کشور ِحسین شاد باد!

کشور حسین شادباد۔ہماری خواہش ہے کہ پاکستان شاد رہے اور ہمیشہ آباد رہے۔اسکے باشندے خوش حا ل ہوں، صحت مند ہوں اور تعلیم کے زیور سے آراستہ ۔ یہ خطہ کے ہی نہیں ،پوری دنیا میں ایک مثالی ریاست بنے۔یہ سب ممکن ہے اگر ہماری قوم ان اسلامی اصولوں پر چلے جن کا اس نے وعدہ کیا تھا۔ یہ اسلامی ریاست اسلامی اصولوںسے آراستہ را ہوں پر چلتی ہو۔ اس کے عوا م نہایت ایماندار ہوں۔ نہ صرف ایمانداری کو تجارت کا پہلا اصول سمجھتے ہوں۔آپس میں حق و سچائی کا شعار بھی رکھتے ہیں۔ ترازو میں کبھی تول میں کھوٹ نہیں کرتے۔ مال میں ملاوٹ کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اور جب رقم دینے کا وقت آئے تو دیر نہیں کرتے۔ پاکستان میں بزنس کرنا ، لوگ ہنسی خوشی چاہتے ہیں۔باہر کی دنیا کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ انہیں کوئی دھوکا نہیں دے گا۔وہ جو منافع کمائیں گے وہ واپس اپنے وطن لے جا سکیں گے۔ان کا سرمایہ محفوظ رہے گا۔ ان کے پاس جو لوگ کام کریں گے وہ ایماندار ہوں گے۔اور ملک کی عدالتیں فوری اور سستا انصاف کریں گی۔ ان کے ساتھ بد انصافی نہیں ہو گی۔ان کے مال سے سرقہ نہیں ہو گا۔ جو ٹیکس حکومت لگائے گی وہ ایمانداری سے ادا کیا جائے گا۔مقامی شرفاء ان کے ساتھ تجارتی تعلقات بنائیں گے جب دونوں اداروں کو فائدہ ہو،پاکستان میں کاروبار کرنے کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ عوام نہ صرف پڑھے لکھے ہیں، وہ کام بھی جفا کشی سے کرتے ہیں اور جو تنخواہ قبول ہو،اس پر شاکر رہتے ہیں۔ اچھی کار کردگی پرتنخواہ میں اضافہ مودبانہ طریقے سے طلب کرتے ہیں۔ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں سے اچھا برتائوکرتی ہے۔ جیسے وہ اس کے اپنے شہری ہوں۔پاکستان سیاحت کے لیے ایک بہترین ملک ہے۔ یہاں سیاحوں کے ساتھ اتنا بہترین سلوک ہوتا ہے کہ ان کے اپنے ملک میں نہیں ہوتا ہو گا۔ نہ تو ان کی جیب کاٹی جاتی ہے۔اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا حملہ ہوتا ہے۔ اکیلی لڑکی سارے ملک میں جہاں چلی جائے اسے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا۔ پبلک ٹرانسپورٹ ہو یا کرایہ کی کار۔ سب محفوظ ذرائع ہیں۔پاکستانی مرد عورتوں کو ایک نگاہ دیکھتے ہیں اور پھر اپنا منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں ۔ کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی سیاح خاتون پر کسی قسم کا حملہ کیا گیا ہو۔سیاح پاکستان کے پہاڑوں، سمندروں، صحرائوں، میدانوںسے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں۔ وہاں ان کے لیے آرام دہ اور مناسب قیمت پر قیام گاہیں ہیں۔اور ملازمین جو دنیا کی مختلف زبانیں جانتے ہیں مل جاتے ہیں۔کرنسی ایکس چینج کے دفاتر عام ہیں۔ سب جگہ ایک ہی ریٹ ہوتا ہے۔غیر ملکیوں کے لیے اکثر ہوٹلوں میںانکی مرضی کے مشروبات اور کھانے مل جاتے ہیں۔ پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کا اعلیٰ انتظام ہے۔اس میں پاکستانی اور غیر ملکی سب آرام سے سفر کر سکتے ہیں۔تیز رفتار ٹرینیں جو اسلام آباد سے کراچی 8-10گھنٹے میں پہنچا دیتی ہیں۔ ٹرین میں بہترین کھانوں کا انتظام ہے۔پاکستانی جوڑے اب اوسطاً دو بچے چاہتے ہیں۔ اس سے آبادی کی رفتارمیں ٹھہرائوپیدا ہو گیا ہے۔ اب سب بچے تین سال کی عمر سے ہی ابتدائی تعلیم کے سکول میں جاتے ہیں، جس سے ان کو پرائمری سکول میں بڑی جلدی پیش رفت مل جاتی ہے۔اور مائیں اپنے کام پر چلی جاتی ہیں۔ اور واپسی پر بچوں کو لے آتی ہیں۔جب سے بیوی اور خاوند دونوں نے ملازمت کرنی شروع کر دی ہے، ان کا معیار زندگی بہتر ہو گیا ہے۔ ملک سے غربت کی لکیر کے نیچے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔بچوں کی جسمانی صحت قدرتی لحاظ سے نشو و نما پا رہی ہے۔ بچے اب پہلے کی طرح پستہ قد نہیں رہ جاتے۔بچوں کی تعلیم میں بھی اتنی بہتری آئی ہے کہ دوسرے ملکوں سے لوگ اپنے بچوں کو پاکستان لا کر پڑھانا چاہتے ہیں۔اس کی وجہ پاکستانی بچوں کا تعلیمی نصاب ہے۔ یہ نصاب ہر سال دو کے بعد بدلتا ہے اور اس کے مضامین نئے دور کی ضروریات کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں۔ماہرین تعلیم نصاب کو صنعتی ترقی کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔اگر بچے فرینچ، سپینیش، چائینیز اور پاکستانی صوبائی زبانیں سیکھتے ہیں تو صرف لکھنا پڑھنا ہی نہیں، بلکہ بو ل چال بھی سیکھتے ہیں۔اس وجہ سے جب وہ بیرون ملک کام کرنے جاتے ہیں تو انہیں اچھی ملازمتیں ملتی ہیں۔ اور وہ ملک کو زیادہ زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔ تعلیم میں سب سے بڑی تبدیلی اس کے نصاب میں ہنر مندی سکھائی جاتی ہے۔ ہائی سکول پاس کرنے سے پہلے ہر بچے کو ایک ہنر آتا ہے، خواہ الیکٹریشن، پلمبر، لکڑی کا کام، معمار، کمپیوٹرکے پروگرام، ڈرایئونگ، دفتری حساب کتاب، اکائونٹنگ، وغیرہ۔یعنی ایسا ہنر جس کی مارکیٹ میں مانگ ہے۔میٹرک پاس لڑکے اور لڑکیوں کو اُردو یا انگریزی میں خط و کتابت، عرضی لکھنا، اور اخبار، رسالہ پڑھنا، سب آتا ہے۔اگر نہیں آتا تو نصاب تعلیم پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہو گی۔اساتذہ کے پاس تعلیم دینے کی تربیت کی سند ہونا لازمی ہے۔ اساتذہ مار پیٹ کے بجائے بچوں کی حوصلہ افزائی اور تعلیم سے رغبت بڑھانے پر توجہ دیتے ہیں۔ اساتذہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام بچوں کو تعلیم سے محبت کرنا سکھانا ہے نہ کہ نفرت کرنا۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو تعلیمی عمل سے عملی زندگی کا تعلق دکھاتے ہیں۔اس طرح بچے عملی زندگی میں اپنی تعلیم کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ہائی سکول کے بعد بہت سے بچے تعلیم ختم کر کے عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ یا تو وہ اپنا یا اپنے باپ کے کاروبار پر لگ جاتے ہیں ، اور کچھ اعلیٰ تعلیم کی طرف جاتے ہیں۔ اس میں وہ مضامین پڑھتے ہیں جو ان کو آگے چل کر انجینئرنگ یا میڈیکل، نرسنگ وغیرہ کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اس وقت ملک میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد اتنی ہے کہ سب اداروں میںان کا تناسب ٹھیک رہتا ہے۔ کئی ملک سے باہر بھی چلے جاتے ہیں۔ پاکستانی بچوں کو گھر سے ہی ایسی تربیت ملتی ہے کہ وہ محنت اور ایمانداری کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ اس کا فائدہ ہر اس کاروبار کو ہوتا ہے جس میں وہ کام کرتے ہیں۔اعلی اخلاق، وعدے کی پاسداری، ان کی زندگی کے سنہرے اصول ہوتے ہیں۔پاکستان کی حکومتیں اپنے فرائض سے بخوبی واقف ہیں۔ سول سروس میں ہر کام خوش اسلوبی سے کیا جاتا ہے۔ اور ملکوں کی طرح رشوت کا نام نشان نہیں۔سب سے زیادہ اس کا اثرآپ محکمۂ مال کے افسروں میں دیکھتے ہیں۔ وہ ایمانداری سے ٹیکسوں کا نفاذ کرتے ہیں، جس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں کبھی خسارے کا بجٹ نہیں بنانا پڑا۔ اکثر تو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنا مالیہ جمع ہو جاتا ہے۔ حکومت کو کبھی اندرونی یا بیرونی قرضے نہیں لینا پڑتے۔ البتے بڑے پراجیکٹس جیسے بجلی گھر وغیرہ کے لیے کم سود پر بیرونی قرضے لیے جاتے ہیں جن سے آمدن ہوتی ہے اس سے قرضوں کی واپسی بھی ہوتی رہتی ہے۔حکومت کفایت شعاری سے کام چلاتی ہے۔ اس کی بڑی مثال بیرونی دورے ہیں۔ اعلیٰ حکام قومی ہوائی کمپنی کے جہازوں پر سفر کرتے ہیں اور صرف ان حکام کو ساتھ لے کر جاتے ہیں جن کے فرائض منصبی اس سفر میں درکارہوتے ہیں۔ اگر سعودی عرب جانا ضروری ہو تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ عمرہ یا حج بھی کیا جائے۔ وہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے اس کو سرکاری سفر میں شامل نہیں کرتے۔ یہ اسلامی ریاست اس لیے نہیں بنی کہ اس کے کارندے خلفائے راشدین کے بنائے ہوئے راستوں سے منحرف ہو کر چلیں۔ان کے راستے تو مشعل راہ ہیں۔ پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جو اپنی پیدائش سے اب تک فوج کے بنائے ہوئے اصولوں اورراستوں پر چلایا گیا ہے۔ اس لیے اس کی تما م خوبیاں اسی وجہ سے ہیں۔فوج نے پاکستانیوں کو نظم و ضبط سے چلنا سکھایا۔ فوج نے جب دیکھا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا تو اس کے بعد سے اسے کسی ہمسائے سے جنگ کا خطرہ نہیں رہا ۔ اس وجہ سے وہ اپنی اتنی بڑی فوج کو کیسے پالے؟پاکستانی قومی اسمبلی تو اس کا بجٹ کاٹ دے گی۔ فوج کو اپنی تعداد پر بڑا ناز تھا۔ اس تعداد کے بل بوتے پر وہ پاکستان پر قبضہ کر سکتی تھی۔یہی اس کا نصب العین تھا۔البتہ اگر بھارت سے معاندانہ تعلقات ہوں، بلوچستان میں غدار عناصر ہوں اور حسب ضرورت دہشت گردی ہوتی رہے تو فوج کو اپنی اہمیت جتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔ اور سات لاکھ کی فوج پھلتی پھولتی رہے گی۔چنانچہ یہی ہوا۔ یہ ضرور ہے کہ ان 76سالوں میں فوج نے چار پانچ مرتبہ حکومت چلائی۔اور ان ادوار میں فوج نے ایک صنعتی ایمپائر بھی بنا لی۔ اس ایمپائر میںمنافع ہی منافع تھا۔فوج نے پاکستانیوں کی ضروریات کی ہر چیزکوالٹی کے ساتھ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستانیوں کو گھٹیا مال کھلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ایک سوال تو بنتا ہے کہ اگر فوج سیاسی مداخلت نہ کرتی اور سیاستدانوں کو حکومت بنانے اور چلانے دیتی تو کیا پاکستان ترقی کرتا یا اس سے بھی بُرے حالات میں جاتا؟اندازہ تو یہ ہے کہ اگر پاکستان جمہوریت کا راستہ لیتا تو لا محالہ حالت بہتر ہوتے کیونکہ جمہوریت میں بالآخر عوام کے ووٹوں سے ہی تو سیاستدان حکومت میں آتے ہیں۔ اس لیے انکے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کی بہتری کے کام کریں۔ فوج کو تو عوام کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے وہ اچھا کریں یا برا کریں، ان کو کوئی فرق نہیںپڑتا۔ پاکستان ایک مثالی ریاست اس لیے بنا کہ اس نے اسلامی اصولوں کو اپنایا۔ اور مساوات کا راستہ پکڑا۔ عدالتی نظام انصاف کا نظام ہے۔غریب، امیر سب کو ایک جیسا انصاف ملتا ہے اور مقدمے سالوں میں اور مہینوں میں نہیں ، دنوں میں نمٹائے جاتے ہیں، جج خریدے نہیں جا سکتے۔ مجسٹریٹ اور قاضی ایک ہی کرسی کے دو نام ہیں۔ ان پر جو بیٹھتے ہیں، ان کا فرض انصاف کرنا ہوتا ہے۔وہ انصاف نہ بکتا ہے اور نہ خریدا جا سکتا ہے۔ اسلا م نے جو ہدایات دی ہیں ان میں رد و بدل نہیں ہو سکتا۔امیر اگر غلطی کرے گا تو اس کو ویسے ہی سزا ملتی ہے جیسے کہ غریب کو اُسی جرم میں۔پاکستان دنیا کے ہر انڈکس پر بہترین جگہ پاتا ہے۔ کرپشن کے انڈکس میں سب سے نیچے، انصاف کے انڈکس میں سب سے اونچے مقام پر۔ یعنی دنیا کے ہر انڈکس میں اعلیٰ مقام پاکستان کے نام ہے۔ دنیا والے پاکستان آتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے جب دیکھتے تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔اس طرح دنیا میں اسلام کی روشنی پھیل رہی ہے۔اور لوگ مسلمان بننا چاہتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ اس مذہب کے ماننے والے دنیا کو جنت بنا رہے ہیں۔دوستوں۔ جب پاکستان کو اسلام کے نام پر لیا گیا تھا تو مقصد یہی تو تھا کہ اس نئے ملک کو اسلامی اصولوں پر چلایا جائے گا۔ اس کانتیجہ آپ کے سامنے ہے۔اس میں جس طبقے کو سب سے زیادہ خراج تحسین ملنا چاہیے وہ ہے اسلامی علما ا ور مشائخ ہیں، جنہوں نے انتہائی پاکیزگی کے ساتھ حکمرانوں کو صراط لمستقیم دکھایا۔ اورقدم قدم پر ان کی راہ نمائی کی۔سبحان اللہ۔






