Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

بدنام اگر ہونگے تو۔۔۔۔۔۔!

دورِ فسطائیت جس نے پاکستان کو گذشتہ چار، ساڑھے چار برس سے ، جب سے عمران کی مقبولِ عوام منتخب اور جمہوری حکومت کا ایک سازش کے تحت، جو سامراجی آقاؤں کے حکم کی بجاآوری کیلئے عسکری طالع آزماؤں کی سرپرستی میں رچائی گئی تھی ، تختہ الٹا گیا تھا، اپنی آہنی گرفت میں لیا ہوا ہے اس کی نحوست تو ملک و قوم کے ہر شعبہء حیات کو بری طرح سے متاثر کر رہی ہے۔اس نحوست کا پہلا مظہر تو وہ بین الاقوامی رپورٹ ہے جو اقوامِ متحدہ نے ایک سروے کے بعد شائع کی ہے اور جس میں ایک وسیع و عریض جغرافیائی خطہ کے ممالک میں غربت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس سروے میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک شامل تھے، شمالی افریقہ کے ممالک بھی شامل تھے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی شامل تھا۔ اس سروے کی دریافت یہ تھی کہ ان تمام ممالک کے 48 فیصد غریب صرف اور صرف پاکستان میں پائے جاتے ہیں!وہ جو کہاوت ہے کہ برا زمانہ اور بدقسمتی اکیلی نہیں آتی تو وہ فسطائی پاکستان کے ضمن میں بھی درست ثابت ہوئی۔معلوم یہ ہوا کہ ایک اور سروے جو دنیا بھر کے ممالک میں بھوک کی انڈکس کے نام کی تنظیم نے کیا تھا اس نے یہ بتایا کہ دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے پاکستان میں پائے جاتے ہیں !ایک طرف تو غربت، بےروزگاری، بھوک اور افلاس کا یہ عالم ہے کہ پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت دو وقت کی روٹی کی فراہمی کی چکی میں پس رہی ہے، وہاں، دوسری طرف، وہ نامی چور لیکن عسکری طالع آزماؤں کا مقبول اور پسندیدہ کٹھ پتلی نام نہاد وزیر اعظم، نام کا شہباز شریف اس وزارت عظمیٰ کی گنگا میں، جو اس کیلئے عاصم منیر کی مہربانی سے بہادی گئی ہے، خوب خوب ہی اشنان کر رہا ہے۔ڈھائی سال میں اس نام کے شریف نے چوالیس (44) ممالک کے دورے کئے ہیں۔ اور یہ دورے معمولی نہیں ہوتے کہ وزیر اعظم ایک آدھ مشیر، وزیر اور افسر کو اپنے ہمراہ لیجائے۔ نہیں، یہ جب دورے پہ نکلتا ہے تو مشیروں کاایک جمِ غفیر اس کے ہمراہ ہوتا ہے۔ ایک ایک دورے پر مقروض اور بھکاری ملک کے خزانے کے کڑوڑوں روپے صرف ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آج کے معروضی حالات میں جب دنیا کا ہر ملک مہنگائی کا شکار ہے ایک ایک دورہ پر کڑوڑوں خرچ ہوجانا حیرت کی بات نہیں ہے!لیکن شہباز یا اس کے نوسرباز عسکری آقاؤں کو نہ ملک سے ہمدردی ہے، نہ اس کے خزانے سے، اور جہاں تک بھوک و افلاس کے شکار غریب عوام کا سوال ہے تو ان کیلئے تو ان پتھر دلوں میں ہمدردی کی ایک رمق بھی نہیں ہے۔ عوام تو ان طاقتوروں کیلئے کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں کسی لمحہ بھی پیروں تلے روندا جاسکتا ہے! تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ وزیر اعظم، جو بین الاقوامی بھکاری کی شہرت کا حامل ہے ان دوروں سے ملک کیلئے حاصل کیا کر رہا ہے؟سوشل میڈیا پر کسی ستم ظریف نے شہباز کے دوروں کے موضوع پر بلا کا چبھتا ہوا تبصرہ کیا۔ اس نے کہا، سنا ہے کہ شہباز شریف چند دن کے دورے پر پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کتنے دن قیام ہوگا۔ لیکن شواہد یہی ہیں کہ زیادہ دن نہیں ٹکیں گے!پھر اپنی فسطائیت کو اور دوام دینے کیلئے عاصم منیر نے جو سہیل آفریدی کی جمہوری اور مقبولِ عام حکومت کا صوبہء خیبر پختونخواہ میں تختہ الٹ کر وہاں گورنر راج کا نفاذ کیا ہے اس کی اپنی نحوست بہت جلدی سے ظاہر ہوگئی ہے!گورنر راج کے اگلے ہی روز اندرونِ شہر پشاور کے ایک اسکول کی چھت گرگئی جس میں کم از کم چالیس معصوم بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے!طالع آزماؤں نے اس سانحہ پر برائے نام ہمدردی کے بیان جاری کردئیے لیکن اس کے آگے ٹائیں ٹائیں فش۔ نام کو ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنادی گئی ہے اور دنیا کے دکھانے کو اسکول کے مالک کو ہتھکڑیاں بھی پہنادی گئی ہیں۔ اس سے زیادہ اور ہمدردی کیا ہوسکتی تھی ان سنگ دلوں میں! کڑوڑوں پاکستانی بچے، جنہیں اسکول میں ہونا چاہئے تھا لیکن نہیں ہیں۔ اور نہیں یوں ہیں کہ طالع آزماؤں اور ان کے سیاسی گماشتوں کو عوام میں تعلیم کی روشنی پھیلانے سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بلکہ تعلیم سے دشمنی ہے۔ اور دشمنی یوں ہے کہ اگر عوام تعلیم یافتہ ہوگئے تو پھر ان غاصبوں کے اندھیر نگری راج کو وہ کیوں قبول کریں گے؟