Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

غربت کے ہاتھوں مرتی امیدیں، کراچی کا سانحہ اور پارلیمان کے ضمیر کا امتحان

تحریر آصف اقبال

ریاست کی عظمت کا فیصلہ اس کی بلند عمارتیں، کشادہ شاہراہیں یا اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے نہیں کرتے بلکہ اس کے کمزور ترین شہری کی زندگی، عزتِ نفس اور بنیادی ضروریات کا تحفظ کرتا ہے۔ جس معاشرے میں غربت انسان سے جینے کی امید چھیننے لگے، بے روزگاری ایک باپ کو بچوں کی ضروریات کے سامنے بے بس کر دے اور معاشی تنگ دستی انسان کے حوصلے توڑنے لگے، وہاں ترقی کے تمام دعوے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکمرانوں اور پارلیمان کی خاموشی اجتماعی ضمیر کا امتحان بن جاتی ہے کراچی کے علاقے بن قاسم کی گلشن فلک ناز سوسائٹی میں 13 اکتوبر کو ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی المناک موت نے کئی تلخ سوالات کو جنم دیا۔ ایک رہائش گاہ سے شاہزیب، ان کی اہلیہ، بہن اور دو کمسن بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے مبینہ خط میں بے روزگاری اور مالی مشکلات کا ذکر تھا۔ تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ان اموات کو اجتماعی خودکشی قرار دینا درست نہیں۔ واقعے کی حقیقی نوعیت اور قانونی ذمہ داری کا تعین پولیس اور فرانزک تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اس کے باوجود معاشی بے بسی کا پہلو سنجیدہ قومی توجہ کا مستحق ہے یہ سانحہ صرف پانچ انسانی جانوں کا المیہ نہیں بلکہ ہمارے سماجی تحفظ کے نظام کے سامنے ایک بڑا سوال بھی ہے۔ آخر جب کوئی شہری معاشی مشکلات میں گھرتا چلا جائے تو ریاست کا کون سا دروازہ اس کے لیے کھلتا ہے؟ کیا کوئی ادارہ ایسا ہے جہاں بے روزگار شخص اپنی مجبوری بیان کرکے فوری مدد حاصل کر سکے؟ کیا حکمران جانتے ہیں کہ محدود آمدنی والے خاندان بجلی، گیس، کرائے، علاج، بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کے لیے کس کرب سے گزرتے ہیں؟پاکستان میں غربت محض معاشی اعدادوشمار نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ حقیقت ہے۔ عالمی بینک کی ستمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق قومی غربت کی شرح 2001-02 میں 64.3 فیصد سے کم ہو کر 2018-19 میں 21.9 فیصد تک پہنچی تھی، لیکن بعد کے برسوں میں مہنگائی، سیلاب، وبا اور معاشی عدم استحکام نے غربت میں دوبارہ اضافے کا رجحان پیدا کیا۔ معاشی بحرانوں کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ کمزور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے تشویشناک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں 2022 سے 2025 تک غربت اور بے روزگاری سے منسلک خودکشیوں کا کوئی جامع اور مستند قومی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے 2019 کے لیے پاکستان میں خودکشی سے تقریباً 19 ہزار 331 اموات کا تخمینہ پیش کیا تھا، تاہم یہ مصدقہ سرکاری گنتی نہیں تھی اور نہ ہی تمام اموات کو غربت سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ خودکشی کے پس منظر میں نفسیاتی، سماجی، خاندانی اور معاشی عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے روک تھام کے لیے مالی امداد کے ساتھ ذہنی صحت کی سہولتیں بھی ناگزیر ہیں آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 حقِ زندگی کو تحفظ دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 38 ریاست کو عوام کی معاشی و سماجی بہبود، روزگار اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے اقدامات کی سمت متعین کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان آئینی اصولوں کی عملی جھلک عام شہری کی زندگی میں کہاں نظر آتی ہے؟ جب ریاست ٹیکسوں، قرضوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے پالیسیاں بنا سکتی ہے تو معاشی بحران میں مبتلا خاندانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام کیوں نہیں بنا سکتی؟وفاق میں وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال موجود ہیں۔ صوبوں میں صحت اور سماجی بہبود کے ادارے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اصل سوال ان اداروں کی موجودگی نہیں بلکہ ان کی بروقت رسائی اور مؤثر کارکردگی ہے۔ کیا شدید معاشی مشکلات کا شکار شہری دفتری پیچیدگیوں اور سیاسی سفارش کے بغیر فوری مدد حاصل کر سکتا ہے؟قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو اس مسئلے پر خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے۔ متعلقہ قائمہ کمیٹیاں گزشتہ پانچ برسوں کے دستیاب اعدادوشمار طلب کریں، سماجی تحفظ کے اداروں کی کارکردگی جانچیں اور حکومتوں سے واضح حکمتِ عملی مانگیں۔ خودکشیوں کی روک تھام اور معاشی بحرانوں سے متعلق ایسا قومی معلوماتی نظام قائم کیا جائے جو شہریوں کی رازداری اور وقار کا مکمل تحفظ کرے۔خصوصاً سندھ حکومت کو کراچی جیسے بڑے شہر میں ہنگامی سماجی تحفظ کا نظام مضبوط بنانا چاہیے۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں بھی ضلعی سطح پر مالی امداد، روزگار کی رہنمائی اور نفسیاتی معاونت کی سہولتیں یقینی بنائیں۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے تاکہ کسی ضرورت مند شہری کو اداروں کے درمیان بھٹکنا نہ پڑے۔یہ مسئلہ کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کے خلاف فردِ جرم نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ پارلیمان کا کام صرف بجٹ منظور کرنا اور حکومتی کارکردگی پر تقریریں کرنا نہیں بلکہ یہ پوچھنا بھی ہے کہ قومی وسائل سے عام آدمی کی زندگی میں کتنا تحفظ آیا۔ انسانی جانوں کا تحفظ سیاسی اختلافات سے بالاتر قومی ذمہ داری ہے۔کراچی کے سانحے کی مکمل حقیقت سامنے لانا تحقیقاتی اداروں کا فرض ہے، لیکن اس سے اٹھنے والے معاشی اور سماجی سوالات کا جواب حکومت اور پارلیمان کو دینا ہوگا۔آخر وہ ریاست کس ترقی پر فخر کرے جس کے شہری معاشی بے بسی میں زندگی سے امید کھونے لگیں؟وقت آ گیا ہے کہ غربت کو بجٹ کی ایک سطر، بے روزگاری کو محض معاشی اشاریہ اور انسانی المیوں کو چند روز کی خبروں تک محدود رکھنے کے بجائے سماجی تحفظ کو مستقل قومی ترجیح بنایا جائے۔یاد رکھیے! ریاست کی اصل کامیابی سانحے کے بعد تعزیتی بیان دینا نہیں بلکہ سانحے سے پہلے انسان تک مدد پہنچانا ہے۔ پارلیمان کے ضمیر کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ جب کوئی شہری زندگی کی مشکلات سے ٹوٹنے لگے تو اسے سنبھالنے کے لیے ریاست کہاں کھڑی ہوتی ہے؟۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button