موسمیاتی انصاف کا تقاضا ٹیکنالوجی بھی، ماحول کا تحفظ بھی

تحریر آصف اقبال
دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ درجہ حرارت کتنا بڑھے گا، بارشوں اور سیلابوں کے انداز کیسے بدلیں گے یا خشک سالی کتنی شدت اختیار کرے گی، بلکہ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ترقی کی بڑھتی ہوئی قیمت کون ادا کرے گا اور قدرتی وسائل پر اس ترقی کا بوجھ کتنا ہوگا مصنوعی ذہانت نے انسانی ترقی کے امکانات کو ایک نئی سمت دی ہے۔ طب، تعلیم، تحقیق، زراعت، صنعت، توانائی اور حکمرانی سمیت تقریباً ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت نئی راہیں کھول رہی ہے۔ لیکن اس ڈیجیٹل انقلاب کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جس پر دنیا کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت صرف کمپیوٹر پروگراموں، الگورتھم اور اسکرین کا نام نہیں اس کے پیچھے بڑے بڑے معلوماتی مراکز کا ایک ایسا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے جو مسلسل بجلی استعمال کرتا ہے اور کمپیوٹر سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بعض صورتوں میں بڑی مقدار میں پانی بھی استعمال کرتا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ۲۰۲۴ء میں دنیا بھر کے معلوماتی مراکز نے تقریباً ۴۱۵ ارب کلوواٹ گھنٹے بجلی استعمال کی، جو دنیا کی مجموعی بجلی کی کھپت کا تقریباً ڈیڑھ فیصد تھی۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ کھپت بڑھ کر تقریباً ۹۴۵ ارب کلوواٹ گھنٹے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب شامل ہے۔یہ اعداد و شمار بظاہر عالمی توانائی کے مجموعی استعمال کے مقابلے میں بہت بڑے محسوس نہیں ہوتے لیکن اصل مسئلہ ان کا مقامی ارتکاز ہے ایک بڑا معلوماتی مرکز سیکڑوں میگاواٹ بجلی استعمال کرسکتا ہے۔ بعض بڑے مصنوعی ذہانت کے مراکز میں بجلی کی طلب روایتی معلوماتی مراکز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔یہاں سے پانی کا سوال بھی سامنے آتا ہے دنیا پہلے ہی پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے دوچار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً ۳ ارب ۶۰ کروڑ افراد سال میں کم از کم ایک ماہ پانی کی ناکافی دستیابی کا سامنا کرتے ہیں اور 2050 تک یہ تعداد 5 ارب سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ دنیا کی تقریباً نصف آبادی سال کے کسی نہ کسی حصے میں شدید پانی کی قلت سے متاثر ہوتی ہے۔ایسے میں اگر ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایسے ٹھنڈک کے نظام استعمال کیے جائیں جو مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھاتے ہوں تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ٹیکنالوجی کتنی جدید ہے، بلکہ یہ بھی پوچھنا پڑتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی ماحولیاتی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر معلوماتی مرکز ایک جیسا نہیں ہوتا بعض مراکز ایسے ٹھنڈک کے نظام استعمال کرتے ہیں جن میں پانی کی کھپت بہت کم ہوتی ہے، جبکہ بخارات کے ذریعے ٹھنڈا کرنے والے نظام نسبتاً زیادہ پانی استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی طرح بند چکر والے مائع ٹھنڈک نظام، خشک ٹھنڈک، دوبارہ استعمال شدہ پانی اور قابلِ تجدید توانائی جیسے طریقے معلوماتی مراکز کے ماحولیاتی اثرات کم کرسکتے ہیں لہٰذا مسئلہ مصنوعی ذہانت یا معلوماتی مراکز کی مخالفت کا نہیں، بلکہ پائیدار ٹیکنالوجی کا ہے۔دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت ایسی ہو جو پانی، توانائی اور ماحول کے ساتھ مقابلہ کرے یا ایسی ہو جو ان وسائل کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھے۔ اگر ایک طرف حکومتیں شہریوں سے پانی بچانے بجلی کم استعمال کرنے اور ماحول کے تحفظ کی اپیل کریں اور دوسری طرف بڑے صنعتی یا ڈیجیٹل منصوبوں کو قدرتی وسائل کے استعمال کے معاملے میں کھلی چھوٹ دے دی جائے تو یہ پالیسی کا ایک بنیادی تضاد ہوگا۔یہ سوال کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ جہاں کہیں بھی بڑے مصنوعی ذہانت کے مراکز قائم ہوں گے، وہاں مقامی بجلی کے نظام، پانی کے ذخائر، زمین، درجہ حرارت اور ماحول پر ان کے اثرات کا جائزہ لینا ہوگا۔ دنیا بھر میں معلوماتی مراکز میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ۲۰۲۴ء میں اس شعبے میں عالمی سرمایہ کاری تقریباً ۵۰۰ ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی موسمیاتی انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے فوائد بھی منصفانہ ہوں اور اس کی ماحولیاتی قیمت بھی منصفانہ طور پر تقسیم ہو یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خود پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، خشک سالی کے دورانیے بڑھ رہے ہیں، شدید بارشوں اور سیلابوں کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور پانی کے قدرتی نظام زیادہ غیر یقینی ہوتے جارہے ہیں۔عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ۲۰۲۴ء میں دنیا کے صرف تقریباً ایک تہائی دریائی طاس معمول کی حالت میں تھے، جبکہ دنیا کے برفانی علاقوں میں مسلسل تیسرے سال برفانی ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔پانی صرف پینے کا ذریعہ نہیں یہ خوراک، زراعت، صنعت، توانائی، صحت، معیشت اور امن سے جڑا ہوا مسئلہ ہے پانی کی کمی اور آلودگی پہلے ہی دنیا کے کئی خطوں میں سماجی اور معاشی دباؤ میں اضافہ کررہی ہے۔ اگر آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے پھیلاؤ کے ساتھ پانی کی طلب بھی تیزی سے بڑھی تو پانی اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نیا عالمی تنازع جنم لے سکتا ہے اسی لیے بڑے معلوماتی مراکز کے لیے پانی اور توانائی کے استعمال کی شفاف رپورٹنگ ضروری ہونی چاہیے۔ پانی کی قلت والے علاقوں میں پینے کے پانی یا زیرِ زمین پانی کے استعمال پر واضح حدود مقرر کی جانی چاہئیں۔ جہاں ممکن ہو، دوبارہ استعمال شدہ پانی، بند چکر والے ٹھنڈک کے نظام اور خشک ٹھنڈک کو ترجیح دی جائے۔ معلوماتی مراکز کی بجلی کی ضروریات میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ بڑھایا جائے اور ہر بڑے منصوبے کے لیے باقاعدہ ماحولیاتی اور آبی اثرات کا جائزہ لازمی قرار دیا جائے اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی صرف یہ نہیں بتانا چاہیے کہ ان کا مصنوعی ذہانت کا نظام کتنا طاقتور ہے؛ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ اسے چلانے کے لیے کتنی بجلی، کتنا پانی اور کتنے قدرتی وسائل درکار ہیں۔یہ شفافیت اس لیے ضروری ہے کہ صارفین، حکومتیں اور مقامی آبادی جان سکیں کہ ڈیجیٹل ترقی کی حقیقی قیمت کیا ہے۔دنیا کو مصنوعی ذہانت سے دور نہیں ہونا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت مستقبل کی معیشت، تحقیق اور انسانی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ایک بحران کا حل تلاش کرتے ہوئے دوسرا بحران پیدا کردیں۔موسمیاتی انصاف کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی رفتار اور ماحول کی برداشت کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔آنے والے برسوں میں پانی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہے گا؛ یہ معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی، خوراک، امن اور قومی سلامتی کا مسئلہ بھی ہوگا۔ اس لیے آج کی دانش مندی یہی ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کی طاقت کو استعمال کریں، مگر اس طاقت کی قیمت آنے والی نسلوں کے پانی، ہوا اور زمین سے وصول نہ کریں۔ترقی وہی پائیدار ہے جس میں انسان بھی محفوظ رہے اور ماحول بھی۔



