Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

اٹھارویں ترمیم سیاستدان کامیاب مگر عوام آج بھی محروم کیوں؟

تحریر آصف اقبال
پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں آئین میں ترمیم پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا کبھی کبھی آسان ہوجاتا ہے، لیکن اس ترمیم کی روح کے مطابق عوام کو حقوق اور سہولتیں فراہم کرنا مشکل ثابت ہوتا ہے۔ سیاست دان اختیارات کی تقسیم پر ایک میز پر بیٹھ کر فیصلے کرلیتے ہیں، پارلیمنٹ قانون سازی بھی کرلیتی ہے، مگر جب ان فیصلوں کے ثمرات عام شہری تک پہنچانے کی باری آتی ہے تو سیاسی عزم، انتظامی صلاحیت اور جواب دہی کے تقاضے کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم ہماری پارلیمانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جس نے وفاقی نظام صوبائی خودمختاری اور پارلیمانی بالادستی کو نئی جہت دی لیکن سولہ برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس آئینی پیش رفت سے عام شہری کی زندگی میں کتنی عملی تبدیلی آئی؟2010ء میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر آئینی اصلاحات پر اتفاق کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سیاسی قوتوں کی مشاورت سے سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی نے اصلاحات کا مسودہ تیار کیا اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صدارتی اختیارات میں کمی، پارلیمانی نظام کے استحکام اور صوبائی خودمختاری کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کیے گئے یہ اتفاقِ رائے اس حقیقت کا ثبوت تھا کہ سیاسی قیادت قومی اہمیت کے معاملات پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرسکتی ہے۔تاہم آئینی کامیابی کا اصل امتحان اس کے عملی نفاذ میں ہوتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا اختیارات کی منتقلی ہی منزل تھی یا اس کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر تعلیم، صحت، انصاف اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا بھی تھا؟آرٹیکل 25A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتا ہے آرٹیکل 19A عوامی اہمیت کی معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 10A منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اس کے باوجود تعلیم، شفافیت اور انصاف کے شعبوں میں شہریوں کو درپیش مشکلات سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہیں اگر تعلیم بنیادی حق ہے تو بچوں کی اسکولوں تک رسائی اور معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے میں رکاوٹیں کیوں برقرار ہیں؟ اگر معلومات تک رسائی آئینی حق ہے تو سرکاری وسائل کے استعمال کی تفصیلات عام شہری کے لیے آسانی سے دستیاب کیوں نہیں؟ اور اگر انصاف بنیادی حق ہے تو عام آدمی کے لیے سستا اور بروقت انصاف اب بھی ایک بڑا چیلنج کیوں ہے؟وسائل کی کمی آبادی میں اضافہ اور معاشی مشکلات اپنی جگہ حقیقی مسائل ہیں، لیکن یہ آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا مستقل جواز نہیں بن سکتے عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ دستیاب وسائل کہاں خرچ ہوئے، حکومتی ترجیحات کیا رہیں اور ان فیصلوں سے عام شہری کو کیا فائدہ پہنچا۔وسائل کی کمی، آبادی میں اضافہ اور معاشی مشکلات اپنی جگہ حقیقی مسائل ہیں، لیکن یہ آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا مستقل جواز نہیں بن سکتے عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ دستیاب وسائل کہاں خرچ ہوئے حکومتی ترجیحات کیا رہیں اور ان فیصلوں سے عام شہری کو کیا فائدہ پہنچااٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم، صحت اور متعدد انتظامی شعبوں میں صوبائی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ لہٰذا ان شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت صوبائی حکومتوں کے کردار اور نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا سندھ میں پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف مختلف ادوار میں حکومت کرتی رہی ہیں ہر جماعت اپنے اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتی ہے لیکن جمہوری احتساب کا تقاضا ہے کہ ان دعوؤں کو سیاسی بیانات کے بجائے قابلِ پیمائش عوامی نتائج کی بنیاد پر پرکھا جائے اس کے ساتھ وفاقی حکومت بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتیاس بحث کا ایک اہم پہلو بلدیاتی خودمختاری ہے آئین کا آرٹیکل 140A صوبوں کو منتخب مقامی حکومتوں کے قیام اور انہیں سیاسی انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے سوال یہ ہے کہ جب صوبائی قیادت وفاق سے اختیارات کی منتقلی کو جمہوری حق قرار دیتی ہے تو یہی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کیوں دکھائی دیتی ہے؟ کیا صوبائی خودمختاری کا مقصد صرف صوبائی حکومتوں کو طاقتور بنانا ہے یا عوام کو اپنے مسائل کے حل میں براہِ راست اختیار دینا بھی ہے؟حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب منتخب بلدیاتی نمائندوں کو مناسب مالی وسائل انتظامی اختیار اور فیصلہ سازی میں مؤثر کردار حاصل ہو محض انتخابات کرادینا کافی نہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا بھی آئینی تقاضا ہےقدرتی وسائل اور مالی وسائل کی تقسیم بھی اسی اصول سے جڑی ہوئی ہے اٹھارویں ترمیم نے آرٹیکل 172(3) کے تحت معدنی تیل اور قدرتی گیس میں وفاق اور متعلقہ صوبے کی مشترکہ اور مساوی ملکیت تسلیم کی اسی طرح قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی مالی حصوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے لیکن وسائل کی ملکیت اور محاصل میں حصہ ملنے کی اصل افادیت تب سامنے آتی ہے جب ان سے حاصل ہونے والی آمدنی عوامی فلاح پر خرچ ہو اگر وسائل سے مالا مال علاقوں کے شہری صاف پانی معیاری تعلیم علاج اور روزگار جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں تو حکومتی ترجیحات اور مالی جواب دہی کا جائزہ لینا ناگزیر ہوجاتا ہےیہاں بیوروکریسی کا کردار بھی اہم ہے۔ سیاسی قیادت پالیسی بناتی ہے، پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے اور انتظامی مشینری ان فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری نبھاتی ہے اگر منصوبے تاخیر کا شکار ہوں، سرکاری خدمات کا معیار بہتر نہ ہو یا عوامی شکایات کا ازالہ نہ ہو تو متعلقہ سیاسی اور انتظامی ذمہ داریوں کا تعین ہونا چاہیے احتساب کا مؤثر نظام وہی ہے جو حکومتوں، منتخب نمائندوں اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو واضح معیار اور قابلِ تصدیق نتائج کی بنیاد پر جانچےلہٰذا اٹھارویں ترمیم کے اثرات کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے تعلیم، صحت انصاف مقامی حکومتوں مالی شفافیت اور سرکاری خدمات کے شعبوں میں یہ دیکھا جائے کہ اختیارات کی منتقلی کے بعد کیا بہتری آئی کون سے مسائل برقرار رہے اور ذمہ دار اداروں نے اپنے اہداف کس حد تک حاصل کیے محض سیاسی دعوؤں سے یہ طے نہیں ہوسکتا کہ ریاست اور عوام کے درمیان موجود نظام کتنے فیصد مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں پوری کررہا ہے اس کے لیے مستند اعداد و شمار واضح اشاریوں اور شفاف احتساب کی ضرورت ہےاٹھارویں ترمیم کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن اس کا کریڈٹ موجودہ اور بعد کی حکومتوں کی کارکردگی کا مستقل سرٹیفکیٹ نہیں بن سکتا۔ آئین بنانا اور آئین پر عمل کرنا دو مختلف امتحان ہیں عوام کو جمہوریت کے لیے وقت دینے کا کہا جاتا ہے مگر یہ سوال بھی اتنا ہی جائز ہے کہ اس وقت کے دوران ان کی زندگی میں کیا بہتری آئی؟پارلیمنٹ کے معزز اراکین اور تمام سیاسی جماعتوں کو اب اس سوال پر بھی اسی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات عوام تک کتنے پہنچے صوبوں نے مقامی حکومتوں کو کتنا بااختیار بنایا اور بیوروکریسی سمیت ریاستی اداروں نے عوامی خدمت کے اپنے فرائض کس حد تک ادا کیے کیونکہ آئین کی حقیقی بالادستی تقریروں قراردادوں اور قانونی عبارتوں سے نہیں بلکہ شہریوں کی زندگی میں نظر آنے والی تبدیلی سے ثابت ہوتی ہے جب بچے کو معیاری تعلیم مریض کو علاج شہری کو انصاف مقامی نمائندے کو اختیار اور عوام کو اپنے وسائل کا حساب ملے گا تب جمہوری اصلاحات کے ثمرات حقیقتاً عوام تک پہنچیں گے یہی وہ منزل ہے جس کے لیے اختیارات کی تقسیم ضروری تھی اور یہی وہ ذمہ داری ہے جس سے اب سیاسی قیادت حکومتیں اور ریاستی ادارے صرفِ نظر نہیں کرسکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button