Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

تین ڈالر یومیہ کا پاکستان ، طاقت کے ایوانوں سے غربت کی لکیر تک !

قوموں کا زوال اچانک نہیں ہوتا۔ کوئی ملک کسی صبح بیدار ہو کر غریب، بے یقین یا بکھرا ہوا نہیں پایا جاتا۔ زوال دبے پاؤں آتا ہے؛ پہلے اداروں میں اترتا ہے، پھر فیصلوں میں، پھر انصاف کی میزان میں، پھر معیشت کی نبض میں، اور آخرکار ایک عام آدمی کے دسترخوان پر آ بیٹھتا ہے۔ کبھی روٹی چھوٹی ہو جاتی ہے، کبھی امید۔ اور ایک دن ایسا آتا ہے جب اعداد و شمار وہ کہانی سنانے لگتے ہیں جسے حکمران برسوں تقریروں کے پردے میں چھپاتے رہے ہوتے ہیں۔ورلڈ بینک کی اکتوبر 2026ء کی تازہ رپورٹ شاید اسی کہانی کا ایک تلخ باب ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب انسانوں میں سے تقریباً اڑتالیس فیصد صرف پاکستان میں بستے ہیں۔ یہ پاکستان کا کوئی اڑتالیسواں نمبر نہیں، یہ پورے خطے کے انتہائی غریبوں میں پاکستان کا حصہ ہے، یعنی ہر دو میں سے تقریباً ایک۔ خود عالمی بینک کے اعداد کہتے ہیں کہ 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان تین ڈالر یومیہ کی لکیر کے نیچے رہنے والوں کا تناسب 6.4 فیصدی پوائنٹ بڑھ گیا، اور 2024ء کے ملک گیر اعداد کے مطابق تقریباً تئیس فیصد پاکستانی اسی لکیر کے نیچے سانس لے رہے تھے۔مگر اعداد صرف منزل بتاتے ہیں، راستہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم یہاں پہنچے کیسے؟آسان جواب یہ ہے کہ فلاں حکومت نے ملک تباہ کر دیا۔ زیادہ سچا اور زیادہ کڑوا جواب یہ ہے کہ یہ حالت کسی ایک وزیرِاعظم، کسی ایک جرنیل، کسی ایک جماعت یا کسی ایک دہائی کی پیداوار نہیں۔ یہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بنے اس نظام کا ثمر ہے جس میں کبھی منتخب حکومتوں کو پورا اختیار نہ ملا، کبھی فوجی حکمرانوں کو پوری جواب دہی نہ ملی؛ کبھی عدالتیں سیاست کے آنگن میں اتر آئیں، کبھی سیاستدان غیر منتخب طاقت کے دروازوں پر دستک دیتے پائے گئے؛ اور کبھی عوام سے کہا گیا کہ ملک بچانا ہے تو اپنی سیاسی پسند کو کچھ دیر کے لیے سُلادوکی دہائی میں پاکستان نے تقریباً چھ فیصد سالانہ شرحِ نمو بھی دیکھی۔ بظاہر خوشحالی کا موسم تھا، مگر اس چمکتی تصویر کے پیچھے افغانستان کی جنگ کھڑی تھی۔ سوویت یونین افغانستان میں اترا تو پاکستان ایک بار پھر امریکا کے لیے فرنٹ لائن ریاست بن گیا۔ 1981ء میں سوا تین ارب ڈالر کے فوجی و معاشی امدادی پروگرام پر اتفاق ہوا، اور 1986ء میں مزید چار ارب ڈالر کے کئی سالہ پیکج پر۔ مگر یہ کہنا تاریخی طور پر درست نہیں کہ اس رقم کا ہر ڈالر عوام تک پہنچا یا یہ سب براہِ راست حکمرانوں کی جیب میں چلا گیا۔ اصل مسئلہ اس سے گہرا تھا۔ جنگ سے آنے والے وقتی اسٹریٹجک کرائے نے ایک ایسی معیشت کو سہارا دیا جسے مستقل اصلاحات کی ضرورت تھی۔ بیرونی امداد، خلیج سے آنے والی ترسیلاتِ زر اور جغرافیائی اہمیت نے شرحِ نمو کو تھامے رکھا، مگر ٹیکس کا دائرہ، تعلیم، برآمدات، پیداواریت اور ادارہ جاتی ترقی وہ رفتار نہ پکڑ سکے جو ایک پائیدار ریاست کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر 1990ء آیا، پریسلر ترمیم کے تحت امریکی فوجی امداد اور نئی معاشی امداد رُک گئی، اور وہ حقیقت سامنے آنے لگی جسے ڈالروں کی چمک نے کچھ عرصہ ڈھانپ رکھا تھا۔ ورلڈ بینک کے تاریخی اعداد کے مطابق 1980 سے 1990 کے درمیان اوسط حقیقی نمو 6.3 فیصد تھی، اور اگلی دہائی میں تقریباً پونے چار فیصد رہ گئی؛ نوّے کی دہائی کے آخر میں غربت بھی لوٹ آئی اور پہلے کی کئی کامیابیاں پیچھے ہٹنے لگیں۔افغان جہاد کا حساب صرف ڈالروں میں نہیں ہوتا۔ جنگ افغانستان میں تھی، مگر اس کے سائے پاکستان کی گلیوں تک آئے: لاکھوں مہاجرین، اسلحے کی ثقافت، منشیات، فرقہ واریت، جہادی نیٹ ورک، اور قومی سلامتی کو سیاست کے مرکز میں رکھنے والی سوچ۔ جن قوتوں کو کبھی عالمی طاقتوں اور پاکستان نے سوویت یونین کے مقابل ضروری سمجھا، انہی جنگی نیٹ ورکوں کے مختلف ٹکڑے بعد میں خطے کے لیے خود ایک پیچیدہ سلامتی کا مسئلہ بن گئے۔ تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ وقتی فتح ہمیشہ دیرپا کامیابی نہیں ہوتی۔اور یہیں ایک پرانا سوال پھر سر اٹھاتا ہے۔ پاکستان کو فوجی حکومتوں نے بہتر چلایا یا سول حکومتوں نے؟ شاید یہ سوال ہی غلط ترتیب میں پوچھا جاتا رہا ہے۔ فوجی ادوار کے حامی ایوب، ضیاء اور مشرف کے بعض برسوں کی شرحِ نمو دکھاتے ہیں۔ جمہوریت کے حامی کہتے ہیں کہ اسے کبھی اتنا وقت، اختیار اور ادارہ جاتی گنجائش ملی ہی نہیں کہ وہ اپنی جڑیں مضبوط کر سکے۔ دونوں باتوں میں کچھ سچ ہے۔ مگر اصل سوال کچھ اور ہونا چاہیے: کیا کسی بھی دور نے ایسا نظام بنایا جو حکمران کے رخصت ہونے کے بعد بھی چلتا رہتا؟ اگر نمو کسی جنرل کی موجودگی، کسی امریکی جنگ، کسی آئی ایم ایف پیکج یا کسی خلیجی دوست کی مہربانی پر ٹکی ہو تو وہ ادارہ جاتی کامیابی نہیں، وقتی سہولت ہے۔ اور اگر منتخب حکومت قرض لے کر بجلی سستی کر دے، زرِمبادلہ کی شرح کو مصنوعی طور پر روکے رکھے، خسارے میں چلنے والے اداروں کو سبسڈی دیتی رہے اور ہر مسئلہ اگلے انتخاب تک ٹال دے تو وہ بھی پائیدار جمہوریت نہیں، محض سیاسی بقا ہے۔پاکستان نے مارشل لا بھی دیکھے اور بار بار ٹوٹتی پارلیمانیں بھی، مگر دونوں زمانوں میں ایک چیز مستقل رہی، طاقت اور جواب دہی کبھی ایک جگہ جمع نہ ہو سکیں۔ اسی خلا سے وہ تصور اُگا جسے آج کی سیاسی زبان ہائبرڈ نظام کہتی ہے۔ آئین کے کاغذ پر وزیرِاعظم حکومت کا سربراہ ہے، پارلیمان قانون بناتی ہے اور عدالتیں انصاف کرتی ہیں؛ مگر کئی آزاد جائزوں میں پاکستان کو اس لیے ہائبرڈ کہا گیا کہ انتخابات، حکومت سازی اور اہم پالیسیوں پر فوج کا اثر رسمی آئینی ڈھانچے سے کہیں زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ فریڈم ہاؤس کی 2025ء کی رپورٹ نے بھی یہی کہا، اور یہ بھی کہ سیاسی جماعتیں بھی مختلف ادوار میں عسکری سرپرستی کے در پر جاتی رہیں۔