پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء

صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا تھا، کہ فوج کبھی مارشل لاء نہیں لگاتی۔اسے سیاستدان بلاتے ہیں تو وہ آتے ہیں اور مارشل لاء لگاتے ہیں ۔زیادہ درست ہو گا کہ جب امریکہ چاہتا ہے تو مارشل لاء لگایا جاتا ہے۔پاکستان میں آخر کار فوجی جنرلز نے وہ حالات پیدا کر دیئے ہیں جن میں ماشل لاء لگائے بغیر اقتدار ان کے پاس چلا گیا ہے۔یہ غالباً ان کے اپنے دماغ کا کارن نہیں ہے، اس میں ان لوگوں کا مشورہ شامل ہے جو پاکستان کے دشمنوں میں گنے جاتے ہیں۔ امریکی صدر کو جو لوگ انگلیوں پر نچاتے ہیں، وہی امریکہ کے ڈپارٹمنٹ خارجہ کے ان شعبوں میں بیٹھے ہیں جو ایشیا میں امریکی حکمت عملی کی باگ دوڑ لیے بیٹھے ہیں۔اور پاکستان کو انکی ہدایت پر چلنا باعث فخر محسوس ہوتا ہے۔صاحب دانش حضرا ت جانتے ہیں، کہ جب ہمارے سب سے بڑے جنرل امریکی صدر سے ملے اور دو۔تین گھنٹے بات چیت کی تو صدر صاحب نے ان کو کیا کچھ سمجھایاتھا۔ ان میں کچھ چیدہ چیدہ باتیں تھیں۔ مثلاً عمران خان کو کبھی نہیں چھوڑنا یا کسی ایسی پوزیشن میں ڈالنا کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن سکے۔ اگر ان کو جان سے بھی مارنا پڑے تو امریکہ فوج کو کچھ نہیں کہے گا۔دوسرا پیغام یہ تھا کہ عزرائیل غزہ پر بمباری کرنے والا ہے تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی فوج ان کی ہمدردی میں فلسطینیوں کی مدد کرنے جائے، یا اپنی فضائی طاقت سے یا میزائیل سے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایک دکھاوے کی لڑائی بھارت اور پاکستان کے درمیان ہو جائے۔ جس سے پاکستان کی توجہ بٹ جائے گی۔یہ لڑائی تین دن تک چلی اور پھر ٹرمپ کی ہدایت پر بند کروا دی گئی۔اس لڑائی میں پاکستانی فضائیہ کو ہدایت تھی کہ وہ سچ مچ کے حملے بھارتی جہازوں پر نہیں کریں گے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ چین کو اس نورا کشتی کا پتہ نہیں تھا۔ اس نے پاکستانی ہوا بازوں کواعلیٰ ترین ٹیکنیکل کمک پہنچائی جس سے پاکستانی ہوا بازوں نے ہندوستان کے چھ سات قیمتی طیارے مار گرائے۔نریندر مودی بہت جز بز ہوئے لیکن چونکہ وہ بھی اس سازش کا حصہ تھے، انہیں خاموشی سے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔شہباز شریف نے ٹرمپ سے کریڈٹ لیا کہ اگر وہ جنگ نہ رکواتے تو دونوں ملکوں کے درمیاں ایٹمی جنگ ہو سکتی تھی جس میں کڑوڑوں مارے جاتے۔ یہ بالکل بکواس تھی لیکن ٹرمپ اس بات کو بڑے فخر سے بتاتا ہے اور دوہراتا رہتا ہےیہ اس قسم کے خوفناک ڈرامے کروانے کے ماہر ہو گئے ہیں۔ہمارا شبہ ہے کہ پاکستانی آئی ایس آئی کے افسران عزرائیل میں اس قسم کی کاروائیوں پر تربیت بھی لے آئے ہیں۔کیونکہ9مئی کا ڈرامہ اسی نہج پر رچایا گیا، جسے تحریک انصاف کے گلے منڈھا گیا۔اس ڈرامہ پر قابل مبصرین کے سوالات تھے جنکا جواب کبھی نہیں دیا گیا، جیسے کہ جس عمارت کو قائد اعظم کا گھر کہا جاتا ہے اور جو لاہور ڈویزن کے کمانڈر کی رہائش گاہ تھی ، وہاں کوئی فوجی گارڈنہیں تھے۔ اور نہ پولیس۔ کیوں؟ اور اس عمارت میں توڑ پھوڑ شرع کی جا چکی تھی پیشتر اس کے مظاہرین وہاں پہنچتے۔ پھر جب مظاہرین پہنچے تو ان کو کچھ لوگوں نے اندر آنے کی ترغیب دی جو اپنے حلئیے سے سادہ لباس میں فوجی تھے۔اور تحریک انصاف کی خاتون قائد ڈاکٹر یاسمین راشدجو ایک منی وین کی چھت پر بیٹھی مظاہرین کو روک رہی تھیں کہ وہ اس کمانڈر کی کوٹھی میں نہ جائیں، ان کو صرف اس بات پر گرفتار کیا گیا کہ وہ اس وقت وہاں موجود تھیں۔ فوج ، جس نے سارا ڈرامہ تحریک کو بد نام کرنے اور اس کے کارکنوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنے کے لیے رچایا تھا، اس سارے واقعہ پر جوڈیشیل کمیشن بٹھانے سے گریز کیا۔کیونکہ کمیشن میں سارا بھانڈا پھوٹ جاتا۔سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کی حکومت اور نواز شریف کیوں اس ڈرامہ کے خاموش تماشائی بنے رہے؟ اس کی پہلی وجہ تو ظاہر ہے کہ وہ جعلی منتخب حکومت کے وزیر تھے۔ اگر وہ فوج کے ساتھ تعاون نہ کریں تو ان کی حکومت جھاگ کی طرح بیٹھ سکتی ہے۔دوسری وجہ تحریک انصاف ان کے لیے ایک نا قابل تسخیر سیاسی جماعت بن چکی تھی۔ اور فوج کو اس جماعت کے ختم کرنے کا حکم ساور ہوچکا تھا۔اس طرح، پاکستان کی حکومت مکملاًفوج کی تابعدار بن چکی تھی۔کیا حکومت کی یہ حرکت قانون اور آئین کے مطابق تھی؟ظاہر ہے کہ نہیں۔فوجی ڈرامہ ہوا لیکن اس میںمنصوبہ بندی کی کئی خامیاںتھیں
، جن سے سارا راز فاش ہو گیا۔ لیکن جنگل کا قانون ہے، اس میں انصاف کا ترازو تو جھکا ہی رہتا ہے۔بھلا ہم کون ہیں فوجی حکمرانوں سے سوال جواب کرنے والے؟اب کی بات کی جائے۔ پاکستان کی فوج کو حکم ملا کہ کے پی میں حالات تحریک انصاف کے حق میں ہونے والے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ وہاں گورنر راج لگا دیا جائے اور ایمر جنسی بھی لگا دی جائے۔ لیکن سب جانتے تھے کہ نہ حالات اتنے خراب تھے اور نہ ایمر جنسی کی ضرورت تھی۔ صوبہ میں سیاسی سر گرمیاں ضرور ہو رہی تھیں لیکن مکملاًپُرامن۔اگر فوج کو کچھ کرنا تھا تو وہ معدنیات نکالنی تھیں جن کا سودا امریکنوں سے ہو چکا تھا۔ معدنیات کی آمدنی پاکستان کے خزانہ میں جاتی ہے یا فوج کے خزانے میں؟ یہ سوال ہے کسی کو پوچھنے کی ہمت؟ اب تو فوج براہ راست سودے کرتی ہے۔ اس کے اپنے ادارے ہیں جو ان سودوں پر دستخط کرتے ہیں۔پہلے سیاستدان ملک کے وسائل پر قابض تھے اور اب ہماری اپنی پیاری فوج۔ سیدھی سی بات ہے کہ جب فوج خوشحال ہو گی تو ملک خوشحال ہو گا۔عوام تو شروع ہی سے بدحالی کا شکار ہیں۔ انہیں دو وقت کی روٹی مل جائے، یہی کافی ہے۔
