عرب مسلم ریاستیں !

مسلم لفظ بہت خوبصورت ہے یہ لفظ زباں پر آئے تو حمد و ثنا جاری،اور یہ یقین کہ ہم خدا کے منتخب بندے ہیں،جنت ہماری،دوزخ کافروں کی،اور ماضی اپنی تابناکیوں کے ساتھ ہمارے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور سینہ فخر سے پھول جاتا ہے کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے تین بر اعظموں پر حکومت کی تھی ہزار سال ہندوستان ہمارے قدموں کی خاک بنا رہاہم سیاہ و سفید کے مالک تھے،پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم پر زوال نہیں آیا،یہ انگریزوں کی سازشیں تھی کہ ہم اقتدار سے محروم ہو گئے، اور اب ہمارا مطالبہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ بحال ہو اور دنیا کی رہنمائی ہمارے حوالے کی جائے،ہماری معصومیت دیکھیئے کہ دنیا کی حکومت دنیا کی رہنمائی ہمار مطالبے پر ہماری کی جائے،اور اگر پوچھا جائے کہ اگر بالفرض محال آپ کو دنیا کی رہنمائی دے دی جائے تو آپ دنیا کو کیا دینگے تو سینے پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ ہم خدا کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دینگے۔کہا جائے کہ آج کی دنیا تو سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہے تو کتاب اللہ ہاتھ سے بلند کرکے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے باقی خدا اپنی قدرت سے سب کچھ کر دے گا جو سائنس اور ٹیکنالوجی کرتی ہے،معصوم لوگ، معصوم باتیں اور بلا کا جوش ،اہلِ دانش مسکرا کر خاموش ہو جاتے ہیں اور اس بات کا یقین کر لیتے ہیں کہ جہالت ایک بڑی طاقت ہے،مولانا کے سیاسی نظریات سے ہزار اختلاف مگر خلافت اور ملوکیت میں مولانا ایک پتے کی بات کہہ گئے کہ کربلا کے بعد اسلام کہیں پیچھے رہ گیا اور ملوکیت کا دور دورہ ہو گیا،اب بنو امیہ کا دور ہے، بنو عباس کا، فاطمین کا یا عثمانیوں کا،نہ اسلام نہ اسلام کی کوئی بات،اور یوں بھی اسلام کی کل عمر چھبیس سال ہی تو تھی اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے تین خلیفہ قتل ہوئے قبیلوں کی دھینگا مشتی، جنگیں، خون خرابہ،صحابہ نے صحابہ کو قتل کیا،حفاظ قتل ہوئے،اماموں کو کوڑے مارے گئے سائنس دانوں کے منہ پر تھوکا گیا،بڑے حرم سینکڑوں کنیزیں اور ہزاروں لونڈیاں۔امام فتویٰ دیتے رہے کہ خلیفہ کے زبان سے نکلی ہوئی ہر بات حکم ہے آیات ربانی کا درجہ رکھتی ہے،اولاامرجو خلیفہ چاہے کرے،خوف ایسا کہ امام غزالی نے یونانی فلسفے کو ہاتھ لگا کر چھوڑ دیااور باتیں ایسی کہ سبحان اللہ کہتے رہیئے، امام مقتدی کو بار بار ذہن نشین کراتا کہ کلمۂ حق جابر حکمران کے منہ پر کہا جائے ۔نیویارک میں ایک مفتی تشریف لے آئے تھے ،دعویٰ تھا کہ جنرل ضیا الحق اسلام آباد میںان کی امامت میں نماز پڑھتے تھے مفتی خدا کو پیارے ہو گئے انہوں نے کلمۂ حق کی بات اپنے خطبوں میں ہزار بار کی مگر خدا بخشے کبھی جنرل ضیا الحق کے سامنے کلمۂ حق نہیں بولا ،بولا تو یہ بولا کہ ان کو اور ان کے خاندان کو امریکہ کا ویزا دلا دیا جائے،ویزا ملا اور مفتی اپنے خاندان کے ساتھ نیویارک پدھارے،ایک اور مولوی نے جب دیکھا کہ پیسہ تو سنی مولوی کے پاس ہے تو وہ اپنا وہابی مسلک چھوڑ کر سنی ہو گئے، ایسے کردار آپ کو تاریخ میں ہزاروں مل جائینگے،کردار کچھ بھی ہو مگر سب کے سب مسلمان اور سب کے سب باریش،دنیادار ایسے کہ ہندو بنیا بھی دانتوں میں انگلیاں دبا لے،ایسے