KPK کا ادھورا سچ!

مان لیتے ہیں کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد لوگ بڑی تعداد میں احتجاج کے لیے نہیں نکلے لیکن اس سے کیا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں میں غم و غصہ نہیں پایا جاتا۔ اسلام آباد کے پالیسی ساز حلقے تحریک انصاف کی کوتاہیوں کی جو طویل فہرست بیان کر رہے ہیں اس پر اگر یقین کر بھی لیا جائے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ KPK کے عوام کی اکثریت نے گورنر راج کو قبول کر لیا ہے۔ ایسا کوئی سروے تو نہیں کیا گیا جو یہ ثابت کر سکے کہ پختونخواہ کے عوام کی اکثریت اسوقت کیا سوچ رہی ہے۔ لیکن لوگوں کے باہر نہ نکلنے کو گورنر راج کی قبولیت کی سند نہیںسمجھا جا سکتا ۔ ایک وسیع تر تناظر میں یہ سوال اس صورت میںبھی پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا پاکستان کے نوجوان اپنے حال اور مستقبل سے مطمئن ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت دوسرے ممالک جا کر قسمت آزمائی کرنا چاہتی ہے۔نوجوانوں کی یہ مایوسی بلوچستان اور KPKمیں پنجاب اور سندھ سے کہیں زیادہ ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں صوبوں کے نوجوان اس بات سے سخت نالاں ہیں کہ انہیں دہشت گرد سمجھا جاتاہے۔ یہ نوجوان آخر کیوں دہشت گردی کے اس لیبل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج اس وقت باجوڑاور خیبر ایجنسی میں ہو رہا ہے۔ باجوڑڈسٹرکٹ مئی 2018 سے پہلے فاٹا(Federally Administered Tribal Areas) میں شامل تھا لیکن اب اسے KPK کے ملاکنڈ ڈویژن کا ایک ڈسٹرکٹ بنا دیا گیا ہے۔ اسکی آبادی 1.4 ملین ہے اور یہ افغانستان کے صوبہ کنار کی سرحد پر واقع ہے۔ اس سرحد کی طوالت 54 کلومیٹر ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے رواں سال میں اس ڈسٹرکٹ میں کئی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں ٹی ٹی پی اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کا بہت زیادہ جانی نقصان ہو اہے۔ امریکہ کی بیس برسوں پر محیط جنگ دہشت گردی میں باجوڑ ایجنسی پر بیسیوں ڈرون حملے کئے گئے اور اسکی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہاں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز قائم تھے۔ ان دہشت گردوں کو نکالنے کے لئے حکومت نے متعدد ملٹری آپریشن کئے لیکن یہ مخدوش صورتحال تبدیل نہیں ہوئی ۔ یہاں کے لوگ اب دہشت گردوںاور فوجی مہمات دونوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ رواں سال میں اس ڈسٹرکٹ سے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر کیمپوں یادوسرے علاقوں میں رشتے داروں کے گھروں میں کسمپرسی کی زندگی گذارتے ہیں۔ سابقہ وفاقی بندوبست کہ جسے فاٹا کہا جاتا تھا میں سات ایجنسیاں تھیں ۔ ان سب میںفوجی آپریشنز ہوئے تھے جن کی ایک بڑی قیمت ان ایجنسیوں کے لوگوں کو ادا کرنا پڑی تھی۔ KPK سے باہر رہنے والے ان ایجنسیوں کے نوجوانوں کے غم و غصے کی وجہ نہیں سمجھتے۔ ان نوجوانوں کی برہمی کا اندازہ بارہ اکتوبر کو باڑہ امن جلسہ میں کی ہوئی خان ولی آفریدی کی جوشیلی تقریر سے لگایا سکتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے حکم سے KPK میں گیارہ اکتوبر کو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجیسنی نافذ کی گئی اور اسکے ساتھ ہی آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج بھی لگا دیاگیا۔ خان ولی آفریدی کے احتجاجی جلسے میں شامل لوگوں کی تعداد شاید لاکھوں میں نہ تھی لیکن ویڈیو کلپ میں جو منظر نظر آیا اسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ لوگوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیر تک انکے باغیانہ خطاب کی داد تالیاں بجا کر دیتا رہا۔ خان ولی آفریدی جماعت اسلامی کے یوتھ ونگ سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کر کے ایک مقبول لیڈر بن چکے ہیں۔ اس تقریر کو سن کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ KPK کے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو ایک عمران خان کی ضرورت تھی۔ خان ولی آفریدی کی طویل تقریر کا کلیدی نقطہ یہ تھا کہ قبائلی نوجوان دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ اصل دہشت گرد وہ ہیں جنہوں نے ضیاء الحق کے دور میں دہشت گردوں کو خوش آمدید کہا اور انکی تربیت کر کے خوب مال کمایا۔
خان ولی آفریدی کی تمام باتوں سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ وہ قبائلی نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی ضرور کرتے ہیں لیکن انکی تقریر پر جذباتیت کا عنصر غالب تھا۔ آرٹیکل 232 اور 234 آئین پاکستان کا حصہ ہیں۔ اس آئین کے مطابق یہ دونوں آرٹیکل ایسا آئینی بندوبست ہیں جس کی مدد سے وفاقی حکومت کسی بھی صوبے کی حکومت کو ختم کر کے اسکے انتظامی اختیارات اپنے کنٹرول میں لے سکتی ہے اور ایک گورنر کا تقرر کر کے اسے یہ اختیارات سونپ سکتی ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ KPK میں ٹی ٹی پی کی برپا کردہ دہشت گردی وفاقی حکومت کے کنٹرول میں اس لیے نہیں تھی کہ پی ٹی آئی کی انتہا پسند قیادت اس مسئلے پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار نہ تھی۔ خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ’’ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کریں گے۔‘‘ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سہیل آفریدی نے اپنے دور اقتدار میں تمام تر توجہ عمران خان کی رہائی پر مرکوز کی ہوئی تھی۔ حکومتی معاملات میں ان کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسی لیے انہوں نے لانگ مارچ کے لیے چالیس لاکھ لوگ جمع کرنے کا دعویٰ کیا لیکن چار ہزار بھی جمع نہ کر سکے۔ قبائلی علاقے کے لوگوں کی ناراضی کے ازالے کو جب تک تک حکومتی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا جاتا اسوقت تک ہر وفاقی بندو بست ادھورے سچ پر مبنی ہو گا۔ گورنر راج کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ KPK کے قبائل کو عزت و احترام کا مستحق سمجھا جائے۔ یہ بحران دہشت گردی کے خاتمے سے زیادہ روٹھے ہوئے ہموطنوں کو منانے کا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ KPK کے قبائل سے درشت اور ہتک آمیز سلوک کیا گیا ہے۔ جب تک اسکا ازالہ نہیں ہوتا گورنر راج کا کامیاب ہونا مشکل ہے۔



