Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

میرے پیارے فضل الرحمن !

اس ملک پاکستان کی ہر چیز پیاری ہے،کیا کھیت کیا کھلیان ،کیا کوہ کیا میدان،کیا فیکٹریاں یا گودام،کیا اسکول کیا کالج اور یونی ورسٹیاں،یعنی ملک عزیز کا چپہ چپہ،مجھے اس ملک کے لوگ بھی بہت پیارے لگتے ہیں،پنجابی، سندھی، بلوچ، پٹھان،ان کی زبانیں بھی اچھی لگتی ہیں ان کا میوزک بھی ،اُردو کے علاوہ پنجابی سمجھتا ہوں روانی سے بول نہیں پاتا،مگر بلوچ اور سندھی موسیقی بہت اچھی لگتی ہے گو کہ سمجھ نہیں پاتا کبھی کوئی ایرانی نغمہ کان میں پڑ جائے تو کانوں میں رس گھول دیتا ہے کیونکہ فارسی کی تھوڑی شُد بد ہے بلوچ اور سندھی زبان نہیں جانتا مگر بلوچی اور سندھی نغمات بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں تو کہ lyricsپلے نہیں پڑتے،کوئی انہونی بات بھی نہیں کہ بات تو سُر اور لَے کی ہوتی ہے،محبتوںکی بات چلے تو اقرار کرتا چلوں کہ وطن کی محبت ،زمین کی محبت کا راز ،نا قابلِ بیان محبت ہے اور محبت کی کوئی وجہ ہوتی نہیں،مگر وطن سے محبت کی وجہ وہ لوگ ہیں جو اس سر زمین پر بستے ہیں،غریب مزدور، محنت کش ،ہاری،کوہ کن،اول اول ان مزدوروں سے محبت ان حادثات سے ہوئی جن میں یہ محنت کش جان کی بازی ہار گئے اور جو اخبار کی سرخیوں میں آگئے آٹھویں جماعت میں تھا کہ اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ ایک مزدور ایک زیر تعمیر فیکٹری کی چوتھی منزل سے گر کر ہلاک ہو گیا،اس کی لاش کئی گھنٹوں تک سڑک پر پڑی رہی،نہ کوئی پولیس رپورٹ ، نہ پوسٹ مارٹم،نہ کوئی کاروائی،لاش ورثاء کے حوالے کی نہیں گئی وہ خود چارپائی پر اٹھا کر لے گئے راولپنڈی سے ایک اخبار ضمیر کے نام سے نکلتا تھامیں نے ایک خط اس حادثے کے حوالے سے اخبار ضمیر کے ایڈیٹر کو لکھ دیا،الٹے سیدھے الفاظ، بے ربط جملے ، کچھ در و بدل کے ساتھ اخبار میں چھپ گیا،اسکول میں اس کا چرچا ہوا تو ہیڈ ماسٹر نے اس زیرتعمیر فیکٹری کے ٹھیکیدار سے بات کی،اور اس وقت ٹھیکیدار پانچ سو روپے دینے پر آمادہ ہو گیا،یہ خبر بھی اخبار میں چھپی،اور پھر پولیس ہم سے بیان لینے پہنچ گئی،بتایا کہ ہم کوئی عینی شاہد نہیں ہم نے تو خبر دیکھی تھی اخبار میں ،مگر پولیس کا کہناتھا کہ اخبار کو خط لکھنے سے پہلے پولیس کو اطلاع دینی تھی،محلے کے سرکردہ لوگ جو جمع ہو گئے تھے وہ بھی ہمیں سمجھا رہے تھے کہ پولیس کو اطلاع کر دینی چاہیئے تھی یہ لوگ اس زمانے کی مقامی مولانا فضل الرحمن تھے،دو ایک میونسپلٹی کے کونسلر وغیرہ ہونگے وہاں سے اندازہ ہوا کہ سیاسی لوگ کیسے سوچتے ہیں اور معاملات کیسے چلاتے ہیںہم نے مکان بھی تبدیل کر لیا مگر پولیس چار چھ ماہ پوچھنے آجاتی ۔ منڈا کتھے اے۔میٹرک کرنے کے بعد یہ سلسلہ تھم گیا میںمحلے کا ہیرو تو بن گیا تھا مگر اس سیاست سے گھن آنے لگی تھی ،وہ سیاست جو لوگوں کو بولنے سے روکتی تھی،پولیس کی
حمائیت اور لوگوں پر دباؤ،اب سمجھ میں آتا ہے کہ یہ تو ہراساں کرنا تھا،پاکستان کی تحریک کے جتنے رہنما تھے ان میں کوئی بھی سیاست دان نہ تھاپاکستانی مصنف کچھ بھی کہتے رہیں برطانیہ کے صحافی اور سیاست کاروں نے ہمارے کسی سیاست دان کو سیاست دان مانا ہی نہیں،ایک مصنف نے تو جناح کے بارے میں لکھ دیا کہ جناح سیاست دان نہ تھے ایک اچھے وکیل تھے ،جناح کی وہ بات بھی زیرِ بحث رہی کہ اگرانگریزکراچی بطور پاکستان مجھے دے دیتے ہیں تو وہ بھی مجھے قبول ہوگا،John Bombieنے لکھا کہ مسلم سیاست دان مسلمانوں کو پاکستان کے لئے قائل نہ کر سکتے تھے اس لئے نعرہ لگایا گیا کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ،اور اس نعرے کو مقبول کرنے کے لئے مولویوں کا سہارا لیا گیا،قیام پاکستان کے بعد مولویوں کو سیاست دان بنانےکے مشن کا سہرا لیاقت علی خان کے سر جاتا ہے،1956 کا آئین بنانے کے لئے کسی قانون دان یا ماہر آئین کی تلاش نہیں ہوئی بلکہ مولویوں کی خدمات حاصل کی گئیں،اور دیگر اراکین کو واضح ہدایات تھیں کہ علماء کی رائے کو ترجیح دی جائے،وہ علماء جو مساجد کے امام تھے نماز پڑھاتے پڑھاتے تجربے کی بنیاد پر پگڑیاں بڑی ہوگئیں اور امام علامہ،شیخ الحدیث،شیخ القرآن ہو گئے جنہوں نے آئین بنایا وہ جدید آئینوں کے structureسے واقف ہی نہ تھے english terminologyسے کوئی واقف نہ تھا
حتیٰ کہ مولانا مودودی بھی انگریزی زبان سے واقف نہ تھے،ہوا یہ کہ ایوب خان،ضیاالحق اور مشرف کے زمانے میں بلدیات کے انتخابات میں جو لوگ منتخب ہوئے وہ سارے نپٹ جاہل تھے کورنگی کراچی کا ایک علاقہ ہے اس علاقے میں جو لوگ بلدیہ کے کونسلرز منتخب ہوئے وہ اُردو بھی نہ پڑھ سکتے تھے،دودھ والے، قصائی،ہوٹل والے،ٹھیکیدار، کونسلر منتخب ہو گئے،یہ سب کے سب برادریوں کی حمائیت سے منتخب ہوئے،یہی حال قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا تھا اب بھی آپ کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں انگوٹھا چھاپ مل جائیں گے،جو اسمبلی میں پیش ہونے والے بل پڑھ نہیں سکتے بس اپنی پارٹی کے اشارے پر ہاں یا ناں کہتے ہیں،میڈیا کو کبھی ان انپڑھ ممبران اسمبلی کو expose کرنے کی توفیق نہیں ہوئی،پوری اسمبلی میں چاہے treasury benches یا opposition benchesبل پیش کرنے اور بحث کرنے والے کل اسمبلی کا تین فیصد ہوتے ہیں،اس صورتِ حال کا فائدہ سب سے زیادہ مولویوں کو ہوا،مولوی مسجد کا امام اور اس کی سب سے بڑی طاقت لاؤڈ اسپیکر ،لوگوں میں شناسا شخص، الیکشن میں کھڑا ہو جائے تو آسانی سے منتخب ہو جاتا ہے چاندی انہی لوگوں کی ہوئی،سابق صوبہ سرحد میں خان عبد الولی خان کے ہوتے مفتی محمود صوبے کے وزیر اعلی بن گئے اور خان ولی خان نے کہا کہ جو ہمارے گھروں کی روٹی پر پلتے ہیں وہ اب ہمارے رہنما ہونگے،مگر کیا کیجیے کہ ضیا الحق کے دور میں ان ہی لوگوں کو عروج ملا اور طاقت بھی،ان لوگوں نے سارے ملک کے ہر ادارے کی دیواروں پر کلمے لکھ کو ملک بھر کو مشرف بہ اسلام کر دیا ابھی ایک ویڈیوفیس بک پر گردش کر رہی ہے جس میں لاہور یونیور سٹی کے mathematics department کی دیواریں آیات سے بھری پڑی ہیں،اور کہا جا رہا ہے کہ physics/mathematics کی کتابوں سے دینیات برآمد ہو رہی ہے ،مفتی محمود کے والد انگریزوں کے خدمت گزار تھے ،کئی ویڈیوز نیٹ پر موجود ہیں اور بہت سی کتابوں میں بھی ان کی تاریخ کی کتابوں میں بھی بہت تفضیل سے لکھا گیا کہ ایک دلچسپ بات لکھی گئی ہے کہ دوبار مفتی محمود زمین پر بیٹھے اور انگریز ریزیڈینٹ ان کی پیٹھ پر پاؤں رکھ کر جیپ میں سوار ہوا،گھوڑے دھلانے کی بات کئی جگہ کی گئی ہے مفتی محمود نے کئی بار کہا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں،مگر کس کو خیالی، ووٹ پڑتا ہے منتخب ہوتے ہیں۔