تھے یہ مسلمان اور انہی مسلمانوں میں ایک شریف مکہ تھا جس نے ترکی حکومت کے خلاف انگریزوں کے ساتھ مل کر سازش کی اورترکی حکومت کی گرفت عرب سرزمین سے ختم ہوئی اور حکومت بدو ؤں کو مل گئی،جو بعد میں فرماروائے المملکت العربییہ والسعودیہ کہلائے یہ جو خادمین حرمین شریفین کی کہانی ہے وہ ابھی کی ہے کسی نے مشورہ دیا یہ نام رکھ لو تو لوگ خوش بھی ہو جائینگے اورحج اور عمرے پر بھی زیادہ آئینگے،سلطنت عثمانیہ تھی تو ٹوٹی پھوٹی اُمہ بھی تھی سلطنت عثمانیہ بکھری اور nationalism آیا تو اس ٹوٹی پھوٹی اُمہ کو کھا گیا 54 چھوٹی موٹی نئی ریاستیں معرضِ وجود میں آ گئیں، اور ان کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوئی کسی کو اُمہ یاد نہ رہی، پاکستانی سیاست میں کبھی کبھی نا بالغ صحافی اُس اُمہ کا زکر کرتے ہیںحالانکہ بہت پہلے اس کو امتِ مرحوم کہا جا چکا،پھر عرب ریاستوں میں تیل نکل آیا اور پیسے کی ریل پیل ہو گئی، کمپنیاں برطانیہ، امریکہ، اٹلی اور فرانس سے آئیں اور دنیا کو دبئی،شارجہ،ریاض،جدہ، امارات ،بحرین اور کویت مل گئے۔سب اسلامی بادشاتیں ،سب اسرائیل کے دیوانے، سب امریکہ کے عاشق،سب کے پیٹرو ڈالرز امریکی بانڈز مارکیٹ میں،کاہے کا اسلام اور کہاں کا اسلام،ہاں ایران کی مخالفت میں پیش پیش،سب نے proxiesبنائی ہوئی سب مسلم ممالک میں ہی برسرِ پیکار،محمد بن سلمان سعودیہ کے ولی عہد بنے تو سعودیہ کو بہت زیادہ modernise کردیا،اب ان ریاستوں میں اسلام نماز، روزہ،حج اور عمرے کا نام رہ گیا ہے یا سال میں ایک بار مسلمانوں کا ایمان تازہ کرنے کے لئے خانہء کعبہ کو غسل دیا جاتا ہے،یا غلافِ کعبہ تبدیل کر دیا جاتا ہے اس کی ویڈیوز بنتی ہیں اور سب مسلمان سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے ہیں ،ان عرب ریاستوں میں ڈالرز کی ریل پیل ہے مگر کسی ملک کی اپنی فوج نہیں سب ریاستوں نے امریکہ سے دفاع خرید رکھا ہے بڑے بڑے امریکی اڈے ہیں امریکہ سے اسلحہ اور ہوائی جہاز خریدے جاتے ہیں،یہ اسلحہ اور ہوائی جہاز امریکی استعمال کرتے ہیں،عربوں کو ہوئی جہاز اڑانے نہیں آتے،حالیہ ایران امریکہ جنگ میں امریکی دفاع ان عرب ریاستوں کے کام نہیں آیا، امریکہ کو بھی زبردست نقصان اٹھانا پڑا اور بہت سے امریکی فوجی بھی مارے گئے،ایران نے اسرائیل کے ہوش ٹھکانے لگادئیے،مگر بات یہ ہے کہ امریکہ کو کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا جو نقصان ہوا امریکہ وہ نقصان ان خلیجی ریاستوں سے ہی پورا کر لے گاجن امریکی اڈوں کو نقصان پہنچا ہے ان کی تعمیر نو یعنی construction بھی امریکی کمپنیاں ہی کرینگی اور اس کا خرچ ان عرب ریاستوں کو اٹھانا ہوگا گویا یہ خلیجی ریاستیں امریکہ کے لئے سونے کی کانیں ہیں اور امریکہ چاہے ان ریاستوں کا دفاع کر سکے یا نا کر سکے پیٹرو ڈالرز عرب ریاستیں ہی خرچ کرینگی، یہ مسلمان عرب جنہوں نے اپنے عجمی سائنس دانوں کے منہ پر کبھی تھوکا تھااتنی بھی عقل نہیں رکھتے ہیں کہ کوئی ان پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور اس بات پر بھی غور نہیں کیا کہ امریکہ کسی حملے کی صورت میں ان کا دفاع نہ کر پائے گا،ان کے دماغ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ ہم سائیگی ہی نیچرل دفاع فراہم کرتی ہے مگرعربوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی جب ایران امریکہ جنگ ہوئی تو بہت سے بت ٹوٹ گئے سب سے پہلا بت یہ ٹوٹا کہ امریکہ سپر پاور ہے بہت بڑی فوج ہے اس کی ،دنیا کاکوئی ملک اس کا سامنا نہیں کر سکتا،یہ بت ٹوٹا،امریکہ کو جنگ میں ہزیمت اٹھانا پڑی جب کہ اسرائیل بھی اس کے ساتھ تھا،ہر قسم کا حربہ استعمال کیا گیا مگر ایران مسلسل جواب دیتا رہا،امریکہ کو ثالثی قبول کرنا ُری،ثالثی کرانے والے ملک بہت چھوٹے اور کمزور ملک تھے،ثالثی کو قبول کرنا ہی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے،اس دوران ایران نے اکثر خلیجی ممالک جہاں جہاں امریکی اڈے تھے ان کو تباہ کر دیا اور دنیا حیران رہ گئی،اس وقت خلیجی ممالک کو احساس ہوا کہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی امریکہ ان کی مدد کو نہ آسکا،اور عشروں سے کی گئی investment بیکار گئی،نہ اسلحہ کام آیا اور نہ جنگی جہاز،سعودیہ کو بحالت مجبوری ترکیہ اور پاکستان سے مکہ معاہدہ کرناپڑا،یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا تھا ،یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے کئے اور باب المندب بند کی تو سعودیہ کو احساس ہوا کہ مکہ معاہدہ بھی کافی نہیں،حوثیوں کے حملے بڑھ گئے تو سعودی شہر ان کی زد میں آنے لگے تب محمد بن سلمان کبھی اسرائیل کی طرف بھاگا کبھی امریکہ سے کہا کہ حوثیوں پر حملے کرو،اسرائیل بھی مدد کو نہ آیا نہ امریکہ نے حوثیوں پر حملے کئے،حوثیوں کا امریکہ سے معاہدہ طے پا گیا کہ حوثی امریکی جہازوں پر حملے نہیں کرینگے اور امریکہ حوثیوں پر بمباری نہیں کرے گا،سعودی شہر جب میزائیل کی زد میں آئے تو محمد بن سلمان کے پاس کوئی اور راستہ نہیںتھا اور اس وقت پاکستان، ترکیہ،سعودی عرب اور ایران تہران میں بیٹھے ہیںاور اس بات پر سوچ رہے ہیں کہ ایران سے یہ عہد کیسے لیا جائے کہ ایران سعودیہ کو نشانہ نہیں بنائے گا اور ایران اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے حوثیوں کو بھی سعودیہ پر حملے کرنے سے روکے گا ،تہران میں ان چار ممالک کے اجلاس سے پہلے قطر نے ذہانت کا مظاہرہ کرتےہوئے ترکیہ پاکستان سے سے تکنکی معاہدہ کرلیا جس کو بھی اگرچہ دفاعی معاہدہ کہا جا رہا ہے مگر یہ اسلحہ بنانے اور ٹیکنالوجی شیئر کرنے کامعاہدہ ہے،سوال یہی ہے کہ عربوں کو مار کھانے کے بعد یہ سمجھ کیوں آئی یہ بات تو 1967میں ہی سمجھ آجانی چاہیئے تھے جب اسرائیل نے تمام عرب ممالک کو ناکوں چنے چبوائے تھے،مگر عرب یہی سمجھتے رہے کہ نقصان تو شام اور اردن کا ہوا ہے تو ہونے دو ،شکست کے باوجود وہ بہت محفوظ ہیں اور کل تک کچھ عرب ریاستیں ابراہام معاہدےAbraham Accord میں شامل ہو گئے جس میں سب سے زیادہ پر جوش امارات تھا سعودیہ بھی Abraham Accordکا حصہ بن جاتا اگر حماس اسرائیل پر حملہ نہ کرتے،یہ حملہ بھی اسرائیل کے لئے ایکblessingہی ثابت ہوا اس کو غزہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا موقع مل گیااور اردن کے مغربی حصے پر بھی قابض ہوگیا،اسی سالوں میں عربوں کو سیاست کرنا نہیں آئی اور نہ ہی وہ ہوا کے رخ کو سمجھ سکے،تہران میں پاکستان، ترکیہ،سعودی عرب اور ایران کی بیٹھک کے مثبت نتایج نکلنے کی امید ہے اور اس سے بڑی امید یہ کہ خلیجی ممالک اب امریکہ کے سحر سے باہر آئیں گیاور وقت کے تقاضوں کو سمجھیں گے ۔اگر ایسا ہوا تو خطے کی سیاست بدل جائے گی،اور امن کو ایک موقع مل جائیگا،باہمی تعاون بڑھے گا خطے میں ایک نئی صبح طلوع ہوگی ۔






