفتگو مذہب کی سرحدوں سے نکل کر انسانیت، تصوف اور محبت کی دہلیز تک جا پہنچی!

‎کچھ شامیں وقت کے گزرنے کا نام نہیں ہوتیں، وہ یادوں اور احساسات کی ایسی داستان بن جاتی ہیں جو دیر تک دل پر اپنے نقش چھوڑ جاتی ہے۔ ان میں نہ کوئی رسمی اسٹیج ہوتا ہے، نہ سوالوں کی طے شدہ فہرست؛ بس گفتگو ہوتی ہے، جو کبھی تاریخ کی گلیوں میں جا نکلتی ہے، کبھی فلسفے کے دروازے پر دستک دیتی ہے، اور کبھی انسانیت کے اس مشترکہ آنگن میں جا ٹھہرتی ہے جہاں مذہب، سرحد اور شناخت سے پہلے انسان کھڑا ہوتا ہے۔ ڈیلس میں معروف بھارتی اداکار، گلوکار، دانشور اور مقبول ٹی وی پروگرام انتاکشری کے میزبان انو کپور کے ساتھ گزری شام بھی ایسی ہی تھی۔ وہ معروف شاعر نور امروہوی کی تنظیم النور انٹرنیشنل کے عالمی مشاعرے میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کے لیے آئے ہیں، اور مشاعرے سے ایک روز قبل تنظیم نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ بظاہر یہ ایک رسمی دعوت تھی، مگر جیسے ہی گفتگو شروع ہوئی، کھانے کی میز پر ادب، تاریخ، تصوف، مذہب، پاک بھارت تعلقات اور سندھ کی تہذیب ایک ایک کر کے آتے گئے۔ انو کپور کسی سوال کو چند لفظوں میں نہیں نمٹاتے، بلکہ اسے تاریخ، ذاتی تجربے اور فلسفے سے جوڑ دیتے ہیں،کبھی ان کے لہجے میں سنجیدگی اتر آتی، کبھی کوئی تاریخی حوالہ گفتگو کا رخ موڑ دیتا، اور کبھی ان کی ظرافت پوری محفل کو مسکرانے پر مجبور کر دیتی۔‎مگر اس شام کا سب سے غیر معمولی لمحہ وہ تھا جب انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ کا ذکر چھیڑا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہندو شمشان گھاٹ میں ان کی والدہ کی آخری رسومات ادا ہو رہی تھیں، تو لمبی داڑھیوں والے کچھ مسلمان وہاں پہنچے اور کہا:آپ کی والدہ ہماری استاد تھیں، انہوں نے ہمیں قرآنِ شریف پڑھایا تھا۔ پھر انہوں نے بڑے ادب سے اجازت مانگی کہ اگر ناگوار نہ گزرے تو وہ اپنی استاد کی نمازِ جنازہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انو کپور کے مطابق اس شمشان گھاٹ میں تین سے چار سو مسلمانوں نے ان کی والدہ کے لیے نمازِ جنازہ پڑھی۔ محفل چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئی۔ ایک طرف ہندو روایت کی آخری رسومات، دوسری طرف مسلمان شاگردوں کی عقیدت، اور ان دونوں کے بیچ ایک ایسی عورت کی یاد جس نے علم بانٹتے ہوئے مذہب کی دیوار کو کبھی راستے میں حائل نہیں ہونے دیا۔ آخر علم کا مذہب کیا ہوتا ہے؟ کیا استاد کا احترام کسی عقیدے کی سرحد میں قید ہو سکتا ہے؟ اور کیا محبت کو اس سے فرق پڑتا ہے کہ دعا کس زبان میں مانگی گئی اور ہاتھ کس انداز میں اٹھائے گئے؟ یہ ایک اداکار کی ذاتی یاد تھی، مگر اس میں برصغیر کی اس مشترکہ تہذیب کی پوری جھلک تھی جہاں کبھی رشتوں کی بنیاد مذہب سے پہلے انسانیت ہوا کرتی تھی۔‎ماں کے ذکر سے بات ان کے گھر کے علمی ماحول تک پہنچی، جہاں مطالعہ، ادب، تاریخ اور مذہبی فکر کی روایت تھی۔ انو کپور نے بتایا کہ وہ قرآنِ مجید چودہ مرتبہ پڑھ چکے ہیں، اسلامی تعلیمات سمجھنے کے لیے تفاسیر، شریعت کا لٹریچر اور صحیح بخاری بھی دیکھی ہے، اور ہندو صحیفوں کے ساتھ تورات، زبور اور انجیل کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ ان کے بقول اس مطالعے نے انہیں ایک فکری آزادی دی:جب آپ آزاد ہو جاتے ہیں تو پھر ہر چیز کو سامنے رکھ کر سوچتے ہیں۔ مجھے لگا علم کا اصل مقصد شاید یہی ہے کہ کتابیں ہمارے پہلے سے موجود خیالات پر مہر لگانے کے بجائے ہمیں اپنے ہی ذہن کی دیواروں سے باہر جھانکنا سکھائیں، اگرچہ کسی مذہب کا مطالعہ کرنا اور اس سے اتفاق کرنا دو الگ باتیں ہیں، اور انو کپور اپنی ذاتی فکری جستجو ہی بیان کر رہے تھے۔‎پھر میں نے پاک بھارت تعلقات پر سوال کیا، جس کے پیچھے دو ملکوں کی سیاست ہی نہیں، کروڑوں انسانوں کی ہجرتیں، بچھڑے رشتے اور مشترکہ یادیں بھی تھیں۔ انو کپور کا جواب صاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنی پرفارمنس یا عوامی تقریب میں پاکستان کی سرزمین کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال نہیں کی، اور دہلی کے لال قلعے میں اپنی ایک تقریب کا حوالہ دیا۔ ان کے الفاظ تھے: "میں اپنے وطن سے محبت ثابت کرنے کے لیے پاکستان کے بارے میں الٹی سیدھی بات کیوں کروں؟ میں یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ وہ سرزمین میرے بزرگوں کی بھی سرزمین ہے۔ یہ جملہ دیر تک میرے ساتھ رہا۔ اگر میں اپنی ماں سے محبت کرتا ہوں تو کیا اس کے اظہار کے لیے کسی دوسرے کی ماں کی توہین ضروری ہے؟ سرحدیں زمین پر کھینچی جاتی ہیں، یادوں کے نقشے ان کے پابند نہیں ہوتے۔ وطن سے محبت فطری جذبہ ہے، مگر اسے نفرت میں بدل دینا انسان کا انتخاب ہے، محبت کی شرط نہیں۔ مستقبل کے بارے میں البتہ ان کا لہجہ حقیقت پسندانہ، بلکہ قدرے مایوس تھا۔ انہوں نے امن کی خواہش ظاہر کی، مگر کہا کہ وہ ستر برس کے ہو چکے ہیں اور اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے۔ پھر نیم مزاح میں بولے کہ شاید ہم قیامت تک ایک دوسرے سے الجھتے رہیں گے۔ پڑوسیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھار ان بن ہو جائے تو ہو جائے، مگر مسلسل کشیدگی انہیں مناسب نہیں لگتی۔ محفل میں قہقہے گونجے، مگر اس مزاح کے پیچھے ایک تلخ سوال چھپا تھا: جن دو ملکوں کی زبانیں، موسیقی، کھانے اور رسمیں اتنی ملتی جلتی ہیں، وہ اتنے دور کیوں ہیں؟ جنگوں کی تاریخ اور بداعتمادی حقیقت ہیں، جنہیں خوبصورت لفظوں سے نہیں مٹایا جا سکتا، مگر کیا ان کے ہوتے ہوئے تہذیبی احترام بھی ناممکن ہے؟ کبھی کبھی امن کی ابتدا کسی بڑے معاہدے سے پہلے ایک دوسرے کو سننے کی آمادگی سے ہوتی ہے۔سندھ کا ذکر آیا تو انو کپور نے لال کرشن ایڈوانی اور ان کی سندھ سے نسبت کا حوالہ دیا، اور پھر گفتگو تصوف کی طرف مڑ گئی۔ وہ کبھی گورکھ ناتھ کا ذکر کرتے، کبھی قدیم ہندوستانی فکر کا، اور کبھی صوفیانہ کلام کے ان پہلوؤں کا جن میں محبت اور معرفت کا تصور نمایاں ہے۔ استاد نصرت فتح علی خان کی آواز میں’’تم اک گورکھ دھندا ‘‘کا ذکر آیا، وہ کلام جس میں انسان اپنے خالق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، حیران ہوتا ہے اور آخرکار اپنی عقل کی حدوں کا اعتراف کر لیتا ہے۔ ان کی گفتگو میں تاریخی حوالوں کے ساتھ ذاتی تشریحات بھی تھیں، جن کی صحت الگ تحقیق کا موضوع ہے، مگر اصل زور ان سوالوں پر تھا جو ہر روحانی روایت میں لوٹ لوٹ کر آتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ انسان نے اپنے خالق کو سمجھنے کے لیے کتنی زبانیں ایجاد کیں، کتنے صحیفے پڑھے، کتنے راستے اپنائے، مگر اس کی حیرت آج بھی باقی ہے۔ تصوف کا حسن شاید یہی ہے کہ وہ صرف جواب نہیں دیتا، سوال کی قدر بھی سکھاتا ہے، اور کبھی ایک اچھا سوال انسان کو اس جواب سے زیادہ آزاد کر دیتا ہے جسے وہ برسوں سے آخری حقیقت سمجھتا آیا ہو۔‎بات مشرق کی خاندانی اقدار سے ہوتی ہوئی مغرب کی شخصی آزادی تک گئی، اور مجھے احساس ہوا کہ تہذیبیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں،ہر ایک کی اپنی خوبیاں اور اپنی کمزوریاں ہیں۔ ہم امریکا میں رہتے ہیں، مگر ہماری زبانوں میں آج بھی سندھ، پنجاب، دہلی، لکھنؤ، حیدرآباد اور امروہہ کی خوشبو ہے۔ ہجرت کا مطلب شاید یہی ہے کہ انسان زمین بدل لیتا ہے، مگر اس کی تہذیبی یادداشت اس کے ساتھ سفر کرتی رہتی ہے۔ عشائیے میں انو کپور کو سندھی اجرک بھی پیش کی گئی، جو میرے لیے محض تحفہ نہیں، اس مٹی کی شناخت ہے جہاں سے میری یادوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ سندھ کی کون سی بات انہیں متاثر کرتی ہے؟ انہوں نے سندھ کے لوگوں کی اپنی دھرتی سے وابستگی کا ذکر کیا اور راجہ داہر کو سندھ کا ہیرو قرار دیا، جس نے اپنی سرزمین اور لوگوں کا دفاع کیا۔ راجہ داہر کے بارے میں مؤرخین کی آراء مختلف ہیں، مگر انو کپور نے جس پہلو کو نمایاں کیا وہ دھرتی سے وفاداری تھا۔ یہاں سے میری اپنی سوچ ایک الگ سوال میں ڈھلتی ہے، اور یہ میرا تجزیہ ہے، ان کا کوئی سیاسی اعلان نہیں،سندھ صرف جغرافیہ نہیں، یہ موہن جو داڑو کی قدامت، شاہ عبداللطیف کی شاعری اور سچل سرمست کی فکری آزادی ہے، اور اس کی تاریخی یکجہتی کا تحفظ ایک اہم اصول ہے، جس کی روشنی میں تقسیم کے مباحث کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔رات گہری ہو چلی تھی مگر موضوع ختم نہیں ہو رہے تھے۔ کبھی کوئی شعر، کبھی کوئی تاریخی واقعہ، کبھی ہنسی کا کوئی جھونکا۔ نور امروہوی اور النور انٹرنیشنل کی ٹیم اس گفتگو میں شریک رہی، اور ہم نے اس نشست کو کیمرے میں محفوظ کیا، تاکہ یہ باتیں اس کمرے تک محدود نہ رہیں۔ آخر میں انو کپور نے مجھے ایک مختصر خصوصی انٹرویو بھی دیا، جس میں سندھ کے لوگوں کے لیے ان کا پیغام، راجہ داہر کا حوالہ اور دھرتی سے وابستگی پر ان کے خیالات شامل ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم ان کی ہر بات سے متفق ہوں، مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ اختلاف کے بعد مکالمے کا دروازہ بند کر دیا جائے، کیونکہ علم کی دنیا میں سوال زندہ رہنے چاہئیں اور تہذیب کی دنیا میں گفتگو۔واپسی پر ایک ہی خیال میرے ساتھ چلتا رہا۔ ایک ماں جس نے مذہب سے بالاتر ہو کر علم بانٹا، مسلمان شاگرد جو آخری سفر میں بھی اپنی ہندو استاد کے ساتھ کھڑے رہے، ایک شخص جس نے کتابوں سے فکری آزادی پائی، اور ایک فنکار جو اپنے وطن سے محبت کے لیے دوسرے کے وطن کی توہین کو ضروری نہیں سمجھتا،یہ سب الگ الگ کہانیاں تھیں، مگر ان کے بیچ ایک ہی دھاگا تھا۔ انسان کی شناخت صرف اس کا مذہب یا جغرافیہ نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسرے انسان کے علم، دکھ اور وجود کا کتنا احترام کرتا ہے۔ انسان نے زمین پر کتنی ہی سرحدیں کھینچ ڈالیں، مگر محبت، علم اور یادوں کے سفر کو روکنے والی سرحد آج تک نہیں بنا سکا۔ شاید انسانیت کی معراج یہی ہے کہ اختلاف باقی رہے مگر احترام ختم نہ ہو، سرحدیں موجود رہیں مگر دلوں کے دروازے بند نہ ہوں۔ یہ شام گزر گئی، مگر اس کی گفتگو، اس کے سوال اور اس کی یادیں میرے ساتھ رہیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button