فضل الرحمان بھی مفتی محمود کی وفات کے بعد جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ بن گئے موروثیت یہاں بھی ہے جنرل ضیاء کے کام آئے طالبان کے چہیتے،سعودیہ کی فنڈنگ رہی، مدارس بنائے،سیاسی جماعتوں کی مدد کی۔دودوھوں نہائےپوتوں پھلے،چند سیٹیں ،اور امریکی سفیر سے اس خواہش کا اظہار کہ ان کو بھی وزیر اعظم کے لئے considerکیا جائے،ہر حکومت میں شامل، حالانکہ نپٹ جاہل،ایک ملشیا بھی بنا لی، مدارس کے طلباء کی،فوج کو بھی للکارا،مگر فوج کے دلارے بھی رہے،کشمیر کمیٹی کے سربراہ اور خوب مال کمایا کشمیر کمیٹی کا آڈٹ کبھی نہیں ہوا پھر مال کمانے پرڈیزل مشہور ہوئے ،ان کے بھائی بھی سرکاری عہدوں پر فائز،پختون خواہ ہو یا بلوچستان مولانا کو حصہ ضرور ملتا ہے، طالبان سے پرانی محبت، افغانی حکومت پر صدقے واری ،ایک بار حکومت نے کہا کہ افغانیوں سے بات کریں مولانا افغانستان پہنچے تو افغانیوں کی زبان بولنے لگے،اور حکومت کو اظہارِ لا تعلقی کرنا پڑا،پختون اپنی برادری اور افغان محبت سے کبھی نکل ہی نہیں سکتا جہاں افغانی پاکستان کو آگ لگائے تو آگ لگانے میں پختوں بھی شامل ہوگا اب کے پختون خواہ میں گورنر راج لگا ہے تو مولانا کو امید تھی کہ اس حکومت میں ان کا حصہ بھی ضرور ہوگا،مگر ایسا نہیں ہوا تو مولانا نے کبھی پی ٹی آئی سے معانقہ کیا کبھی پی پی پی سے،مگر بات نہیں بنی،تو مولانا نے ایک بڑے جلسے میں حکومت پر الزام لگا دیاکہ پختوں خواہ کی معدنیات امریکہ کو بیچی جا رہی ہیں یہ islamists کا پرانا رویہ ہے کہ جب بھی لوگوں کو مشتعل کرنا ہو تو اسرائیل اور امریکہ کا نام ضرور کرتے ہیں عجیب بات کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو تو بندوق سے مارتے ہیں مگر جہاں بات آتی ہے اسرائیل اور امریکہ کی تو یہ امریکہ اور اسرائیل کو دعاؤں سے مارتے ہیں اور آمین کہنے والے ہزاروں میسر،مولانا پر اس بیان کے بعد شدید تنقید ہوئی ،اور یہ پیغام پہنچا دیا گیا کہ شرارت کی تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،مولانا بلیک میل کرنے کے لئے بات تو سخت کرتا ہے مگر تصادم سے ڈرتا ہے،سیاسی بد کرداری اس کی نس نس میں بھری ہوئی ہے ،آئین بہت پسند ہے کیونکہ یہ آئین حکومتوں کو شہریوں کے ایمان کی درستگی کاراستہ دیتا ہے لہٰذا مولانا کبھی احمدیوں کو نشانہ بناتا ہے تو کبھی ناموس رسالت کے نام پر عام معصوم شہریوں کو قتل کرنے کی کھلی چھٹی دیتا ہے،مگر اب پنجاب کے سخت روئیے کی وجہ سے یہ سلسلہ فی الحال موقوف ہو چکا ہے،بات پھر وہیں ٹوٹتی ہے کہ فضل الرحمن کو فوج نے پالا، اور عوام کو فضل الرحمن سے ڈراتے رہے،بہتر اب مشکیں کس لی جائیں اور چھٹی کادودھ یاد دلا دیا جائے now or neverاس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیئے،اگر نیت ہے، ورنہ مولانا جیسے لوگوں کی فصل اگائیے اور ان کو اجازت نامہ مرحمت فرمایئے کہ وہ پاکستان کی جڑیں کاٹتے رہیں،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button