یہاں مسئلہ صرف وردی کا نہیں۔ سیاسی طبقہ بھی اس تاریخ سے بری الذمہ نہیں۔ جو جماعت اقتدار سے باہر ہوتی ہے وہ غیر آئینی مداخلت کے خلاف آواز اٹھاتی ہے، اور جب اقتدار کے قریب پہنچتی ہے تو وہی تعلق اسے کبھی کبھی قابلِ قبول لگنے لگتا ہے۔ یوں آئین اصول نہیں رہتا، ایک سیاسی ضرورت بن جاتا ہے۔ اور جب قانون ضرورت کے مطابق ڈھلنے لگے تو انصاف پر یقین بھی دھیرے دھیرے پگھلنے لگتا ہے۔ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025ء کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر تھا؛ بنیادی حقوق میں 128واں، سول جسٹس میں 129واں، ضابطہ جاتی نفاذ میں 127واں، اور امن و سلامتی کے خانے میں آخری، یعنی 143واں۔ آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک نے بھی پاکستان میں بدعنوانی کے وسیع خطرات، بکھری ہوئی نگرانی، غیر مستقل احتساب، کمزور ادارہ جاتی صلاحیت اور محدود قانون کی حکمرانی کی نشاندہی کی۔ یہ کسی سیاسی جماعت کا منشور نہیں،یہ وہ آئینہ ہے جس میں ریاست کا اپنا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔اور یہ بحران کراچی کی گلیوں تک بھی پہنچتا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کبھی پاکستان کی بڑی پارلیمانی قوتوں میں شمار ہوتی تھی، کراچی اور حیدرآباد میں اس کا وسیع ووٹ بینک تھا اور الطاف حسین کی قیادت میں یہ جماعت کئی دہائیوں تک شہر کی سیاست کا مرکزی کردار رہی۔ 2015ء میں لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تصاویر اور تقاریر کی نشر و اشاعت پر پابندی لگائی جو تاحکمِ ثانی تھی، اور حیرت انگیز طور پر 2025ء میں بھی اسی 2015ء کی درخواست پر کارروائی جاری تھی۔ 2016ء کے بعد ایم کیو ایم شدید تقسیم سے گزری۔ لندن گروپ اور الطاف حسین کے حامی برسوں سے اسے مائنس الطاف پالیسی، سیاسی انجینئرنگ اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت قرار دیتے ہیں، جبکہ ریاستی اور مخالف حلقے تشدد، بھتہ خوری، مسلح سیاست اور ریاست مخالف تقاریر کے الزامات کو کارروائیوں کا جواز بتاتے رہے ہیں۔ ان دونوں بیانیوں کے بیچ ایک حقیقت اپنی جگہ بیٹھی ہے، کراچی کے ایک بڑے ووٹر طبقے نے محسوس کیا کہ جس قیادت کو وہ ووٹ دیتا رہا، اس کی سیاسی موجودگی صرف بیلٹ باکس سے طے نہیں ہو رہی۔ اور جب ووٹر کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کا ووٹ فیصلہ کن نہیں، تو جمہوریت کاغذ پر باقی رہ سکتی ہے، دل میں نہیں۔یہی سوال دوسری شکل میں تحریکِ انصاف کے معاملے میں لوٹ آیا۔ 2024ء کے انتخابات سے پہلے عمران خان جیل میں تھے، پارٹی اپنا انتخابی نشان کھو بیٹھی، امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں اترنے پر مجبور ہوئے اور کارکنوں اور قیادت کو بڑے پیمانے پر قانونی و انتظامی دباؤ کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی سے وابستہ امیدواروں نے براہِ راست منتخب قومی اسمبلی نشستوں میں سب سے بڑی تعداد حاصل کی۔ فریڈم ہاؤس نے ان پابندیوں، انتخابی دن انٹرنیٹ بندش اور بے ضابطگیوں کے الزامات کو اپنی رپورٹ میں نمایاں کیا۔ اکتوبر 2026ء میں بھی کشمکش تھمی نہیں؛ عمران خان کی رہائی اور آئینی بالادستی کے مطالبات کے ساتھ پی ٹی آئی کے ہزاروں حامی اسلام آباد کی طرف رواں ہیں، مذاکرات ناکام ہو چکے اور دارالحکومت کے راستوں پر بڑے پیمانے کے سکیورٹی انتظامات ہیں۔ رائٹرز کے مطابق احتجاج روکنے کے لیے ہزاروں شپنگ کنٹینر تک استعمال ہوئے اور ملک کی تجارت اور ترسیل بھی متاثر ہوئی۔ یعنی سیاست کا بحران اب صرف پارلیمان یا ٹی وی اسٹوڈیو کا مسئلہ نہیں رہا،اس کی قیمت ٹرک ڈرائیور، برآمد کنندہ، مزدور اور بالآخر عام صارف ادا کرتا ہے۔پھر بلوچستان ہے، پاکستان کے ضمیر پر رکھا ہوا وہ سوال جسے ہم دہائیوں سے کبھی سلامتی کے نام پر، کبھی قوم پرستی کے نام پر اور کبھی خاموشی کے سہارے حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ وسائل سے مالا مال یہ سرزمین اپنے بہت سے اضلاع میں ملک کی غریب ترین بستیاں رکھتی ہے۔ سیاسی محرومی، وسائل کی تقسیم، صوبائی خودمختاری، لاپتہ افراد اور ریاستی کارروائیوں کی شکایتیں نئی نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی 2025ء کی فیکٹ فائنڈنگ مشن نے جبری گمشدگیوں، سکڑتی شہری گنجائش، صوبائی خودمختاری کے کٹاؤ اور بے لگام استثنیٰ کو عوامی بیگانگی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ قرار دیا۔ دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ بی ایل اے اور دوسرے مسلح گروہ سکیورٹی فورسز، عام شہریوں، مزدوروں اور تنصیبات پر مہلک حملے کرتے رہے ہیں۔ شہریوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، اور کوئی سیاسی محرومی قتل یا دہشت گردی کو جائز نہیں بنا سکتی۔مگر سوال پھر وہی لوٹ آتا ہے: وہ نوجوان بندوق تک پہنچا کیسے؟ ہر بلوچ بندوق نہیں اٹھاتا؛ لاکھوں آج بھی سیاسی عمل، صحافت، احتجاج اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن جب شکایت کا جواب برسوں تک نہ آئے، جب لاپتہ بیٹے کی ماں عدالت اور پریس کلب کے درمیان اپنی عمر گِھسا دے، جب زمین کے سینے سے گیس اور معدنیات نکلیں مگر پڑوس کا گاؤں غربت میں سانس لیتا رہے، تو بیگانگی جنم لیتی ہے، اور جہاں سیاست کے دروازے بند ہوں، وہاں انتہا پسند بندوق کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کراچی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے واقعات ایک جیسے نہیں، مگر ان کی تہہ میں ایک مشترک سوال دھڑک رہا ہے، ریاست اختلاف کو سیاسی طاقت سمجھتی ہے یا سلامتی کا خطرہ؟ یہ وہ سوال ہے جو پاکستان کے وجود کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔اور پھر غربت کا وہ عدد دوبارہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے،خطے کے انتہائی غریبوں میں تقریباً نصف پاکستان میں۔ یہ محض معیشت کی ناکامی نہیں۔ یہ سیاست، نظمِ حکمرانی، تعلیم، آبادی، پیداواریت اور انصاف، سب کی مشترکہ ناکامی کا نچوڑ ہے۔ ایک شخص جس کے بچے اسکول سے باہر ہیں، جس کے گھر کا بجلی کا بل تنخواہ سے بڑا ہے، جس کا مقدمہ عدالت میں بیس برس چلتا ہے، جسے تھانے میں تعلق کے بغیر شنوائی نہیں ملتی اور جس کی نوکری قابلیت سے زیادہ سفارش مانگتی ہے، اسے شرحِ نمو کے اعشاریوں سے آخر کیا فرق پڑے گا؟پاکستان کو اس مقام سے نکالنے کوئی مسیحا نہیں آئے گا۔ نہ کوئی جنرل، نہ کوئی مقبول وزیرِاعظم، نہ آئی ایم ایف کی کوئی قسط، نہ کوئی نیا نعرہ۔ حل پہلے ریاست اور شہری کے درمیان ایک نئے آئینی معاہدے میں ہے۔ فوج کو وہی کرنا ہوگا جس کا آئین اسے اختیار دیتا ہے؛ منتخب حکومت کو حکومت کرنی ہوگی اور اپنی ناکامی کا ذمہ دار بھی خود بننا ہوگا؛ پارلیمان کو قانون سازی کی فیکٹری نہیں، اقتدار کا اصل مرکز بننا ہوگا؛ عدلیہ کو ہر جماعت اور ہر شہری کے لیے ایک ہی قانون نافذ کرنا ہوگا۔ اور سیاسی جماعتوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اقتدار کے لیے غیر منتخب طاقتوں کی مدد مانگیں گی، یا اپنے لیے بھی وہی اصول چاہیں گی جو اپنے مخالف کے لیے مانگتی ہیں۔ ایم کیو ایم ہو یا پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ، اگر کوئی جرم ہے تو مقدمہ چلے، ثبوت سامنے رکھے جائیں اور فیصلہ کھلی عدالت میں ہو۔ مگر کسی جماعت یا رہنما کو سیاسی انجینئرنگ، میڈیا بلیک آؤٹ یا انتظامی دباؤ سے مٹانے کی کوشش ریاست اور ووٹر کے درمیان اعتماد کو مزید زخمی کرتی ہے۔ بلوچستان میں سکیورٹی آپریشن جہاں شہریوں کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہوں، وہاں قانون کے دائرے میں ہوں؛ مگر ساتھ سیاسی مکالمہ، لاپتہ افراد کی شفاف تحقیقات، صوبائی اختیار، وسائل میں مقامی حصہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار و تعلیم بھی ریاست کی سلامتی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوں۔ بندوق کا جواب ہمیشہ بڑی بندوق نہیں ہوتا،کئی بار انصاف سب سے مؤثر انسدادِ بغاوت ثابت ہوتا ہے۔معیشت کو جغرافیائی سیاست کے کرائے سے نکلنا ہوگا۔ افغان جنگ کے ڈالر ہوں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ڈالر، دوست ممالک کے ڈپازٹ یا آئی ایم ایف کے قرضے، یہ وقت خرید سکتے ہیں، مستقبل نہیں۔ مستقبل برآمدات بناتی ہیں، کارخانے بناتے ہیں، ٹیکنالوجی بناتی ہے، پڑھے لکھے بچے بناتے ہیں، عورت کی معاشی شرکت بناتی ہے، زرعی پیداواریت بناتی ہے، اور وہ سرمایہ کار بناتا ہے جسے یقین ہو کہ قانون اس کے ساتھ وہی برتاؤ کرے گا جو کسی طاقتور کے ساتھ کرتا ہے۔ ٹیکس بھی اسی اصول پر کھڑا ہونا چاہیے، جس ریاست میں تنخواہ دار ٹیکس دے اور بڑے تاجر، جائیداد کے طاقتور مفادات، زرعی اشرافیہ اور سیاسی رسوخ والے شعبے اپنے اثر سے بچ نکلیں، وہاں ٹیکس وصولی معاشی پالیسی نہیں، طبقاتی سزا بن جاتی ہے۔ اور تعلیم شاید سب سے بڑا محاذ ہے،جس قوم کے کروڑوں بچے مناسب تعلیم سے محروم ہوں، وہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں مزدور تو برآمد کر سکتی ہے، خیالات نہیں۔ اگلے دس سے پندرہ برس تعلیم، غذائیت، آبادی کی منصوبہ بندی اور صحت کو اسی سنجیدگی سے قومی ایمرجنسی ماننا ہوگا جس سنجیدگی سے ہم سرحدی جنگ کو لیتے ہیں۔اور سب سے آخر میں سیاست۔ پاکستان کو ایک قومی جمہوری معاہدہ چاہیے،ایسا سمجھوتہ جس میں حکومت اور حزبِ اختلاف طے کریں کہ انتخابی نتائج صرف الیکشن کمیشن اور عدالت کے آئینی عمل سے بدلیں گے، کسی طاقتور دفتر سے نہیں، سیاسی مخالف دشمنِ ریاست نہیں ٹھہرے گا،حکومت جانے پر جیل اور آنے پر معافی کا چکر ختم ہوگا، آزادیٔ اظہار کی حد قانون طے کرے گا، سیاسی پسند نہیں،اور کسی جماعت کو محض اس لیے میدان سے باہر نہیں کیا جائے گا کہ اس کی مقبولیت کسی طاقتور ادارے کو ناگوار ہے۔یہ راستہ آسان نہیں۔ طاقت اپنی حدود خود نہیں باندھتی، مراعات یافتہ طبقے اپنی مراعات رضاکارانہ طور پر نہیں چھوڑتے، اور سیاستدان بھی اپنے لیے وہی اصول پسند کرتے ہیں جو اقتدار میں ان کے حق میں جائیں۔ مگر پاکستان کے پاس شاید اب زیادہ وقت نہیں۔ دو سو پچاس ملین سے زیادہ انسانوں کا ملک قرض، سلامتی کے بیانیے، سیاسی انجینئرنگ اور وقتی بیرونی سہاروں پر ہمیشہ نہیں چل سکتا۔ پاکستان کی اصل جنگ بھارت سے پہلے اپنے اندر موجود ناانصافی، جہالت، غربت، عدم برداشت اور غیر آئینی طاقت کے خلاف ہے۔شاید پاکستان کو بچانے کے لیے کسی نئی نظریاتی ایجاد کی ضرورت بھی نہیں۔ صرف وہ وعدہ پورا کرنا ہے جو آئین پہلے ہی کر چکا ہے،ریاست شہری کی ہوگی۔ووٹ ووٹر کا ہوگا۔عدالت انصاف کی ہوگی۔فوج سرحد کی ہوگی۔پارلیمان قانون کی ہوگی۔اور حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہوگی۔تب شاید ورلڈ بینک کی اگلی رپورٹ میں پاکستان کا ذکر اس لیے نہ ہو کہ خطے کے آدھے انتہائی غریب یہاں رہتے ہیں، بلکہ اس لیے ہو کہ ایک قوم نے آخرکار سمجھ لیا کہ ملک صرف سڑکوں، میزائلوں اور بلند عمارتوں سے مضبوط نہیں ہوتے، ملک تب مضبوط ہوتے ہیں جب ایک غریب آدمی بھی یہ یقین رکھتا ہو کہ یہ ریاست اتنی ہی اس کی ہے جتنی کسی جنرل، جج، وزیر یا ارب پتی کی۔اور شاید پاکستان کی بحالی کا آغاز بھی وہیں سے ہوگا، جہاں طاقت کا خوف ختم اور شہری کا یقین شروع ہوتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button