تو اچھا ہے، ان غاصبوں کیلئے، اگر پشاور کے سانحہ کو دیکھتے ہوئے ماں باپ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروانے اور ان کی تعلیم جاری رکھنے سے باز رہیں اور ملک و قوم میں جہالت روز افزوں ترقی کرتی رہے۔ ان یزیدیوں کیلئے جاہل عوام بڑی نعمت ہیں!تو غربت، بھوک و افلاس اور جہالت کے بین الاقوامی اعزازات عسکری طالع آزماؤں اور ان کی سیاسی کٹھ پتلیوں کا پاکستان اور اس کے عوام کو تحفہ ہی گردانا جاسکتا ہے۔!لیکن یزیدی دورِ فسطائیت نے پاکستان کو ایک اور اعزاز سے نوازا ہے جس کا تذکرہ پاکستان کے اس نیوز میڈیا میں، جس کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور اس حد تک کہ جی ایچ کیو کی ناپسند کوئی خبر نہ نشر ہوسکتی ہے نہ اس کا ذکر کسی اخبار میں کیا جاسکتا ہے اور عاصم منیر کا نام لیا جاتا ہے تو اس چھٹ بھئیے کے تمام القاب اور اعزازات کے ساتھ اور یہ کہنا لازمی قرار پایا ہے کہ اس طالع آزما کو تمام افواجِ پاکستان کا سربراہ ضرور کہا جائے، بڑے فخر سے کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے مقروض ممالک کی انجمن کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے !اس پاکستان کو جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان کو مالی امداد دیا کرتا تھا، آج عسکری آمروں کے تسلط نے کس قعرِ مزلت میں پھینک دیا ہے کہ اسے عالمی برادری کے بھکاریوں کی انجمن ہونے پر فخر ہورہا ہے!اس فسطائی پاکستان کیلئے ہی شاعر نے کہا تھا:
بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا؟!
تو پاکستان نام کما رہا ہے کہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور چند دیگر وزراء کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے اور ان افراد کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے کہ یہ کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں، اور ان کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟مرزا غالب یاد آگئے ہمیں اس مرحلہ پر۔ بڑی دردمندی سے میرزا نے کہا تھا:
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے !
تو آج اس حقیر فقیر، پر تقصیر کے دل میں بھی درد سوا ہے۔
میں چھ برس کا تھا جب میں نے اپنے ماں باپ کی انگلیاں تھام کر پاکستان کیلئے اپنی آبائی دلی کو خیر باد کہا تھا اور اس نئے وطن کیلئے ہجرت کی تھی جو مسلمانانِ ہند کی نجات کیلئے قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی بےمثال اور ولولہ انگیز قیادت اور ذہانت سے بنایا تھا!مجھے یاد ہے اماں ابا نے بڑے فخر سے اپنا بھرا گھر چھوڑا تھا۔ لیکن ان کی آنکھوں میں امید کے چراغ روشن تھے اور یہی روشنی انہوں نے اپنے بچوں میں منتقل کی تھی۔آج میرے ماں باپ کی روحیں بھی قائد کے ساتھ عالم بالا میں بہت مضطرب ہونگی، بہت دکھی ہونگی اپنے خوابوں کے پاکستان کی بھیانک تعبیر دیکھ دیکھ کر !اور اتنا ہی دکھی ان ماں باپ کا لاڈلا ہے جس کا دل خون کے آنسو روتا ہے اس پاکستان کا حشر دیکھ کر جسے عسکری آمروں اور ان کے سیاسی گماشتوں نے دنیا کیلئے تماشہ بنادیا ہے، جگ ہنسائی کا سامان بنادیا ہے۔آج کے پاکستان کے آنے والے کل کیلئے مجھے اس بڑھاپے میں ہر سمت تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے!تو آج کا یہ کالم میں بڑے دکھ کے ساتھ ختم کر رہا ہوں۔ لیکن آج مجھے اس اعزاز کا احساس بھی ہورہا ہے جو اس حقیر پر تقصیر نے اُردو ٹائمز کے حوالے سے اپنے لئے کمایا ہے!آج مجھے اس اخبار کیلئے کالم لکھتے ہوئے پچیس ، جی ہاں پچیس (25) برس ہوگئے۔ نیویارک میں نائن الیون کے حادثہ کے فوری بعد میں نےیہ کالم لکھنا شروع کیا تھا اور سوچا تھا کہ ایک دو کالم ہی لکھوں گا اور بس!لیکن آج اس مشق کے پچیس سال پورے ہوگئے۔ لیکن میں تھکا نہیں۔ مجھے فخر ہے کہ اس اُردو ٹائمز کے ذریعہ مجھے اپنے قارئین کی توجہ اور محبت نصیب ہوئی جو میرے لئے بہت بڑا سرمایہ بھی ہے اور اعزاز بھی!ہاں یہ دکھ ضرور ہے کہ طالع آزماؤں نے میرے پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ لیکن مایوسی کے عالم میں بھی رجائیت کا عنصر باقی ہے کہ اللہ میرے پاکستان پر رحم کھائے اور ان پاکستان دشمن غاصبوں سے نجات کی سبیل پیدا کردے!
طالع آزماؤں نے کھا لیاہے پاکستان
بے صفات ہاتھوں میں کھوگیا ہے پاکستان
اصل تو محافظ ہیں ملک کے بڑے دشمن
سازشوں کے نرغہ میں گھر گیا ہے پاکستان !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button