پنجاب میں کاروباری آسانیوں، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے جامع اصلاحات جاری ہیں، مریم اورنگزیب

لاہور ( آصف اقبال ) سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں کاروباری آسانیوں، سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے کے لیے جامع اصلاحات جاری ہیں، جن کا مقصد کاروباری ماحول کو سازگار، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر ہارون اختر خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کاروبار دوست پالیسیوں اور معاشی استحکام کو ترجیح دیتی ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران پنجاب میں کاروباری طریقہ کار کو آسان بنانے، سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل کرنے اور غیر ضروری دستاویزات و پیچیدہ مراحل ختم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ کاروباری افراد کو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر نہ لگانے پڑیں اور ان کے وقت اور اخراجات کی بچت ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے استحصال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کاروباری درخواستوں، ریگولیٹری تقاضوں اور تعمیلی کارروائیوں کو آسان اور شفاف بنایا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک مربوط ون ونڈو کاروباری نظام متعارف کرانے کے لیے بھی کام کر رہی ہیں، جس کے تحت کاروباری افراد کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مختلف خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔
مریم اورنگزیب کے مطابق صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے صنعتی اراضی کی لیز، کمرشلائزیشن اور دیگر کاروباری ضوابط میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ صنعتی زمین کی لیز کے لیے آسان اور طویل مدتی شرائط فراہم کرنے کا مقصد نئی صنعتوں کے قیام، موجودہ صنعتی سرگرمیوں میں توسیع اور معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مجوزہ ہائی گروتھ پروگرام میں صنعتوں کو درپیش بنیادی مسائل، بالخصوص مالی وسائل تک رسائی، توانائی کی لاگت، ہنرمند افرادی قوت، جدید ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جا رہی ہے۔ صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق فنی تربیت دینا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مہارتوں اور سرٹیفکیشن کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو کم لاگت افرادی قوت پر انحصار کرنے والے معاشی ماڈل سے آگے بڑھ کر ہنرمند، زیادہ پیداواری اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس افرادی قوت کی جانب بڑھنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے نوجوانوں میں کاروباری سرگرمیوں، نئے کاروبار کے قیام اور چھوٹے کاروباری اداروں کی معاونت کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ صنعتی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے تحت مریم کی دستک پروگرام کے ذریعے سینکڑوں عوامی خدمات کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام سے سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت کم، وقت اور اخراجات کی بچت اور خدمات کی فراہمی میں شفافیت کو فروغ مل رہا ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بننے والے غیر ضروری ضوابط اور وفاقی و صوبائی سطح پر کام کی تکرار ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ کمپنی قانون میں تقریباً 170 ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جن کا مقصد کاروبار شروع کرنے اور اسے چلانے کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ نظام کے تحت کاروباری افراد ایک ہی ڈیجیٹل پورٹل پر درخواستیں جمع کرا سکیں گے، جبکہ منظوری کے عمل کو شفاف، تیز رفتار اور براہ راست انسانی مداخلت سے حتی الامکان آزاد بنانے کی سمت کام جاری ہے۔ ضروری اور جائز ضوابط برقرار رکھتے ہوئے غیر ضروری پابندیوں کا خاتمہ صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں مدد دے گا۔
ہارون اختر خان نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ون ونڈو نظام کو سرمایہ کاری کے لیے سہولت بخش قرار دیتے ہوئے برآمدکنندگان کے لیے 500 ارب روپے مختص کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی نجی شعبے کی سرمایہ کاری، صنعتوں کے قیام اور کاروبار کے لیے محفوظ و سازگار ماحول کی فراہمی سے وابستہ ہے۔
مریم اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب حکومت کاروباری آسانیوں، ڈیجیٹل گورننس، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد کاروباری لاگت کم کرنا، غیر ضروری ضوابط ختم کرنا، برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور نوجوانوں کے لیے روزگار و معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔








