پنجاب میں کاروباری آسانیوں کے لیے اصلاحات، 70 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم، مریم نواز شریف سے وفاقی اصلاحاتی کمیٹی کی ملاقات

لاہور ( آصف اقبال ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی سربراہی میں خصوصی وفاقی کمیٹی نے ملاقات کی، جس میں کاروباری آسانیوں، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر احسان افضل خان بھی ملاقات میں شریک تھے۔
وفاقی اصلاحاتی کمیٹی نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتوں کی ترقی اور کاروباری افراد کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اقدامات کو سراہا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پنجاب میں صنعت اور کاروبار کے فروغ کے لیے متاثر کن اقدامات کیے گئے ہیں اور کاروباری آسانیوں کے لیے وفاقی کمیٹی جو سفارشات لے کر آئی ہے، پنجاب پہلے ہی ان میں سے متعدد اقدامات پر عمل درآمد کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعت کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے نمایاں محنت کی گئی ہے۔ صوبے کے مختلف منصوبوں میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور ان کی ٹیم کی کاوشیں نظر آتی ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ صنعتی ترقی تیز رفتار معاشی نمو کا بنیادی راستہ ہے، جبکہ روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مقامی صنعتوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو کاروباری آسانیوں کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے شعبے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ہنرمندی کی ترقی کے نظام کو ایک ہی چھت تلے جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے اور مختلف شعبوں کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت کے پروگرام متعارف کرانے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروباری افراد کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے، صنعتوں کو فروغ ملے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوششوں اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی کاوشوں پر مکمل اعتماد ہے۔ پنجاب میں نئے ٹیکس عائد کیے بغیر ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور واجبات کی وصولی بہتر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب کی کلسٹر میپنگ مکمل کر لی گئی ہے اور اس کے تحت کاٹیج انڈسٹری کے فروغ کے لیے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ آسان کاروبار فنانس سکیم کے ذریعے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے اور خود روزگار کی جانب راغب کیا جا رہا ہے، جبکہ لائیوسٹاک کے شعبے کو فروغ دے کر گوشت کی برآمدات بڑھانے کی پالیسی پر بھی عمل جاری ہے۔
اجلاس میں پنجاب میں کاروباری سہولتوں کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق آسان کاروبار فنانس سکیم کے تحت 70 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک لاکھ 12 ہزار کاروباروں کو آسان کاروبار سکیم کے ذریعے مالی معاونت دی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کا ’’ای بز‘‘ نظام سنگل ونڈو اور ون پورٹل کی سہولت فراہم کر رہا ہے، جس کے ذریعے 28 محکموں کی 437 خدمات دستیاب ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر 210,031 درخواستوں پر کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ طویل اور پیچیدہ دستاویزی تقاضوں کو کم کرکے چند ضروری دستاویزات تک محدود کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ’’مریم کی دستک‘‘ پروگرام کے ذریعے شہریوں کو اب تک 45 لاکھ ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جا چکی ہیں، جس سے سرکاری خدمات تک رسائی آسان بنانے اور شہریوں کے وقت و اخراجات کی بچت میں مدد مل رہی ہے۔
ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنا کر کاروباری ضوابط آسان، ڈیجیٹل خدمات وسیع اور صنعتی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا، تاکہ پنجاب میں معاشی سرگرمیوں، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔








