Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

جنگ کے شعلے اورپاکستانی گھرانوں کے بجھتے چراغ

جنگیں میدان میں لڑی جاتی ہے، مگر اس کی قیمت اکثر وہ لوگ ادا کرتے ہیں جنہوں نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرنے میں شامل ہی نہیں تھے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران، امریکہ و اسرائیل کے تنازع نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی جنگ محض دو یا تین ملکوں تک محدود نہیں رہتی۔ تیل کی منڈی، بحری راستے، عالمی تجارت، خوراک کی رسد اور مالیاتی نظام ایک دوسرے سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران دور بیٹھے ملکوں کے معاشی حالات بدل سکتا ہے۔ میزائل کسی شہر پر گرتا ہے اور دھماکوں کی آوازیں ہزاروں میل دور تک سنائی دیتی ہیں، لیکن اس جنگ کی ایک خاموش گونج ان گھروں میں بھی سنائی دیتی ہے جہاں نہ کوئی سپاہی ہے، نہ مورچہ اور نہ ہی جنگ میں شریک ہونے کا کوئی ارادہ۔ وہاں مہینے کا بجٹ بگڑتا ہے، باورچی خانے کے اخراجات بڑھتے ہیں، گاڑیوں کی ٹنکی بھرنا مشکل ہوتا ہے اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے والدین کو مزید سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔
دنیا کی دو بڑی حقیقتیں آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں، ایک طرف انسان کی آمدنی ہے جو ایک حد سے آگے نہیں بڑھتی، دوسری طرف زندگی کے اخراجات ہیں جنہیں قابو میں رکھنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ کی جدید اور ترقی یافتہ معیشت ہو یا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی جدوجہد کرتی معیشت، مہنگائی نے عام گھرانے کے لیے ایک بنیادی سوال پیدا کر دیا ہے ، مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ہو جائے جیب خالی ہوجائےتو زندگی کیسے گزاری جائے؟جب ضروریات زندگی کی قیمتیں آمدنی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں تو گھر کا مالی توازن بگڑ جاتا ہے۔آج پاکستان بھی اسی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ درآمدی توانائی پر انحصار ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2026ء کی اپنی پاکستان سے متعلق رپورٹ میں واضح کیا کہ ملک کے ایندھن کی درآمدات کا تقریباً 81 فیصد خلیجی خطے سے آتا ہے۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ یا ترسیلی راستوں میں رکاوٹ پاکستان کے لیے براہِ راست معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔یہ مسئلہ صرف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا نہیں، بلکہ زندگی کے معیار، معاشرتی تحفظ اور معاشی انصاف کا بھی ہے۔ ایک امریکی خاندان اپنے گھر کے کرائے، بجلی کے بل، صحت کے اخراجات اور بچوں کی تعلیم کے لیے بجٹ بناتا ہے، جبکہ پاکستان کا ایک متوسط یا کم آمدنی والا خاندان آٹا، دال، گھی، بجلی اور سفر کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ دونوں ملکوں کے حالات یکساں نہیں، لیکن دونوں جگہ ایک مشترکہ حقیقت موجود ہے: جب ضروریات زندگی کی قیمتیں آمدنی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں تو گھر کا مالی توازن دونوں کا بگڑ جاتا ہے۔
خلیج فارس کو عالمی سمندری راستوں سے ملانے والی آبنائے ہرمز اس صورتِ حال میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے، یہ گزرگاہ تیل اور گیس کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہاں آمدورفت متاثر ہو تو اس کا اثر صرف تیل پیدا کرنے والے ملکوں پر نہیں پڑتا، بلکہ ان تمام معیشتوں تک پہنچتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔پاکستان میں اس کا اثر کئی مرحلوں سے گزرتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو تو درآمدی بل بڑھتا ہے۔ اس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ پڑتا ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں اور اشیائے خورونوش کو منڈیوں تک پہنچانا مہنگا ہو جاتا ہے۔ یوں ہزاروں میل دور ہونے والی جنگ کا ایک سرا بالآخر عام شہری کے گھریلو بجٹ سے جا ملتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات کو صرف پیٹرول کی قیمت میں اضافے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کا تعلق روزگار، صنعت، زراعت، بجلی، نقل و حمل اور مجموعی قوتِ خرید سے بھی ہے۔
دنیا کی دو بڑی حقیقتیں آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں، ایک طرف انسان کی آمدنی ہے جو ایک حد سے آگے نہیں بڑھتی، دوسری طرف زندگی کے اخراجات ہیں جنہیں قابو میں رکھنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ کی جدید اور ترقی یافتہ معیشت ہو یا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی جدوجہد کرتی معیشت، مہنگائی نے عام گھرانے کے لیے ایک بنیادی سوال پیدا کر دیا ہے ، مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ہو جائے جیب خالی ہوجائےتو زندگی کیسے گزاری جائے؟جب ضروریات زندگی کی قیمتیں آمدنی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں تو گھر کا مالی توازن بگڑ جاتا ہے۔آج پاکستان بھی اسی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ درآمدی توانائی پر انحصار ہے۔امریکہ کو دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں روزگار کے مواقع، جدید کاروباری نظام، مالیاتی سہولتیں اور ترقی کے متعدد راستے موجود ہیں۔ اس کے باوجود عام امریکی خاندان کے لیے رہائش، خوراک، بجلی، صحت اور نقل و حمل کے اخراجات اہم مسائل بنے ہوئے ہیں۔امریکہ میں مہنگائی کا ایک پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہونے کے باوجود اشیا کی قیمتیں لازماً اپنی سابقہ سطح پر واپس نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی چیز کی قیمت ایک سال میں بڑھ جائے اور اگلے سال اس میں اضافہ کم ہو جائے تو صارف کو اس چیز کے لیے پہلے سے زیادہ رقم ہی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ معاشی رپورٹوں میں مہنگائی کی شرح میں کمی کی خبر سننے کے باوجود بہت سے گھرانوں کو اپنی زندگی میں فوری ریلیف محسوس نہیں ہوتا۔
پاکستان کو عالمی بحرانوں سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا، لیکن بہتر معاشی منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی، توانائی کے متبادل ذرائع اور کمزور طبقات کے تحفظ سے ان کے اثرات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔کیونکہ جنگ کا سب سے تلخ المیہ یہ ہے کہ فیصلے طاقت ور کرتے ہیں، مگر ان کی قیمت اکثر کمزور ادا کرتے ہیں۔ اور کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ وہ بحران کے دوران کتنے بیانات جاری کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ بحران کے بعد ایک عام گھر کے چولہے میں کتنی آسانی سے آگ جلتی ہے، بچے کتنی آسودگی سے کھانا کھاتے ہیں اور ایک محنت کش کتنی عزت کے ساتھ اپنے خاندان کا پیٹ پال سکتا ہے۔حقیقی خوش حالی وہ نہیں جس میں صرف قومی آمدنی بڑھتی دکھائی دے؛ حقیقی خوش حالی وہ ہے جس میں عام آدمی کی آمدنی اس کی ضروریات کا ساتھ دے، مہینے کے آخری دن اس کے گھر کا چولہا پہلے دن کی طرح جلتا رہے اور اسے زندگی گزارنے کے لیے اپنی بنیادی ضرورتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button