Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

پاکستان کی اعلیٰ سطحی امن سفارت کاری فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور محسن نقوی کا کردار

تحریر آصف اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں علاقائی جنگوں کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت توانائی کی منڈیوں بین الاقوامی تجارت اور عام آدمی کی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو لاحق خطرات نے عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے سنگین چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی امن سفارت کاری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سفارتی سرگرمیاں خصوصی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، مسلم دنیا میں اس کا مقام اور علاقائی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات اسے مذاکرات اور مفاہمت کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات، ترکیہ کے ساتھ قریبی تعاون اور امریکہ سمیت عالمی طاقتوں سے سفارتی روابط پاکستان کے لیے ایک متوازن خارجہ پالیسی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علاقائی کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششیں نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی اہم ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور محسن نقوی کے دورۂ ایران اور ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو اسی وسیع تر سفارتی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد علاقائی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال، کشیدگی کم کرنے کے امکانات تلاش کرنا اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں سے وابستہ ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دفاعی اور تزویراتی سطح پر رابطہ کاری جبکہ محسن نقوی کی حکومتی سطح پر شرکت پاکستان کی سفارتی کوششوں کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہےتاہم کسی بھی سفارتی عمل کی کامیابی کا فیصلہ صرف ملاقاتوں، بیانات یا اعلیٰ سطحی دوروں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ ان رابطوں سے کشیدگی میں کتنی کمی آتی ہے مذاکرات کا سلسلہ کس حد تک آگے بڑھتا ہے اور کیا متعلقہ فریق ایسے قابلِ عمل اقدامات پر متفق ہوتے ہیں جو جنگ کے خطرات کم کرنے میں مدد دیں اگر پاکستان کی کوششیں اعتماد سازی اور مذاکرات کے تسلسل میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں تو یہ ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہو سکتی ہے اس پورے بحران کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز کی صورتِ حال ہے یہ بحری گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کے وسائل کی ترسیل کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے یہاں بحری آمدورفت میں رکاوٹ یا جہازوں کو لاحق خطرات عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں، بحری بیمے، جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے توانائی کی عالمی رسد میں کسی بڑی رکاوٹ کے اثرات ان ممالک پر زیادہ شدت سے مرتب ہوتے ہیں جو اپنی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست معاشی دباؤ پیدا کر سکتا ہے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں صرف گاڑیوں کے ایندھن کا معاملہ نہیں بلکہ زراعت، صنعت، مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل سے گہرا تعلق رکھتی ہیں جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو کاروباری اخراجات بڑھتے ہیں، سامان کی نقل و حمل مہنگی پڑتی ہے اور اس کے اثرات بازاروں میں اشیا کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں یہی وہ حقیقت ہے جو امن سفارت کاری کو عام شہری کی زندگی سے جوڑتی ہے۔ عالمی سطح پر جنگ اور کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشی دباؤ بالآخر گھر کے بجٹ کاروبار کے منافع اور روزگار کے مواقع پر اثرانداز ہوتا ہے۔ پاکستان میں پہلے سے معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے کم آمدنی کے طبقات کے لیے پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے خطے میں امن کا قیام پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا ہدف نہیں بلکہ ایک اہم معاشی ضرورت بھی ہے البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی تمام وجوہات عالمی تیل کی قیمتوں یا آبنائے ہرمز کی صورتِ حال تک محدود نہیں شرحِ مبادلہ، ٹیکسوں، توانائی کے نرخوں، مقامی پیداوار، رسد اور حکومتی معاشی پالیسیوں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ اس لیے سفارتی کامیابی کو پٹرول کی قیمتوں میں فوری کمی یا افراطِ زر کے خاتمے کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، اگر عالمی کشیدگی کم ہوتی ہے، توانائی کی ترسیل معمول پر آتی ہے اور تجارتی راستے محفوظ بنتے ہیں تو پاکستان کے لیے بیرونی معاشی دباؤ میں کمی کے امکانات ضرور پیدا ہو سکتے ہیں کاروباری شعبہ بھی اس صورتِ حال سے الگ نہیں عالمی سطح پر غیر یقینی حالات صنعت کاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ کے اخراجات، درآمدی سامان کی ترسیل میں تاخیر اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ان مشکلات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرنے کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔ اگر یہی صورتِ حال طویل ہو جائے تو سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑنے اور روزگار کے نئے مواقع محدود ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے اس تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امن مذاکرات کے لیے کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ان کی سفارتی سرگرمیاں متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے، کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں تو اس سے عالمی تجارت اور توانائی کی رسد کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے اس کے مثبت اثرات پاکستان کی درآمدی ضروریات، کاروباری اعتماد اور معاشی استحکام پر بھی مرتب ہونے کے امکانات رکھیں گے پاکستان کو اس موقع پر اپنی سفارتی کوششوں کے ساتھ داخلی معاشی حکمتِ عملی کو بھی مضبوط بنانا ہوگا وفاقی حکومت، وزارتِ خارجہ وزارتِ خزانہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ عالمی بحران کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا برآمدات میں اضافہ، درآمدی اخراجات کا بہتر انتظام، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور کم آمدنی والے طبقات کو معاشی تحفظ فراہم کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے اسی طرح پارلیمان اور سیاسی قیادت کو بھی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارانہ مکالمے اور قومی اتفاقِ رائے کو فروغ دینا چاہیے۔ پاکستان کی سفارتی ساکھ اسی وقت مستحکم ہو سکتی ہے جب بیرونی سطح پر مذاکرات اور مفاہمت کی کوششوں کو اندرونِ ملک پالیسیوں کے تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور معاشی اصلاحات کی حمایت حاصل ہوامریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات پیچیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے وقت اعتماد اور مسلسل مذاکرات درکار ہوں گے پاکستان کسی بھی تنازع کا فیصلہ تنہا نہیں کر سکتا، لیکن وہ رابطہ کاری، اعتماد سازی اور مکالمے کے فروغ میں معاون کردار ادا کر سکتا ہے یہی متوازن سفارت کاری پاکستان کو علاقائی کشیدگی کے دوران ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور محسن نقوی کی سفارتی سرگرمیوں کی اصل کامیابی بھی اسی وقت سامنے آئے گی جب ان سے مذاکرات کو تسلسل ملے جنگ کے امکانات کم ہوں اور علاقائی تجارت و توانائی کی ترسیل کے تحفظ میں عملی پیش رفت ہو۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ سفارتی کوششوں کے ممکنہ ثمرات کو عوامی فلاح، معاشی استحکام اور کاروباری بہتری سے جوڑنے کے لیے مؤثر داخلی اقدامات کیے جائیں تاریخ کا فیصلہ محض ملاقاتوں اور بیانات سے نہیں بلکہ ان کے نتائج سے ہوتا ہے۔ جنگ کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں ادا نہیں کی جاتی اس کی ادائیگی مہنگے پٹرول بڑھتی ہوئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں متاثرہ کاروبار محدود ہوتی سرمایہ کاری اور عام آدمی کی مشکلات کی صورت میں بھی ہوتی ہے اس کے برعکس پائیدار امن تجارت روزگار سرمایہ کاری اور معاشی اعتماد کے لیے نئے امکانات پیدا کرتا ہے پاکستان کی اصل کامیابی یہی ہوگی کہ وہ اپنی سفارتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرے اور ساتھ ہی قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے کیونکہ جنگ وقتی برتری دے سکتی ہے، لیکن امن قوموں کو استحکام ترقی اور خوش حالی کی راہ دکھاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button