اب لوگ سوال کرتے ہیں کہ فوج کیوں صوبوں کو توڑ کر بہت سارے چھوٹے چھوٹے صوبے بنانا چاہتی ہے۔بات تو ٹھیک ہے کہ ہمارے صوبے آبادی کے لحاظ سے بہت بے ڈھب ہیں۔آبادی کے لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے۔ 2023ء کی مردم شماری میں پنجاب کی کل آبادی 7.127 ملین تھی یعنی تقریباً 14کروڑ۔ پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً 53فیصد۔ اس کے بعد سندھ جس کی آبادی 55 7. ملین۔ جو پاکستان کی کل آبادی کا 23 فیصد۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے خیبر پختون خواہ کا۔اس کی آبادی تھی تقریباً 41 ملین، اور کل پا کستان کی تقریباً17فیصد۔آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے بلوچستان جہاں کی کل آبادی تقریباً 15 ملین تھی۔جو کل ا ٓبادی
کا 6.17 فیصد بنتی تھی۔دارلحکومت کی کل آبادی تقریباً 2.4 ملین تھی جو کل پاکستان کی آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم بنتی تھی۔اب پاکستان کے چار صوبے ہیں توتناسب کے لحاظ سے اگر اندازاً ہر صوبہ ایک کروڑ کی آبادی کا ہو تو کل 24صوبے تو بن ہی جاتے ہیں۔ پنجاب کے 13صوبے، سندھ کے 6-5 صوبے۔ کے پی کے کے 4صوبے اور بلو چستان کے4-5 صوبے۔یہ صرف حساب کا سوال نہیں کہ کاغذ پر صوبے بن جائیں گے۔مسئلہ ہو گا اخراجات کا۔اس وقت پاکستان کے 169اضلاع ہیں۔لیکن جب 24صوبے بنیں گے تو ان کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے پر جو اخراجات آئیں گے وہ پاکستان کے بجٹ سے ادا نہیں کیے جا سکیں گے۔ صوبے کے عوام پر لازماً اضافی بوجھ پڑے گا جو قومی خزانہ سے ادا نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ انفرا سٹرکچر پر جو رقوم درکار ہوں گی، وہ بھی قومی خزانہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ سرکاری افسروں کی ایک فوج ظفر موج جو انتظامیہ کو چلانے کے لیے چاہیئے ہو گی، وہ ہی صوبائی حکومت نہیں لا سکے گی۔اگر ملک میں ایک فعال اور کام کرنے والا مقامی حکومتی نظام ہو تو صوبے خواہ کتنے بھی بڑے ہوں اس سے اتنا فرق نہیں پڑتا۔ لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ کرپشن کا اتنا وسیع اور موثر نظام قائم ہے کہ مقامی حکومتوں کو فعال نہیں ہونے دیا جاتا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک علاقے کے عوام کو اپنے مسائل حل کرنے میں ذمہ وار نہیں بنایا جائے گا، نہ تو جمہوریت ہی کامیاب ہو گی اور نہ مسائل کبھی حل ہو ں گے۔
ایک چھوٹی سی مثال لیں۔ شہروں میں اکثر چھوٹے بچے نالوں کے ڈھکن چوری ہونے کی وجہ سے ان میں گر جاتے ہیں اورمر جاتے ہیں۔یہ نہ ہو اگر علاقے کے عوام اپنی ذمہ واری پوری کر رہے ہوں۔اسی طرح آوارہ کتے جن کے کاٹے سے کئی اموات ہوتی ہیں،وہ بھی نہ ہوں۔( سنا گیا ہے کہ بلاول کی پھوپو کا حکم ہے کہ کتے مارے نہ جائیں۔ یہ غالباً بلاول کوبچانے کی بھونڈی کوشش ہے) ابتدائی تعلیم کے مدرسوں کے اساتذہ سکول سے غائب ہوتے ہیں اور ان کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ بھی مقامی آبادی کے لیے ایسا کوئی فورم نہیں ہوتا جہاں لوگ اس قسم کی حرکات پر حکام کی توجہ دلا سکیں۔پھر چھوٹے موٹے ندی نالوں پر پل بنانا، بارش کے پانی کا موثر نظام بنانا، وغیرہ بھی مقامی حکومتوں کی ذمہ واری ہوا کرتی تھی۔جو اب نہیں ہے۔ہمیں شبہ ہے کہ ہماری پیاری فوج کو جو ضرورت آن پڑی ہے وہ ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ واریاں پورا کرنے میںناکام ہو چکی ہیں۔اول تو وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتیں جن میں انکو اوپر کی آمدن نہ ہو۔اب ہزاروں کام ایسے ہیں جو ان کو کرنا چاہئیںمگر ان میں رشوت کی آمدنی کا کوئی امکان نہیں ہے۔جیسے سڑکوں پر مین ہول کے ڈھکنے لگوانا اور ان کی چوری کا سد باب کرنا۔ہمارے قصبوں اور شہروں کا ایک اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ بارش کے پانی کا نکاس صحیح نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ جن نالوں کو اس کام کے لیے بنایا گیا تھا لوگ اس میں کچرا ڈال ڈال کر بند کردیتے ہیں ۔ اور بارش کا پانی سڑکوں، بازاروں اورگلیوں میں اکٹھا ہو جاتا ہے جس سے شہریوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔لیکن اس کام کو ٹھیک کرنے میںکوئی رشوت کی آمدنی نہیں ہوتی، اس لیے اس پر پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ہماری پیاری فوج کا خیال ہے کہ اگر ہر صوبہ پر ایک جنرل گورنر بنا دیا جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ شاید۔ لیکن فوج کو سیاست میں جانے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ آئین اس کو اس کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی یہ فوج کا کام ہے۔۔ فوج کو یہ خیال ہو سکتا ہے کہ کہ اگر چھوٹے چھوٹے صوبے بنا دیے جائیں تو کتنے ہی ریٹائرڈ جنرل ان پر لگائے جا سکتے ہیں۔ اور جہاں ضرورت ہو وہاں گورنر راج لگا کر پورا انتظام ہی فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ کے پی کے میںگورنر راج اور ایمر جنسی لگانے کااصل مدعا اس فارمو لے کو چیک کرنا ہی ہو؟ اگر تو فوج نے کے پی کے اس کام کے لیے چنا ہے تو بڑا غلط چنا ہے۔اگر گورنر راج اور ایمر جنسی ہی لگانی تھی تو بلوچستان چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یہاں لگائو۔ تو کوئی بات بھی بنتی۔ لیکن بلوچستان کو ٹھیک کرنا ہماری فوج کے ایجنڈے میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ بیرونی آقا صرف عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف ہیں۔ انہیں بلوچستان میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہاں جتنے بھی حالات خراب ہوں، وہ خوش ہیں۔ کیونکہ جب تک حالات خراب ہوں گے ،پاکستان کو اتنی بڑی فوج کی ضرورت رہے گی۔جب سے سپہ سالار کی ٹرمپ سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اور انہوں ان کی تعریف کی ہے وہ اپنے آپ کو ٹرمپ کا پٹھا سمجھ رہے ہیں اور اس کی ہر جائز اور ناجائز خواہش کو بجا لانا اپنا فرض سمجھ رہے ہیں۔ ان کو غالباً اس بات کا اندازہ نہیں کہ ٹرمپ ایک کاروباری آدمی ہے اور وہ کام نکل جانے پر استعمال شدہ ٹشو کی طرح آپ کو نکال پھینک بھی دے گا۔اس لیے اس کے لیے اتنے ریشہ ختمی نہ ہوں تو بہتر ہو گا۔






